مشرف پر زور دیاگیا بے نظیر بھٹو کیساتھ ڈیل پوری کریں اور یونیفارم اتاریں
اسلام آباد (طارق بٹ) وکی لیکس کی جاری کی گئی ایک ٹیلی گرام کے مطابق امریکہ نے سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ اور پی سی او کا قانون جاری کرنے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا مشرف کے ان اقدامات کے تین رز بعد سیکرٹری ڈیفنس پالیسی ایرک ایڈل مین نے افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ ملاقات میں یہ بات اٹھائی کہ پاک امریکہ ڈیفنس مشاورتی گروپ (ڈی سماجی) مذاکرات ملتوی ہوگئے ہیں اور ہمیں یہ بھی واضح نہیں کہ موجودہ سیاسی افراتفری کی صورتحال میں پاکستانی مذاکرات کار ڈی سی جی ایجنڈا پر فوکس کرنے کے قابل ہوں گے یا نہیں الزام کے مطابق مشرف یہ سمجھتے تھے کہ اگر بے نظیر بھٹو اقتدار میں آئیں تو وہ اقتدار سے باہر ہوں گے اور وہ ابھی تک شاید یہ قدم اٹھانے کیلئے تیار نہیں ٹیلی گرام میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت اور افغانستان پاکستان کی دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی اور کوئٹہ کے طالبان شوریٰ کی گرفتاری میں دلچسپی رکھتے ہیں ٹیلی گرام میں کہا گیا ہے کہ ہم مشرف پر زور دے رہے ہیں کہ وہ انتخابات کے شیڈول یا بے نظیر بھٹو کے ساتھ کی گئی ڈیل کو پورا کرنے اور یونیفارم اتارنے پر اپنی توجہ مرکوز کریں گو ایسے خصوصی مفادات ہیں جو مارشل لاءکا دورانیہ بڑھانے کا تقاضا کر رہے ہیں تاہم یہ مختصر ہونا چاہئے اور اگر ایسا نہں ہوتا تو مشرف اور پاک فوج کے مفادات الگ الگ ہونا شروع ہوسکتے ہیں کرزئی بھی اس بات سے متفق تھے کہ صورتحال پیچیدہ ہے تاہم افغان صدر نے امید ظاہرکی کہ مشرف کے ماورائے آئین اقدامات کامیاب ہوںگے ٹیلی گرام کے مطابق کرزئی اس بات پر متفق تھے کہ ایران مصروف ہے اور امریکہ کو افغانستان میں نقصان پہنچانے کا خواہاں ہے ایران مغربی افغانستان میں تعمیر نو اور ترقی کے عمل کو بھی نقصان پہنچانے کی کوششیں کر رہا ہے افغان صدر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو اس بات سے تکلیف ہے کہ افغانستان خطے میں اہم گزرگاہ بن رہا ہے اور وہ اپنی مارکیٹ کے تحفظ کیلئے پاکستان اور بھارت کی وسط ایشیاءسے قدرتی گیس کی درآمد چاہتا ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی