|
امریکہ اور اخوان المسلمین کے مابین تعاون کا امکان

09-07-11, 05:29 AM
اخوان المسلمین کے ساتھ تعاون کرنے کے امریکہ کے جس ارادے کا اظہار وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن نے کیا تھا، وہ عرب دنیا اور دیگر ممالک میں بھی دلچسپی کا باعث بنا ہوا ہے۔
امریکی سفارت کاروں نے حسنی مبارک کے دور صدارت میں ہی اخوان المسلمین کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔ تب امریکیوں نے اس کلعدم گروہ کے صرف ان نمائندوں کے ساتھ ملاقاتیں کی تھیں جو آزاد امیدواروں کے طور پر مصری پارلیمنٹ میں شامل ہوئے تھے۔ اخوان المسلمین کے ساتھ امریکہ کے رابطے کو سامنے نہیں لایا گیا تھا لیکن اسے راز میں رکھنے کی کوشش بھی نہیں کی گئی تھی۔
اب امریکی سفارت کاروں کو اخوان المسلمین گروہ اور اس سے منسلک آزادی و انصاف کی پارٹی سے وسیع پمیانے پر تعلقات کو فروغ دینے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
اخوان المسلمین کے ترجمان نے اے پی ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ گروہ امریکہ کے ساتھ مکالمے کے لیے تیار ہے تاکہ عدم مفاہمت اور اختلافات کو دور کیا جاسکے۔ جبکہ آزادی و انصاف کی پارٹی کی قاہرہ کی شاخ کے سربراہ محمد البلطاجی نے اپنے ایک مضمون بعنوان "ہیلری کلنٹن کے نام پیغام" میں امریکہ سے اپیل کی ہے کہ وہ مصر کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرے۔ ماضی میں امریکہ امداد فراہم کرتے ہوئے مصر کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتا رہا تھا بلکہ امداد کی فراہمی کے عوض مصری حکام سے حمایت کا مطالبہ کرتا رہا تھا لیکن اب امریکہ اس پالیسی پر گامزن نہیں رہ سکتا، البلطاجی نے کہا۔ بلکہ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی احترام کے اصول پر مبنی ہونے چاہئیں۔
اخوان المسلمین کے ساتھ تعاون کے لیے امریکہ کے اظہار آمادگی پر مصری معاشرے میں وسیع ردعمل ظاہر کیا گیا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اخوان المسلمین اور امریکہ کے مابین مکالمہ رواں سال ماہ فروری میں شروع ہوچکا تھا یعنی حسنی مبارک کا تختہ الٹنے سے پہلے۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ ترکی اس مکالمے میں ثالث کا کردار ادا کررہا ہے۔
مصری سیاسی تجزیہ نگار علاء الحلوانی نے "صدائے روس" کو بتایا کہ آج مصر میں تمام سیاسی جماعتیں شدید دباؤ میں ہیں۔ ایک دوسرے پر غداری کے الزامات عائد کئے جارہے ہیں اور ایک دوسرے کو دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ اخوان المسلمین کو ان الزامات کا جواب دینا پڑرہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ تعاون کے ذریعے تشکیل دی جانے والی پارلیمنٹ پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم اس گروہ کا کہنا ہے کہ وہ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ نہیں رکھتا لیکن اس میں شک نہیں کہ اخوان السلمین اپنے امیدوار کے حق میں ووٹ دیں گے۔ جہاں تک ترکی کی ثالثی کا سوال ہے تو قوی امکان ہے کہ ترکی امریکہ اور اخوان المسلمین کے مابین قریب پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
اخوان السلمین امریکہ کے قریب آکر انتخابات جیت سکتے ہیں۔ یوں وہ مصر میں برسر اقتدار جائیں گے۔ بہرحال اقتدار حاصل کرنے کے لیے یہ گروہ احتیاط سے کام لے رہا ہے تاکہ معاشرہ اور ذرائع ابلاغ عامہ کی توجہ ان کی سرگرمیوں کی جانب مبذول نہ ہو۔
مصر کے کئی تجزیہ نگار اور عام شہری اس رائے سے متفق ہیں۔ اخوان المسلمین کے ساتھ تعاون کے لیے آمادگی ظاہر کر کے امریکی انتظامیہ مصر کے معاملات میں اپنا کردار برقرار رکھنا چاہتی ہے اور دنیا بھر میں سرگرم اسلامی پارٹیوں کو ایک مثبت اشارہ دینا چاہتی ہے۔ لیکن بہت زیادہ لوگوں کو امریکہ کے بیانات پر یقین نہیں کیونکہ گزشتہ دسیوں سالوں میں مشرق وسطی کے بارے میں امریکہ کی پالیسی کے انتہائی ناگوار نتائج برآمد ہوچکے ہیں۔
صدائے روس
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,223 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|