واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


امریکا سمیت 3 ملکوں کے سربراہوں کو عدالتوں نے استثنٰی نہیں دیا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 26-09-10, 03:24 AM   #1
امریکا سمیت 3 ملکوں کے سربراہوں کو عدالتوں نے استثنٰی نہیں دیا
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 26-09-10, 03:24 AM

صدر سول مقدمات کا آسان ٹارگٹ ہونگے‘ صدارتی استثنٰی مطلق استحقاق نہیں‘ نکسن کیس میں عدالت کا حکم‘ صدر کے اختیارات محدود کردئیے
کلنٹن کو توہین عدالت میں جرمانہ ہوا‘ لائبیریا کے صدر کو سزا ہوئی‘ اقتدار چھوڑنا پڑا‘ برلسکونی کو فراڈ اور غبن کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا


لاہور (صابر شاہ) زیادہ دیر کی بات نہیں کہ امریکا‘ اٹلی اور لائبیریا کے 3 حکومتی سربراہوں یا سربراہان مملکت پر ان کی متعلقہ عدالتوں نے یا تو توہین عدالت کا الزام عائد کیا یا کارروائی کیلئے ان کا روایتی استثنیٰ ختم کردیا۔ امریکی قانونی تاریخ شاندار مثال پیش کرتی ہے کہ امریکی صدر بل کلنٹن کو کس طرح امریکی فاضل عدالت نے ایک کیس میں استثنیٰ دینے سے انکار کردیا جبکہ وہ عہدے پر تھے اور بعدازاں توہین کا الزام عائد کیا اور مونیکا لیونسکی کیس میں عدالتی حکام کے سامنے جھوٹے اور گمراہ کن جوابات دینے پر جرمانہ کیا۔ اسی طرح 1974ء کے امریکا بنام رچرڈ نکن کیس میں سپریم کورٹ نے واٹر گیٹ سکینڈل کی تحقیقات کے دوران صدر نکسن کے اختیارات محدود کرنے کے حق میں متفقہ (ایک آواز بھی مخالف نہیں تھی) ووٹ دیا۔ عدالتوں کی طرف سے کسی امریکی صدر کے اختیارات محدود کرنے کے حوالے سے ایک اہم مثال شمار کیا جاتا ہے۔ یہ وہی رچرڈنکس تھے جنہوں نے 1982ء میں اس وقت عدالت کی حمایت حاصل کرلی تھی جب وہ امریکی صدر نہیں رہ گئے تھے۔ 1982ء کے نکسن بنام فٹنر جیرالڈ کیس میں امریکی سپریم کورٹ نے نکسن کو اس کے ان سرکاری امور میں سے ایک کی ذمہ داری کے حوالے سے مکمل استثنیٰ دیدیا جو انہوں نے امریکی صدر کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے انجام دئیے تھے۔ حوالہ دئیے گئے مذکورہ کیسوں کے فیصلے صدر زرداری کے ساتھیوں کے موقف کے موثر ہونے پر روشنی ڈالنے کے کافی ہونے چاہئیں۔ جن کا خیال ہے کہ صدر کو آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت ان الزامات سے بھی استثنیٰ حاصل ہے جو ان پر سربراہ مملکت بننے سے پہلے عائد کئے گئے تھے۔ 12 اپریل 1999ء میں کلنٹن پہلے سٹنگ صدر تھے جن پر امریکی تاریخ میں توہین عدالت لاگو ہوئی اگرچہ ان کے چند ایک پیشرو جن میں انڈریو جیکسن‘ ابراہم لنکن اور فرینکلن روز ویلٹ تھے پر بھی عدالتوں نے ان کے دور اقتدار میں حوصلہ کیا۔ کلنٹن کے خلاف توہین کا الزام 1994ء میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے ایک کیس میں لگا جو آرکنساس ریاست کی ملازم پاؤلا جونز نے فائل کیا تھا۔ جونز نے کہا تھا کہ جب کلنٹن آرکنساس کے گورنر تھے تو انہوں نے اسے (خاتون) کو ”نامعقول پیشکش“ کی تھی‘ ان کا کہنا تھا کہ انکار پر کیرئیر متاثر ہوا۔ فائل ہونے کے بعد جونز کا کیس 3 سال دوسرے فریق کی وجہ سے پڑا رہا۔ 1997ء میں کیس دوبارہ فائل ہوا۔تو صدر کلنٹن نے کہا کہ ان کے عہدہ چھوڑنے تک کارروائی نہیں ہوسکتی مگر عدالت نے موقف مسترد کردیا۔ امریکی فاضل عدالت نے تب زور دیا کہ ایک عہدیدار کی سرکاری حیثیت کے باہر کے کاموں پر استثنیٰ لاگو نہیں ہوتا۔ عدالت میں بیان کے دوران کلنٹن سے وائٹ ہاؤس کی انٹرن مونیکا لیونسکی سے تعلقات کے بارے میں سوالات کئے گئے۔ صدر نے گواہی دی کہ وہ سابقہ وائٹ ہاؤس انٹرن کے ساتھ کبھی اکیلے نہیں تھے اور نہ ہی اس کے ساتھ جنسی تعلقات ہیں بیان حلفی کے ایک ماہ بعد کلنٹن نے جونز کا مقدمہ خارج کرنے کیلئے درخواست دی۔ یکم اپریل 1998ء کو امریکی ڈسٹرکٹ جج سوسن ویبر رائٹ نے اس بنیاد پر کیس ختم کردیا کہ درخواست دہندہ جونز یہ ظاہر کرنے میں ناکام رہی کہ اس کا کیس جیوری میں پیش کرنے کے لائق ہے۔ جب کیس التوا میں تھا کلنٹن اور جونز نے کیس پر ساڑھے 8 لاکھ ڈالر میں مصالحت کرلی۔ جج رائٹ نے ایک سال بعد معاملے کو دیکھا کہ آیا کلنٹن کو جنوری 1998ء کی سماعت کے دوران لیونسکی سے تعلقات سے انکار پر توہین کیلئے پکڑا جائے۔ جج رائٹ نے اس عدالت میں گمراہ کن بیان دینے پر صدر کو مجرم پایا جس کی صدارت اس نے خود کی تھی۔
جولائی 1998ء میں رائٹ نے صدر کو 90 ہزار 686 ڈالر جرمانہ کردیا۔ رائٹ نے کہا کہ جرمانہ کرنے کا مقصد کلنٹن کو توہین پر سزا دینا اور دوسروں کو اس مس کنڈکٹ کو مثال بنانے سے روکنا ہے۔ 1982ء میں Nixon Vs Fitzgerald کیس میں Earnest Fitzgerald نامی اسلحہ کے تجزیہ کار کو کانگریس میں محکمہ دفاع میں ہونے والی بے ضابطگیوں کے بارے میں کچھ انکشافات کرنے پر امریکی ائیر فورس نے برطرف کردیا تھا۔ Fitzgerald نے بعدازاں اس غلط انتقامی برطرفی پر Nixon کیخلاف کیس کردیا تھا۔ عدالت نے صدر کی ذمہ داریوں کی اہمیت پر زور دیا اور اس بات کی نشاندہی کی کہ صدر کی صلاحیتوں کا نجی قانونی مقدمات کیلئے استعمال ہونے سے حکومت کے موثر طور پر کام کرنے کیلئے خطرات پیدا ہوجائیں گے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ عہدے کی اہمیت کے باعث وہ سول مقدمات کے آسان ٹارگٹ بن جائیں گے اور ذاتی زدپذیری اور ذہنی تقسیم قوم کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگی۔ سپریم کورٹ نے پہلی مرتبہ 1973ء میں U.Vs Nixon کیس میں صدارتی استثنیٰ کو اس وقت تسلیم کیا جب عدالت نے کہا کہ انتظامی استحقاق مطلق نہیں ہے بلکہ نوعیت کے اعتبار سے قرائنی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ نے اس کیس میں صدر نکسن کو ذاتی حاضری پر عمل کرنے کیلئے کہا اور اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ ان کی گفتگو کی ٹیپس فراہم کرنے کی استدعا کی۔ عدالت نے اپنے تاریخی فیصلے میں کہا کہ نکسن کی اپنے سٹاف کے ساتھ خفیہ گفتگو کی عمومی ضرورت کی اہمیت ان کے سٹاف کے ارکان کیخلاف زیر التوا کارروائی میں طلب کئے گئے مواد کے سامنے کم ہوگئی ہے۔ یہ 8 اور صفر کی اکثریت کے ساتھ متفقہ فیصلہ تھا اور واٹر گیٹ سکینڈل کے آخری مراحل میں اہم تھا۔ تاہم استثنیٰ کے نظریے کی جڑیں جاگیردارانہ انگلینڈ کے قانون میں ملتی ہیں اور اس کا بنیاد یہ اصول ہے کہ حکمران کوئی غلط کام نہیں کرسکتا۔ بہت سے قانونی ماہرین کے مطابق امریکی تاریخ میں انتظامی استحقاق واضح طور پر امریکی آئین میں نہیں دیا گیا بلکہ 1795ء میں اس وقت سے پروان چڑھا جب صدر جارج واشنگٹن نے پہلی مرتبہ ایوان نمائندگان کو برطانیہ کے ساتھ Pinckney Treaty کی تفصیلی دستاویزات دکھانے سے انکار کردیا تھا۔ صدر روز ویلٹ اور جارج بش جونیئر نے بھی اپنے مدت صدارت کے دوران انتظامی استحقاق کو استعمال کیا۔ اس نظریے کی پہلی مرتبہ حمایت امریکی سپریم کورٹ نے 1871ء میں Bradley Vs Fisher کیس میں کی جب ایک اٹارنی نے اس پر پابندی عائد کرنے پر جج کیخلاف مقدمے کی کوشش کی تھی۔ اس کیس میں عدالت نے قرار دیا کہ جج کو سول کارروائی سے مکمل استثنیٰ حاصل ہے کیونکہ یہ مقدمہ ان کے عدالتی فعل کی بنا پر ہوا۔ عدالت نے عدالتی آزادی کے تحفظ کی ضرورت کو تسلیم کیا اور اس بات کی نشاندہی کی کہ جج کی عناد پر مبنی اور نامناسب اقدام کی تلافی مواخذے سے ہوسکتی ہے مقدمے بازی سے نہیں۔ 7 اکتوبر 2009ء کو اٹلی کے وزیر اعظم برلسکونی کو قانونی تحفظ فراہم کرنے والے متنازع قانون کو ملک کی اعلیٰ عدالت نے مسترد کردیا۔ رشوت سے فراڈ اور غبن تک کے الزامات کا سامنا کرنے والے برلسکونی اب تک لڑے گئے 5 میں سے 3 انتخابات جیت چکا ہے اور عدالتوں میں دفاع کیلئے وکلا پر 200 ملین یورو سے زائد خرچ کرچکا ہے۔ لائبریا کے سابق صدر چارلز ٹیلر کو ان کے صدارت پر فائز ہوتے ہوئے بھی 2003ء میں سیریالیون کی خصوصی عدالت نے سزا سنا دی۔ اگرچہ ٹیلر سزا کے وقت برسر اقتدار سربراہ ریاست تھا لیکن اسے عدالت نے اپنے خلاف الزامات میں مزاحمت کیلئے صدارتی استثنیٰ کے استعمال سے روک دیا تھا۔ اس فیصلے نے اس معاملے پر عالمی قانون کی سمت کو تبدیل کرنے کا سگنل دیدیا ہے۔ 11 اگست 2013ء کو چارلز ٹیلر صدارت سے مستعفی ہوگیا اور دسمبر 2003ء میں نائیجریا جلا وطن ہوگیا۔ انٹرپول لائبریا کے سابق صدر کیلئے ریڈ نوٹس جاری کرچکی ہے۔ 2006ء میں چارلز ٹیلر کو نائیجیریا کے حکام نے گرفتار کرلیا اور دی ہیگ میں ٹرائل کا سامنا کرنے پر مجبور کیا گیا جو اب تک جاری ہے۔ ادھر سربراہان ریاست جن کو ان کے عہدہ سے ہٹنے کے بعد ان کے انتظامی استثنیٰ سے محروم کیا گیا ان میں چلی کے آمر آگسٹو‘ پنوشے‘ سابق کرغز صدر عسکر اکیوف اور زیمیبیا کے سابق صدر فریڈرک شلابو شامل ہیں۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی 25 ستمبر 2010ء
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,220 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 58
Reply With Quote
جواب

Tags
کورٹ, کوشش, واشنگٹن, وزیر, مکمل, اعلیٰ, جیت, خلاف, خصوصی, درخواست, زرداری, سٹاف, سپریم, سال, شاندار, عدالت, عدالتی, عدالتوں, غلط, صفر, صلاحیتوں, صابر, صدارتی, صدر, صدر زرداری


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کلاس میں استاد نے لڑکوں کی شرارتوں The Great قہقہے ہی قہقے 11 07-10-09 10:52 AM
::: قربانی کے لئے جانوروں کی خریداری میں تیزی قیمتوں میں استحکام ::: ابو کاشان خبریں 1 04-12-08 08:28 PM
صوبائی حکومتوں کے قیام پر ناظمین کی اکثریت کو عدم اعتماد کی تحریکوں کا سامنا ہوگا عبدالقدوس خبریں 0 22-02-08 02:46 AM
وکلاء تنظیموں نے پی سی او ججوں کے سوشل بائیکاٹ کا اعلان کر دیا،ملک بھر کے وکلاء،ماتحت عدالتوں میں روزانہ ایک گھنٹے ہڑتال کر یں گے خرم شہزاد خرم خبریں 0 06-12-07 09:00 AM
ججوں کی بحالی تک عدالتوں کا بائیکاٹ کریں گے، پاکستان بار کونسل عبدالقدوس خبریں 0 08-11-07 04:13 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:54 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger