سیف العدل ایف بی آئی کو سب سے زیادہ مطلوب مفرور وں میں سے ایک ہے،اس پر2امریکی سفارتخانوں پر حملوں کا بھی الزام ہے
لاہور (عامر میر )پاک فوج کو شمالی وزیرستان میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی سے باز رکھنے کے لئے القاعدہ کی اعلیٰ قیادت نے سیف العدل کو وہاں بھیج دیا ہے وہ تنظیم کا فوجی سربراہ ہے ۔ پاکستانی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ذرائع کے مطابق سیف العدل جو ایف بی آئی کو سب سے زیادہ مطلوب مفرور وں میں سے ایک ہے کو ایمن الظواہری نے بھیجا ہے تاکہ وزیر ستان میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف القاعدہ کی فوجی طاقت کو تقویت دی جائے اور افغانستان میں اتحادی فوجوں پر حملے تیز کئے جا سکیں۔ سیف العدل کو ایران نے 9سال کی نظر بندی کے بعد اپنے سفارتکار حشمت اللہ عطارزادہ کے بدلے اکتوبر 2010ءمیں رہا کیا تھا ،مذکورہ سفارتکار کو 2008ءمیں پاکستان سے طالبان نے اغوا کیا تھا ۔ سیف العدل کی روانگی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یہ اطلاعات ہیں کہ پاکستانی حکام نے حقانی گروپ کے خلاف بھرپور فوجی آپریشن کے لئے اوباما انتظامیہ کو یقین دہانی کرا دی ہے۔ شمالی وزیرستان امریکہ دشمن عناصر کا مرکز بن چکا ہے اس کی سرحد افغان صوبے خوست کیساتھ ملتی ہے جو جلال الدین حقانی کا آبائی صوبہ ہے۔ امریکیوں نے 31دسمبر 2009 کو خوست میں سی آئی اے کے سات افسروں کی ہلاکت کے بعد سے حقانی نیٹ ورک کو نشانے پر لے رکھا ہے ۔ امریکہ نے حال ہی میں شمالی وزیرستان میں جلد آپریشن کے لئے اسلام آباد کو 2ارب ڈالر کی امداد دینے کا اعلان کیا ہے جب کہ پاکستانی طالبان نے کھلے خط کے ذریعے پاکستانی حکومت کے خلاف ختم نہ ہونے والی جنگ کی دھمکی دی ہے ۔سیف العدل کا تعلق مصر سے ہے اسے امریکی ایجنسیاں تجربہ کار منصوبہ ساز اور فیلڈ کمانڈر سمجھتی ہیںاس کا ذکر 9/11کے منصوبہ ساز خالد شیخ کے ساتھ کیا جاتا ہے اس پر افریقہ میں 2امریکی سفارتخانوں پر بم دھماکوں کا بھی الزام ہے وہ نائن الیون کے حملوں کے بعد اچانک منظر سے غائب ہو گیا بعد میں پتہ چلا کہ اسے متعدد القاعدہ لیڈروں اور ان کے خاندان کے ساتھ ایران میں حفاظتی تحویل میں رکھا گیا ہے یہ سب لوگ افغانستان پر امریکہ کے حملے کے بعد ایران چلے گئے تھے اور انھیں وہاں مزید سفر سے روک دیا گیا تھا ،اب سیف العدل کی واپسی سے امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں میں خطرے کی گھنٹیاں بج اٹھی ہیںکیونکہ ان کے خیال میں اس کی واپسی سے دہشت گرد گروپ کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو گا جو امریکہ کے مسلسل ڈرون حملوں سے کمزور پڑ گئی تھی ۔ اپنی قیادت کی ہدایت پر وہ تمام عسکریت پسند گروپوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ پاکستان آرمی جب بھی شمالی وزیر ستان آپریشن شروع کرے اس کا مل کر مقابلہ کیا جا سکے ۔ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام پہلے شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی پر ہچکچاہٹ کا شکار تھے ۔تاہم پاکستانی طالبان کے حقانی نیٹ ور ک کے ساتھ ملنے اور ان کے پاکستانی سکیورٹی ایجنسیوں پر بڑھتے ہوئے حملوں نے شمالی وزیر ستان میں موجود افغان اور طالبان عسکریت پسندوں کو امریکہ ، پاکستان کا مشترکہ دشمن بنا دیا جس سے وہاں فو جی آپریشن کی راہ ہموار ہو گئی ۔دریں اثناءپاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں میں بعض کی یہ رائے بھی ہے کہ آپریشن اس وقت شروع کیا جائے گا جب حقانی نیٹ ورک کی اعلیٰ قیادت شمالی وزیرستان سے فاٹا میں منتقل ہو جائے گی کیونکہ حقانی گروپ کو اب بھی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ میں ایک اثاثہ سمجھا جاتا ہے وہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ بیمار افغان کمانڈر جلال الدین حقانی اور ان کے بڑے بیٹے سراج الدین حقانی پہلے ہی پاک افغان سرحد پر کسی محفوظ پناہ گاہ میں منتقل ہو چکے ہیں لہٰذا اب آپریشن ناگزیر ہے ۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی