ذوالفقار چیمہ نے انتخابات میں دھاندلی کی کوشش ناکام بنائی اور سیاسی دباؤ قبول نہ کیا
اسلام آباد(بیورورپورٹ) مسلم لیگ ن کی صوبائی حکومت کا دباؤ قبول نہ کرتے ہوئے اگست کے اوائل میں این اے 100میں نتائج کی تبدیلی کی کوشش کو ناکام بنانے اور پریذائیڈنگ افسروں کو بچانے اور انتخابی عمل کا تحفظ کرنے میں قابل قدر کردار ادا کرنے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان گوجرانوالہ کے سابق آر پی او ذوالفقار چیمہ کو تعریفی خط لکھ دیا ہے۔نتائج کی گنتی کے بعد ن لیگ کے ورکرز نے ان کی تبدیلی کیلئے 5سے 6پریذائیڈنگ افسروں کو اغوا کر لیا تھا حالانکہ نتائج کا اعلان پہلے ہی ان کے متعلقہ پولنگ سٹیشنوں پر کر دیا گیا تھا۔آر پی او چیمہ نے منصوبے کے بارے میں علم ہونے کے بعد کارروائی اور مغوی پریذائیڈنگ افسروں کی بازیابی کیلئے اپنی ٹیم علاقے میں بھجوائی اور ن لیگ کے سینئر صوبائی وزیر کے دباؤ کی مزاحمت کی۔ الیکشن کمیشن کے اعلیٰ ذرائع نے بدھ کے روز دی نیوز کو بتایا کہ گوجرانوالہ کی ساری صورتحال کے بارے میں جاننے اور متعلقہ دستاویزی شواہد حاصل کرنے کے بعد الیکشن کمیشن نے نہ صرف آر پی او گوجرانوالہ کو تعریفی خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ ایسے ایماندار افسروں کی ملازمت کو تحفظ فراہم کرنے کی حکمت عملی طے کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ ای سی پی کے ایک سینئر عہدیداردی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پولیس سمیت تمام محکموں میں ذہین اور ایماندار افراد موجود ہیں جو قانون اور سچائی پر ڈٹ جاتے ہیں لیکن ایسے افسروں کو سیاسی حکمران ہمیشہ سزا دیتے ہیں ۔تاہم یہ بات واضح نہیں کہ ای سی پی کس طرح حکمت عملی طے کرے گا اور کس طرح اس پر عمل کرے گا کچھ عہدیداروں نے تجویز دی کہ ای سی پی ایسے ایماندار افسروں کے ساتھ سلوک روا رکھنے کیلئے تفصیلی تجاویز وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بھجوا سکتا ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی کی خبر