واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


امتیازی نمبر حاصل کرنے والوں کے لئے سرکاری نوکری کا حصول ناممکن بنادیا گیا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-06-11, 06:04 AM   #1
امتیازی نمبر حاصل کرنے والوں کے لئے سرکاری نوکری کا حصول ناممکن بنادیا گیا
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 18-06-11, 06:04 AM

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو کے پروگرام ”آج کامران خان کے ساتھ“ میں میزبان کامران خان نے پاکستان میں میرٹ کے قتل پر تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ریاست نے محنتی اور امتیازی نمبر حاصل کرنے والے طالب علموں کیلئے سرکاری نوکری کا حصول ناممکن بنادیا ہے۔ سرکاری اداروں میں ملازمتیں ”پرچیوں یا نوٹوں“ کی گڈیوں کیلئے وقف کردی گئی ہےں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ کئی مواقعوں پر ملازمتیں بیچی بھی گئی ہیں۔ ملازمتیں دینے کیلئے اگر میرٹ کا خیال نہیں رکھا جائےگا تو لوگوں میں نہ صرف بے چینی پھیلے گی بلکہ اُن کا نظام پر سے اعتماد بھی ختم ہو جاتا ہے۔ کامران خان نے کہا کہ حکومت کی ناقص کارکردگی جن محاذوں پر کھل کر سامنے آئی ہے اس میں میرٹ کا محاذ سب سے زیادہ ہے۔ حکومت نے اس بات کو یقینی طور پر ناممکن بنایا کہ میرٹ کے تحت سرکاری ملازمت دی جا سکے ¾ اسکی ابتداءحکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی ہوگئی تھی اور ہر سرکاری ادارے میں چن چن کر نااہل لوگوں کو لگایا گیا جن میں سے اکثریت کو خود اس حکومت کو ہٹانا پڑا یا اُن کےخلاف مقدمات بنے۔ اُنہوں نے بتایا کہ پاکستان اسٹیل کچھ سال پہلے منافع بخش ادارہ تھا لیکن اب یہ ایک مفلوک الحال ادرہ ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ رہی ہے حکومت کی تبدیلی کے بعد ہی ایک ایسے شخص کو پاکستان اسٹیل کا سربراہ مقرر کردیا گیا جس کے ماضی کے بارے میں سوالات تھے۔ وہ ایک ایسی کمپنی میں مشیر تھا جو براہ راست پاکستان اسٹیل سے کاروبار کرتی تھی۔ پاکستان اسٹیل میں جب کرپشن اسکینڈل کا انکشاف ہوا تو اسی کمپنی پر مختلف الزامات لگے جس میں معین آفتاب شیخ مشیر کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔ اس کمپنی پر اربوں روپے کی کرپشن کے کیسز قائم ہوئے اور معین آفتاب شیخ کو گرفتار کیا گیا اور اس کےخلاف مقدمات قائم کئے گئے۔ کامران خان نے مزید بتایا کہ اسی طر ح کیپٹن اعجاز ہارون کو پی آئی اے کا مینجنگ ڈائریکٹر بنایا گیا اور اب یہ ادارہ ڈیڑھ سو ارب روپے کے خسارے میں چل رہا ہے۔ اس دوران کرپشن کے متعدد اسکینڈلز سامنے آئے لیکن حکومت نے اُس وقت تک کیپٹن اعجاز ہارون کو نہیں ہٹایا جب تک پی آئی اے کے ملازمین نے ”یک زبان“ ہو کر نہ کہہ دیا کہ وہ کیپٹن اعجاز ہارون کے تحت پی آئی اے میں کام نہیں کریں گے۔ کامران نے کہا کہ میرٹ کے قتل عام کے تمام ریکارڈ اس وقت ٹوٹے جب پاکستان کے سب سے منافع بخش ادارے آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک انٹرپاس قید یافتہ شخص کو تعینات کردیا۔ اس ناقص ترین تعیناتی پر سپریم کورٹ کو نوٹس لینا پڑا اور وزیراعظم کو مجبور ہونا پڑا کہ وہ اس تقرری کو واپس لیں۔ کامران خان نے کہا کہ اسی طرح کے ایک اور فیصلے میں دبئی کے ایک نائٹ کلب کے مینجر کو نیشنل انشورنس کارپوریشن کا چیئرمین بنا دیا گیا اور اس تقرری کے دو برسوںکے اندر ہی نیشنل انشورنس کارپوریشن میں آٹھ ارب روپے کے فراڈ سامنے آئے، سپریم کورٹ کو اس کا نوٹس لینا پڑا اور ایاز نیازی کو گرفتار کرلیا گیا۔ اُنہوں نے بتایا کہ اسی طرح نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں ایک کنٹریکٹ ملازم کو جس پر مقدمہ بھی تھا اسے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کاچیئرمین رکھا گیا حتیٰ کہ وہ ایک پرانے مقدمے میں گرفتار ہوئے لیکن اس کے باوجود حکومت نے اُنہیں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کا چیئرمین مقرر کیا، حتیٰ کہ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں بھی سخت احکامات جاری کئے۔ کامران خان نے کہا کہ حکومت کس قسم کے لوگوں کو پاکستان کے اہم سرکاری عہدوں پر لگانا چاہتی ہے اس کا برملا اظہار گزشتہ سال اُس وقت ہوا جب ڈائریکٹر جنرل حج کی حیثیت سے ایک ایسے شخص راﺅ شکیل کا تقرر کیا گیا جو خود فراڈ کے کیسز میں ملوث تھا۔ اِس تعیناتی کے بعد پاکستان کے ہزاروں حاجیوں کو لوٹ لیا گیا۔ اس کے بعد وزیراعظم کے حکم سے نہ صرف ڈائریکٹر جنرل حج بننے والا راﺅشکیل گرفتار ہوا بلکہ اس وزارت کے وزیر حامد سعید کاظمی بھی گرفتار ہوئے۔ کامران خان نے کہا کہ اسی طرح سے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے نیشنل انشورنس کارپوریشن اسکینڈل کے ایک اہم کردار اور جعلی ڈگری یافتہ زین سکھیرا کو آئی ٹی منسٹری کا مشیر مقرر کردیا جس کے وزیراعظم خود وزیرتھے۔ آئی ٹی سے زین سکھیرا کا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں تھا مگر اس کے وزیراعظم کے خاندان سے قریبی تعلقات تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت نے متعدد ایسے اقدامات کئے ہیں جن سے میرٹ کا قلع قمع ہوتا نظر آتا ہے۔ حکومت کے تمام اداروں میں بھرتیاں کی گئیں مگر کہیں بھی میرٹ کا خیال نہیں رکھا گیا۔ کامران خان کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب گفتگو کرتے ہوئے انصار عباسی نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے بہت برے حالات ہیں حالات اس وقت تک بہتر نہیں ہو سکتے جب تک ہماری بیورو کریسی غیر جانبدار اور سیاست سے پاک نہ ہو۔ اُنہوں نے کہا کہ جو بھی صدر وزیراعظم ہوں ان کی خواہش پر سیکریٹریز کو تبدیل کیا جاتا ہے اور نئے سیکریٹریز کو لگاتے وقت بالکل نہیں دیکھا جاتا کہ اُن کا تجربہ کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ساڑھے تین سال میں فیڈرل اور ایڈیشنل سیکریٹریز کی پوسٹنگز میں شاید 95%، 98% ایسی اپائنٹمنٹس ہیں جو اوپر سے محض آرڈر آیا کہ ان کو لگادیں۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے آفیسرز کی فائلز کے اوپر یہ ریکارڈ موجود ہے کہ کس کو کس کی سفارش پر کہاں لگایا گیا۔ایک اور سوال کے جواب میں انصار عباسی نے کہا کہ ایسے لوگ جواپنی کرپشن کی بنیاد پر مختلف پوسٹنگز پر آتے ہیں ان سے آپ جو مرضی کام کروالیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہماری زیادہ تر بیوروکریسی ناچنے کےلئے تیار ہوجاتے ہیں جو حکمراں آتے ہیں ان کی انگلیوں کے اشارے کے اوپر وہ ناچتے ہیں۔ اس وقت ہمارے فیڈرل سیکریٹریٹ میں 40 سے 50 فیڈرل ڈویژن منسٹریز ہیں ان میں سے تقریباً90 فیصد سیکریٹریز وہ ہیں جن کا اپنی ڈویژنز کا ایک دن کا بھی تجربہ نہیں ہے۔کامران خان نے مزید بتایا کہ نہ صرف وفاقی حکومت کے نظام میں میرٹ کو ختم کیا جارہا ہے بلکہ اس کی سب سے بڑی مثالیں صوبہ سندھ میں نظر آتی ہیں۔ سندھ حکومت کے ورکس اینڈ سروسز ڈپارٹمنٹ میں تقریباً تین درجن اسامیوں کیلئے سندھ پبلک سروس کمیشن کے زیرانتظام ٹیسٹ اور انٹرویو میں 7ہزار امیدواروں نے حصہ لیا تھا مگر اس عمل میں حصہ لینے والے سندھ کے 100 سے زائد غریب امیدواروں کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب وزیراعلیٰ سندھ نے کمیشن کو اس عمل سے روک کر متعلقہ محکمے کو اپنے تئیں بھرتیاں کرنے کی اجازت دی۔انہوں نے کہا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کے شفاف عمل کے نتیجے میں کئے گئے انتخاب کو منسوخ کر کے اقربا پروری کے حق میں فیصلہ دینے کی یہ ایک انوکھی مثال ہے۔ کامران خان نے بتایا کہ اسی طرح 2009ءمیں سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ میں قواعد و ضوابط کے بغیر 16 منظور نظر افراد کو گریڈ 16 اور 17 میں نوکریاں دی گئیں۔ایڈہاک بنیادوں پر کی گئی یہ بھرتیاں اس وقت کے وزیر سید خورشید شاہ کے پرسنل سیکرٹری کے احکامات پر عمل میں لائی گئیں۔اس کے علاوہ دسمبر 2009ءمیں صوبائی وزیر بلدیات آغا سراج درانی نے سیہون ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں منظور نظر فرد کو گریڈ 18جبکہ منتخب کردہ دیگر 25 افراد کو گریڈ 16 اور 17 میں تعینات کیا۔ انہوں نے کہا کہ میرٹ کا جو قتل صوبہ سندھ میں ہورہا ہے اس جیسی بھیانک صورتحال دوسرے صوبوں میں نظر نہیں آتی ہے۔سابق چیف سیکرٹری سندھ کنور ادریس نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں میرٹ کے قتل کی بنیادی وجہ سیاسی مجبوریاں ہیں۔ ہر سیاسی پارٹی اور ہر لیڈر کہتا ہے کہ ہم نے جن لوگوں سے ووٹ لئے ہیں ہمیں ان کی مدد کرنی ہے۔ انہیں قوانین کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوکریاں دینے کا ایک باقاعدہ طریقہ کار ہے لیکن کسی سیاستدان کو یہ سمجھانا مشکل ہے کہ حکومت کا کام ایک قاعدے کے مطابق چلتا ہے یہ اس کی مرضی سے نہیں چلتا ۔سابق وفاقی سیکریٹری اطلاعات انور محمود کا کہنا تھا کہ اگر تعیناتی میرٹ پر نہیں ہوگی تو ظاہر ہے کاکردگی بھی ویسے ہی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ بنیادی بات یہی ہے کہ تعیناتی میرٹ پر ہو۔

روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,220 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 68
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے گلاب خان کا شکریہ ادا کیا
skjatala (18-06-11), احمد بلال (18-06-11), حیدر (18-06-11)
جواب

Tags
کورٹ, کنٹریکٹ, کراچی, پاکستان, وزیراعظم, قید, قواعد, نوکری, نظر, جواب, حکم, خان, دبئی, سپریم, سیاست, سال, شخص, ضوابط, غریب, صوبہ, صوبوں, صوبائی, صورتحال, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
غازی یہ تیرے بےکاربندے عبدالقدوس سیاست 0 18-03-11 10:31 PM
جعل سا زی روکنے کے لیے الیکٹر ک نو ٹ تیارکرلیے گئے محمدعمر خبریں 5 25-12-10 08:22 AM
’بی اے کی شرط امتیازی قانون ہے‘ محمدعدنان خبریں 0 18-04-08 06:18 PM
محبوبِ دو جہاں ﷺ کی امتیازی خوبیاں میاں شاہد پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 0 17-03-08 10:09 AM
شیر افگن نیازی کو مسلم لیگ کے ٹکٹ کے حصول میں مشکلات عبدالقدوس خبریں 0 23-11-07 09:28 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:50 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger