کم شرح خواندگی کی وجہ سے مشین کے ذریعے حق رائے دہی کی ادائیگی میں مشکلات ہوں گی
بھارت میں یہ نظام رائج کرنے میں 22 سال لگے ہم یہاں فوری نافذ کرنا چاہتے ہیں‘ سیاسی جماعتیں
اسلام آباد (طاہر خلیل) الیکٹرانک ووٹنگ مشین منصوبے پر سیاسی جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کردیا ہے جس کے بعد الیکشن کمیشن اس منصوبے پر بتدریج پیش رفت کرے گا۔ مشاورتی کانفرنس کے حالیہ اجلاس میں ایم کیو ایم‘ پی پی پی شیرپاﺅ‘ جمہوری وطن پارٹی سمیت دیگر جماعتوں نے واضح کیا ہے کہ کم شرح خواندگی کی وجہ سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے حق رائے دہی کی ادائیگی میں مشکلات ہوں گی۔ اس لئے اس منصوبے کو پہلے منتخب شہری علاقوں میں نافد کیا جائے اور بتدریج دیہات کی طرف لے جایا جائے۔ ایم کیو ایم کے عبدالقادر خانزادہ پی پی پی شیرپاﺅ کی سینیٹر انیسہ زیب طاہر خیلی اور جمہوری وطن پارٹی کے محمد سعید خان سمیت دیگر رہنماﺅں کا کہنا تھا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا فوری اور مکمل نفاذ ممکن نہیں۔ اسکے لئے پہلے قانون سازی کرنا پڑے گی۔ بھارت میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا نظام رائج کرنے میں 22 سال لگے اور ہم یہاں فوری نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ اسکے لئے ضروری ہے کہ پہلے لوگوں کو تیار کیا جائے اور ضمنی انتخابات میں اسے متعارف کرواکر نتائج دیکھے جائیں۔ الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کی تجاویز سے اتفاق کرتے ہوئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین نظام کو بتدریج رائج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں ضروری سفارشات منظوری کیلئے حکومت کو بھیجی جائیں گی۔ الیکشن کمیشن نے 2013 کے عام انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے کرانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے تاکہ ووٹنگ کا عمل شفاف بنایا جاسکے۔ پولنگ سٹیشن پر ووٹر کی تصدیق تو پریزائیڈنگ افسر ہی کرے گا تاہم ووٹر اپنا شناختی کارڈ مشین میں سویپ کرکے ایک بٹن دبائے گا اور اپنی مرضی کے نمائندے کو ووٹ ڈال دے گا۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان کا کہنا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا نظام رائج ہونے سے دھاندلی کی شکایات نہیں ہوں گی۔ الیکشن کمیشن کو کئی کمپنیز کی جانب سے الیکٹرانک مشین کے مختلف ماﺅلز پیش کئے گئے تاکہ وہ انہیں ٹیسٹ کرکے کسی ایک کا انتخاب کرسکے۔ مشین میں اردو کے علاوہ انگریزی اور سندھی زبان میں بھی آواز کی سہولت ہوسکتی ہے جو ووٹر کیلئے مددگار ہوگی۔ ووٹنگ مشین میں حلقے کے تمام امیدواروں کے نام‘ پارٹی اور انتخابی نشانات فیڈ ہوں گے۔ اگر ووٹر سے غلطی ہوجائے تو وہ پہلے منتخب کئے گئے نمائندے کو کینسل کرکے درست نمائندے کا انتخاب بھی کرسکے گا۔ بٹن دباتے ہی مشین سے ووٹ کی ایک پرچی بیلٹ بکس میں چلی جائے گی۔ اگر کوئی شخص اپنا شناختی کارڈ دوبارہ سویپ کرکے ووٹ کاسٹ کرنے کی کوشش کرے گا تو مشین اسے مسترد کردے گا۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی