القاعدہ اور طالبان کیخلاف جنگ میں پیشرفت ہو رہی ہے تاہم مزید اقدامات نہ کئے گئے تو کامیابیاں ناکامیوں میں بدل سکتی ہیں
پاک امریکہ تعلقات خاصی اہمیت رکھتے ہیں، پاکستان کو القاعدہ اور طالبان کے ٹھکانے ختم کرنے پر قائل نہیں کیا جا سکا، رپورٹ میں انکشاف
واشنگٹن (مانیٹرنگ سیل) امریکی صدر باراک اوباما نے پاکستان اور افغانستان کے لئے حکمت عملی کی جائزہ رپورٹ جاری کر رہی رپورٹ کے مطابق القاعدہ کے محفوظ ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لئے پاک امریکہ تعلقات اگرچہ اہم رہے لیکن ناہمواری کی صورتحال بھی رہی۔ 2001 ءکے مقابلے میں امریکہ کی سینئر قیادت اب زیادہ کمزور ہو چکی ہے اور زیادہ دباﺅ میں ہے رپورٹ میں انکشاف کہا گیا ہے کہ افغانستان میں اگرچہ طالبان کے خلاف امریکی فوج کی کارروائیاں اور کامیابیاں دیرپا نہیں لیکن اس کے باوجود امریکی فوج طے کردہ شیڈول کے مطابق ہی افغانستان سے باہر نکلے گی۔ افغانستان میں طالبان کے خلاف کامیابیاں کسی بھی وقت ختم ہوسکتی ہیں افغان جنگ سے متعلق نئی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان جنگ میں کامیابی کے لئے پاکستان بہت اہمیت رکھتا ہے القاعدہ اور طالبان کے خلاف جنگ میں پیش رفت ہو رہی ہے ۔ مزید اقدامات نہ کئے گئے تو کامیابیاں ناکامی میں تبدیل ہو سکتی ہیں افغان سرحد پر پاکستان کو مزید اقدامات کرنے ہوں گے پاکستان کے مغربی علاقے اب بھی القاعدہ کے محفوظ ٹھکانے ہیں امریکی جائزہ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ہلیری کلنٹن 2011 ءمیں پاک افغان وزرائے خارجہ بات چیت کی میزبانی کریں گے۔ القاعدہ اب بھی امریکہ کو نشانہ بنانے کی اہلیت رکھتی ہے القاعدہ کو شکست دینے کے لئے پاک امریکہ تعلقات خاصی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان سے فوجی کارروائیوں میں تعاون بڑھا تربیت میں بھی تعاون جاری ہے۔ پاکستان کے ساتھ وسیع پیمانے پر تعاون جاری رہے گا افغان جنگ کی بہت قیمت ادا کرنا پڑی۔ پاکستان کو القاعدہ اور طالبان کے ٹھکانے ختم کرنے پر قائل نہیں کیا جاسکا۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی