|
امریکی ایجنسیوں سے تعاون پاکستان کے اسٹرٹیجک مفادات کیلئے خطرہ؟

24-02-08, 12:12 PM
امریکی ایجنسیوں سے تعاون پاکستان کے اسٹرٹیجک مفادات کیلئے خطرہ؟
اسلام آباد ( رپورٹ / انصار عباسی ) انسداد دہشتگردی میں ایف بی آئی اور سی آئی اے کی جانب سے فراہم کردہ قابل عمل خفیہ معلومات سے ہوسکتا ہے کہ پاکستان کو فائدہ ہوتا ہو لیکن اس کا ایک ممکنہ منفی پہلو زیادہ تر پاکستانیوں پر مشتمل سی آئی اے اور ایف بی آئی کے ایجنٹوں کے ایک وسیع نیٹ ورک کی تخلیق ہے۔ اگرچہ نائن الیون کے بعد پاکستان اور امریکا کے مابین خفیہ معلومات کے تبادلے میں اضافہ ہوگیا ہے جس کا ہدف طالبان اور القاعدہ تھی لیکن بہت سے پاکستانیوں کو خوف ہے کہ یہ نیٹ ورک دیگر مقاصد کے لئے بھی استعمال ہو رہا ہے اور ان میں سے کچھ غالباً ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کی تعریف میں آتے ہیں۔ ملک میں امریکی انٹیلی جنس نیٹ ورک کے پھیلاؤ کے حوالے سے پاکستان کے اعلیٰ حکام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اس کا علم رکھتے ہیں کیونکہ ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیز پہلے ہی اس معاملے کی اطلاع دے چکی ہیں حتیّٰ کہ امریکی خفیہ اداروں کے پے رول پر کام کرنے والے متعدد افراد کی شناخت بھی کر چکی ہیں۔ دیگر لوگوں کے علاوہ ریٹائرڈ فوجی افسران کی ایک بڑی تعداد جن میں سابق بریگیڈیر بھی شامل ہیں، امریکی جاسوسی اداروں کیلئے یہاں کام کر رہے ہیں۔ تاہم ایک انٹیلی جنس ایجنسی کے اہلکار نے وضاحت کی کہ مختلف ممالک کے خفیہ اداروں کے دنیا بھر میں نیٹ ورک ہوتے ہیں اور وہ اپنے وسائل اور ضروریات کے مطابق جاسوسی کے معاملات کو ہینڈل کرتے ہیں کیونکہ نائن الیون کے بعد جاسوسی کی اہمیت بہت بڑھ چکی ہے۔ پاکستان میں مبینہ طور پر القاعدہ طالبان کی موجودگی کی وجہ سے غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کردار یہاں بہت بڑھ چکا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف متنازع جنگ میں انٹیلی جنس تعاون کے حصے کے طور پر امریکا کو کچھ مراعات کی اجازت دی تھی لیکن کچھ سرکاری ذرائع کا خیال ہے کہ جن مراعات اور حدود پر اتفاق ہوا تھا ان پر عمل نہیں ہو رہا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے رابطہ کرنے پر کہا کہ ان کے پاس اس قسم کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور واشنگٹن کے مابین انٹیلی جنس تعاون ایک حقیقت ہے لیکن انہوں نے اس بات پر شک کا اظہار کیا کہ مقامی ایجنٹوں کو بھرتی کیا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے اندرونی معاملات میں کوئی غیرملکی ایجنسی مداخلت کر رہی ہے تو یہ غیر قانونی ہے اور اس کی اجازت نہیں دی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ ائی ایس پی آر اس قسم کے سوالات کے جواب دینے کی بہتر پوزیشن میں ہے۔ آئی ایس پی آر کے ڈی جی میجر جنرل اطہر عباس سے جب نائن الیون کے بعد پاکستان میں سی آئی اے اور ایف بی آئی کے مقامی ایجنٹوں کے وسیع پھیلاؤ کے خدشے کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ حکومت ملک میں سی آئی اے اور ایف بی آئی کو اپنا نیٹ ورک وسیع کرنے کی اجازت کبھی دے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کی تردید کرتے ہیں، لیکن ایک دفاعی ذریعے نے اس نمائندے کو حال ہی میں بتایا کہ دنیا بھر میں یہ ایجنسیوں کا معمول کا آپریشن ہوتا ہے کہ وہ ہر ملک میں جاسوسی کیلئے ایجنٹ بھرتی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آئی اور سی آئی اے کو پاکستان آ کر مقامی ایجنٹ بھرتی کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ یہ کام واشنگٹن میں بیٹھ کر بھی کر سکتے ہیں۔ ذریعے نے کہا کہ یہ چیزیں نہ تو طے شدہ اور نہ ہی تحریری شکل میں ہوتی ہیں لیکن یہ ہمیشہ ہوتا ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ عبوری وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ حامد نواز نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ امریکا کا اثر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے ہر ملک میں ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اس بات کو محسوس کیا جا رہا ہے کہ یہاں امریکی انٹیلی جنس ایجنٹوں کا نیٹ ورک پھیلتا جا رہا ہے تاہم انہوں نے آگاہ کیا کہ ان کے پاس اس کے ثبوت نہیں ہیں، جس سے وہ اسے ثابت کر سکیں۔ امریکی سفارت خانے کی پریس اتاشی الزبیتھ کولٹن نے اس نمائندے کی جانب سے اس سلسلے میں بھیجے جانے والے سوالات کے جواب میں کہا کہ سفارت خانہ میڈیا کے ساتھ انٹیلی جنس مسائل پر تبادلہ خیال نہیں کر سکتا۔ امریکی میڈیا کا ایک حصہ اس موضوع پر رپورٹنگ کرتا رہا ہے اس سلسلے میں سب سے اہم رپورٹ 2002 ء میں واشنگٹن پوسٹ کی تھی، جس میں بااثر اخبار نے دعویٰ کیا تھا کہ القاعدہ اور طالبان کے مفروروں کی نشاندہی میں آئی ایس آئی کی جانب سے تعاون میں کمی کے باعث امریکا نے پاکستان میں اپنا جاسوسی نیٹ ورک قائم کر لیا تھا۔ ایف بی آئی نے اسپائیڈر گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا جو سابق پاکستانی فوجی افسران اور دیگر پر مشتمل تھا۔ رپورٹ کے مطابق اسپائیڈر گروپ سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مقامی افراد کو بھرتی کرنے کیلئے بھی کہا گیا تھا۔ اسپائیڈر گروپ کے ارکان میں مسلم اور عیسائی ریٹائرڈ فوجی اور انٹیلی جنس افسران شامل تھے اور ان کو ایف بی آئی نے تربیت اور آلات فراہم کئے تھے۔ پس پردہ انٹرویو سے انکشاف ہوا ہے کہ آج سی آئی اے کا مقامی انٹیلی جنس نیٹ ورک ایف بی آئی کے نیٹ ورک سے کہیں زیادہ وسیع ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ابتدائی برسوں کے دوران قائم کردہ نیٹ ورک اب ملک میں بہت توسیع پا چکا ہے۔ ایک ذریعے نے ایک واقعے کا حوالہ دیا جس میں سی آئی اے کے حکام نے اپنے ہیڈ کوارٹر لینگلے، ورجینیا میں پاکستانی انٹیلی جنس افراد میں ایوارڈ تقسیم کئے تھے۔ ذریعے نے کہا کہ اس کی غالباً کوئی مثال نہیں ملتی۔ ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نے اس نمائندے کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رازداری کے ساتھ بتایا کہ جب وہ اپنے کیرئیر کے دوران دو مرتبہ فوجی تربیت کیلئے امریکا گئے تھے تو وہاں انہیں کھلے عام امریکا کیلئے کام کرنے کی پیشکش کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ” میری تعریف کی گئی اور کہا گیا کہ میں کیوں ان کے ساتھ شامل نہیں ہو جاتا“۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایک مرتبہ ایک اہلکار نے ان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنے سینئرز کو بتائے بغیر پاکستانی دفاع کے مسائل کے متعلق امریکا کو آگاہ کریں۔ ریٹائرڈ جنرل نے کہا کہ اُسی انٹیلی جنس اہلکار نے ان سے کہا کہ وہ اپنے بچوں کی بہتر تعلیم اور مستقبل کیلئے انہیں امریکا میں سیٹل کرا دیں ،انہیں کھلے عام کہا گیا کہ انہیں اخراجات کیلئے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|