امریکی کیا کررہے ہیں؟کیوں نہیں بتایا جاتا ،مبشر حسن،جیو کے ’کامران خان کیساتھ‘ میں گفتگو
کراچی (ٹی وی رپورٹ ) فاٹا کے سابق سیکرٹری و تجزیہ کار بریگیڈیئر محمود شاہ نے امریکی شہری کے ہاتھوں تین پاکستانیوں کی ہلاکت کو ایک حساس معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس پر حکومت کی نظریں ہونی چاہئیں، امریکہ خفیہ اداروں کو عراق اور افغانستان جیسے ممالک میں استعمال کرتا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جیو کے پروگرام ”آج کامران خان کے ساتھ“ میں میزبان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو کبھی بھی کسی آزاد ملک میں اس طرح کی اجازت نہیں ملی جیسی یہاں دی جارہی ہے۔ ہم برسوں سے اس بات پر نکتہ چینی کرتے رہے ہیں کہ اس طرح سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوں گی، ہمارے قانون کے مطابق اس قسم کی کارروائیوں کی اجازت نہیں ہے۔ ہم نے یہی کہا تھا کہ یہ لوگ ہمارے عام لوگوں کے ساتھ ٹکراﺅ میں آجائیں گے جس سے ایسی صورتحال پیدا ہوگی کہ پاکستان کی بدنامی ہوگی۔ آج بھی عوام اس بات کا جواب مانگ رہے ہیں کہ ڈپلومیٹک immunity کو اس حد تک کیسے abuse کیا جاسکتا ہے جس طرح پاکستان میں ہورہا ہے۔محمود شاہ نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ اس کیس کا ازخود نوٹس لے تاکہ حکومت مجبور ہو،ابھی حکومت اپنی شرمندگی کو چھپانے کیلئے مختلف حیلے بہانے ڈھونڈ رہی ہے۔سول سوسائٹی کے متحرک رکن اور ممتاز سیاستدان ڈاکٹر مبشر حسن نے امریکی شہری کے ہاتھوں پاکستانیوں کے قتل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ دہشتگردی تھی ، یہ مقدمہ دہشتگردی کی عدالت کے سامنے جانا چاہئے۔ لاہور ان کا گڑھ بنا ہوا ہے، جیل روڈ پر رات کو گوروں کی گاڑیاں تیزی سے کاروں کے ہجوم میں زگ زیگ کرتی نکلتی ہیں اور دوسری کاروں کیلئے خطرہ پیدا کرتی ہیں ، بہت سے ڈرائیور تو ڈر کے مارے وہیں اپنی گاڑی کھڑی کرلیتے ہیں۔ انہوں نے سوالات اٹھائے کہ حکومت نے جو بھی کارروائی کی یا نہیں کی،یہ کس کے حکم سے نہیں ہوئی ہے۔ کس نے سپرنٹنڈنٹ پولیس سے کہا کہ اس کو چھوڑ دو۔آئی ایس آئی کیا کررہی ہے؟ ان کا پیچھا کیوں نہیں کرتی؟ ہمیں کیوں نہیں بتایا جاتا کہ لاہور میں کتنے امریکی ہیں اور وہ کیا کررہے ہیں؟ وہ دن اور رات کو کیوں باہر پھرتے ہیں؟ پاکستان کی سیاسی قیادت کی خاموشی پر ڈاکٹر مبشر حسن کا کہنا تھا کہ سیاسی قائدین تو ان کے غلام بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو امریکی ڈیری فارم بنایا ہوا ہے۔ یہاں سے دولت لوٹی جاتی ہے، باہر بھیجی جاتی ہے ۔ ہمارے حکمرانوں کو اس بات پر کوئی شرم نہیں ہے کہ انہوں نے ملک کا وقار خاک میں ملادیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کا صدر اور وزیراعظم بن بلائے دوڑے دوڑے امریکا جاتے ہیں، امریکا کے آدمی پاکستان آتے ہیں اور جس سے چاہے ملتے ہیں۔ آخر یہ زبانی سفارتکاری کیوں ہوتی ہے۔یہ ڈپلومیٹک ذرائع سے کیوں نہیں ہوتی۔ یہ وہاں جاکر خفیہ ملاقاتیں کرتے ہیں، کیا وعدے کرتے ہیں، کیا انعام پاتے ہیں کچھ پتا نہیں۔ پاکستان کا بیڑا غرق اسی سیاسی ایکٹیویٹی کی وجہ سے ہوا ہے۔ فارن آفس کہاں چلا گیا، وزیر خارجہ امریکیوں کی خوشامد کرتے ہوئے بھاگا پھرتا ہے،یہ ان کے سامنے اسی طرح کھڑا ہے جس طرح اپنے پیر کے سامنے مرید کھڑا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر مبشر حسن نے مزید کہا کہ اس واقعے پر پاکستانی سیاستدانوں نواز شریف ، چوہدری شجاعت حسین، الطاف حسین اور پیپلز پارٹی کے لوگ کیوں نہیں بول رہے ، یہ کہاں سوئے ہوئے ہیں؟ میزبان کامران خان نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ لاہور کے مزنگ چوک میں امریکی اہلکار نے 2 پاکستانیوں کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا اور تیسرا پاکستانی امریکی گاڑی سے کچل کر ہلاک ہوا جو کہ اس امریکی اہلکار کی مدد کیلئے پہنچی تھی۔ یہ امریکی اہلکار دراصل کسی خفیہ مشن پر تھا اور کسی خفیہ ایجنسی کے لئے کام کررہا تھا۔ امریکیوں کی لاہور کی سڑکوں پر یہ کارروائی جس کے بارے میں شکوک و شبہات اور سوالات اٹھ رہے ہیں اور سوال یہی ہے کہ آخر پاکستان نے امریکہ کو پاکستان کی گلی کوچوں اور سڑکوں تک پر جاسوسی کرنے کی اجازت دیدی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی اہم ہے کہ امریکی اور پاکستانی حکومت اس معاملے میں تفصیلات دینے سے انکار کررہے ہیں اور کوشش یہ کررہے ہیں کہ عوام کے ذہنوں میں جو سوالات ہیں، ان کے جوابات ان تک نہ پہنچیں۔ امریکیوں نے تو حد کردی ہے۔ اس شخص نے اپنا نام پاکستانی حکام اور پولیس کو ریمنڈ ڈیوس بتایالیکن امریکی دفتر خارجہ نے بتایا ہے کہ اس کا نام ریمنڈ ڈیوس نہیں ہے، اس کا کیا نام ہے یہ ہم نہیں بتاسکتے اور نہ ہی یہ بتاسکتے ہیں کہ وہ پاکستان میں کیا کررہا تھا۔ امریکی قونصل خانے نے کہا کہ یہ ہمارے ساتھ associated تھا۔ سوال یہ ہے کہ وہ کس حیثیت میں کام کررہا تھا یہ بھی نہیں بتایا جارہا اور یہ بھی نہیں بتایا جارہا کہ یہ امریکی پاکستان آتا جاتا رہتا تھا۔ یہ حالیہ دنوں میں پاکستان آیا اور اس کے پاس پاکستان کا (Multipul Entry Visa) تھا۔ یہ امریکی پچھلے ڈیڑھ سال میں 9بار پاکستان آیا۔ یہ نہیں پتہ چلا کہ اردو، پشتو بولنے والا امریکی لاہور میں مزنگ چوک پر کیا کرنے آیا تھا۔ ایک امریکی اخبار کے بلاگ میں لکھا گیا ہے کہ وہ ایک خفیہ میٹنگ کیلئے گیا تھا اور اس میٹنگ کے دوران کوئی مسئلہ ہوا جس کے بعد اس کو شک ہوا کہ شاید اس کو اغوا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یا کی جائے گی جس کے بعد حالات اس حد تک پہنچے۔ پاکستان کی حکومت اور دفتر خارجہ نے اس معاملے پر کوئی بیان نہیں دیا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس سے کیا معلومات حاصل ہوئی ہیں اور کس طرح سے یہ امریکی شہری پاکستان میں ایک نجی کار میں نجی نمبر پلیٹ لگا کر ممنوعہ بور کا بغیر لائسنس اسلحہ لے کر لاہور کی سڑکوں پر گھوم رہا تھا۔کامران خان نے اپنے تجزیے میں کہا کہ لاہور میں ہونے والے جمعرات کے واقعے نے ایک بار پھر پاکستانی عوام کے سامنے آشکار کیا ہے کہ پاکستان میں امریکی خفیہ ادارے بہت متحرک ہیں اور پاکستان کی حکومت کی جانب سے انہیں اجازت ہے کہ پاکستان میں جاسوسی کے جال پھیلائیں اور اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھیں۔کامران خان نے کہا کہ یہ نہیں بتایا جارہا کہ امریکی شہری آخر کس ویزے پر پاکستان آیا تھا؟ اسے سفارتی تحفظ تھا یا نہیں تھا؟ وہ پرائیویٹ گاڑی میں گھوم کر کیا کررہا تھا؟ لاہور کے وسط میں وائرلیس اور اسلحہ سمیت اس شخص کو پاکستان میں سرگرمیوں کی اجازت کیوں دی گئی تھی اور پاکستان میں اس جیسے کتنے امریکی گھوم رہے ہیں؟ کامران خان نے کہا کہ یہ سوالات پاکستانی عوام کے ذہنوں میں گونج رہے ہیں لیکن افسوس صد افسوس کہ پاکستان کی سیاسی قیادت اس معاملے پر خاموش نظر آتی ہے۔ اس واقعے کو تقریباً 36 گھنٹے گزر چکے ہیں لیکن پاکستان کی کسی بھی بڑی سیاسی جماعت کے کسی بڑے سیاسی رہنما نے اس معاملے پر نہ ردعمل کا اظہار کیا ہے اور نہ ہی اس کی مذمت کی ہے اور نہ ہی حکومت سے پوچھ گچھ کی ہے۔ میزبان کامران خان نے ہلاک ہونے والے لڑکوں کے بارے میں بتایا کہ اہل محلہ سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق ان نوجوانوں کے بارے میں کوئی شک کی بات نہیں ہے مگر پولیس کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک شخص فیضان کا کرمنل ریکارڈ تھا۔ تاہم سرکاری طور پر پولیس یا حکومت اعلامیہ جاری کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اس سارے معاملے میں امریکی اور پاکستانی حکومت کی چپ سمجھ میں آتی ہے مگر پاکستانی قومی سیاسی قیادت نے بھی چپ سادھ لی ہے۔کامران خان نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو آج قومی ایجنڈے کے بارے میں اعتراف کرنا پڑا کہ وہ قومی ایجنڈا جس کے لئے حکومت نے حامی بھری تھی اور جس کی وجہ سے انہوں نے کہا کہ وہ حکومت کا ساتھ دیں گے اور کل انہوں نے یہ بات بھی کہہ دی کہ وہ حکومت کا تسلسل چاہتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ حکومت تبدیل ہو، چاہے وہ ایوان کے اندر سے ہو یا مڈٹرم الیکشن کی صورت میں، نواز شریف کے بقول اس وقت کسی بھی صورت میں تبدیلی خطرناک ہوگی لیکن پاکستان کے عوام کی قسمت میں بھی تبدیلی نہیں آرہی، اس کا بھی وہ اعتراف کررہے ہیں ۔ آج وہ قومی ایجنڈا جس پر حکومت عمل کرتی نظر نہیں آرہی ہے ، اس ایجنڈے کے حوالے سے نواز شریف بالکل بے بس نظر آئے ،انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے میں سنجیدگی نہیں دکھارہی اور اب نواز شریف مزید کچھ کہنے کے بجائے اللہ سے دعا گو نظر آتے ہیں کہ شاید حکومت کو خیال آئے اور حکومت اس معاملے میں سنجیدگی دکھائے۔ مصر کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے میزبان کامران خان نے کہا کہ مصر میں عوامی انقلاب دستک دے رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے سے مصر کے عوام کی سربراہی مصر کے نوجوان کررہے ہیں۔ عوام کا مطالبہ یہ ہے کہ صدر حسنی مبارک کا 30 سالہ دورِ حکومت ختم ہو۔ مصر میں مہنگائی، کرپشن اور دوسرے مسائل کی وجہ سے عوام بے قابو ہوگئے ہیں اور وہ تیونس کے عوام کی طرح اپنے حقوق اور ملک میں تبدیلی کے لئے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ مصر میں یہ مظاہرے بے قابو ہوتے نظر آرہے ہیں۔ پولیس پیچھے ہٹ گئی ہے اور عوام نے مصر کی سڑکوں پر قبضہ کیا ہوا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ مصر میں بھی تبدیلی آنے والی ہے۔ ملک کے بڑے بڑے شہروں میں کرفیو لگادیا گیا ہے اور لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ اس سے قبل تیونس کے عوام نے مہنگائی، کرپشن اور انانصافی کے خلاف تین ہفتوں تک سڑکوںپر جدوجہد کی اور خود اپنے ملک میں تبدیلی لائے اور 22سال حکومت کرنے والے حکمراں زین العابدین کو فرار ہونا پڑا اور اس کے مغربی اتحادیوں فرانس اور سوئٹزرلینڈ نے اس کے اور اس کے اہل خانہ کے اکاﺅنٹس منجمد کردیئے اور اسی تیونس نے اپنے سابق صدر کے خلاف انٹرپول سے وارنٹ جاری کرادیا۔ ایسا لگتا ہے کہ مصر میں بھی یہ سب ہونے میں زیادہ وقت نہیں ہے۔سابق سفارتکار شاہد امین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عرب دنیا میں تاریخی تبدیلی کی ابتدا ہوگئی ہے۔ تیونس کے بعد اب مصر میں بھی ایسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ یمن اور لیبیا میں بھی مظاہرے ہورہے ہیں۔ تیونس، مصر اور یمن میں ایک چیز مشترک تھی کہ پچھلے 30,20 سال سے ایک ہی حکمران آمرانہ طریقے سے حکومت کررہا تھا۔ اب لوگ جمہوریت چاہتے ہیں اور ان کی جس آزادی کو چھین لیا گیا تھا وہ آزادی لوگ واپس مانگ رہے ہیں۔ لوگ چاہتے ہیں ایک نیا نظام آئے جو ان کی توقعات کے مطابق ہو۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی