|
امریکی حکومت کے واضح اشارے، ریمنڈ جاسوسی مشن پر تھا

02-02-11, 04:05 AM
کراچی(ٹی وی رپورٹ) جیوکے پروگرام ”آج کامران خان کے ساتھ“ میں لاہور میں فائرنگ کر کے 2پاکستانیوں کو ہلاک کرنے والے امریکی شہری کے معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کامران خان نے کہا کہ گرفتار امریکی شخص کے حوالے سے امریکی حکومت بار بار پاکستانی حکومت پر دباﺅ ڈال رہی ہے کہ اسے رہا کیا جائے، اسے تحفظ حاصل ہے گو کہ اس کے ہاتھوں سے دو پاکستانیوں کا قتل ہوا اور اس کے بعد امریکی سفارتخانے کی ایک گاڑی نے ایک پاکستانی کو روند ڈالا اور کئی پاکستانیوں کو زخمی کردیا۔ بار بار مطالبوں کے باوجود امریکی قونصل خانے نے وہ گاڑی اور ڈرائیور پنجاب پولیس کے حوالے نہیں کیا ہے۔ حکومت پاکستان کے بار بار کہنے کے باوجود امریکی قونصل خانہ اس بات پر قائم ہے کہ وہ نہ ڈرائیور اور نہ ہی وہ گاڑی پاکستان کے حوالے کرے گا۔ منگل کو پاکستان کی عدالت نے اس سلسلے میں اپنا پہلا فیصلہ دیا اور لاہور ہائیکورٹ نے حکومت پنجاب اور حکومت پاکستان کو پابند کیا کہ ریمنڈ ڈیوس کو امریکہ کے حوالے نہیں کیا جائے اور یہ پاکستان سے جا نہیں سکتا، اس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کردیا جائے لیکن اسی دوران بھانڈا پھوٹ گیا اور امریکی حکومت کی جانب سے واضح اشارے سامنے آگئے کہ ریمنڈ ڈیوس ایک امریکی جاسوس تھا اور امریکی خفیہ اداروں کیلئے کام کررہا تھا وہ جاسوسی مشن پر تھا۔یہ پاکستان میں کیا کررہا تھا یہ بتانے سے جب پاکستانی حکومت انکار کررہی ہے تو ظاہر ہے امریکی حکومت کیا بتائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پتا نہیں کتنے ایسے ریمنڈ ڈیوس ہیں جن کو ہماری حکومت نے اجازت دی ہے کہ پاکستان کی سرزمین کو استعمال کرے، جاسوسی کرے اور جو مشکوک شخص نظر آئے اسے گولی سے اڑادے۔ امریکی وزارت خارجہ میں ایک پریس بریفنگ میں اس سلسلے میں سوال جواب ہوئے جس سے واضح اندازہ ہوتا ہے کہ امریکیوں میں ہمت نہیں ہے کہ وہ کھل کر کہیں کہ یہ شخص جاسوس تھا اور پاکستان میں جاسوسی آپریشن پر تھا۔ امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان سے امریکی صحافیوں نے پوچھا کہ یہ امریکی پاکستان کے اس گنجان علاقے میں اسلحہ لے کر کیوں گھوم رہا تھا؟ لیکن امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔ ترجمان نے مختلف باتیں کہیں کہ وہ سفارتخانے کی تکنیکی اسٹاف کا ممبر تھا۔ ایک سوال ان سے اور پوچھا گیا کہ کیا سفارتخانے کا اسٹاف اور ممبران کو ہتھیار لے کر چلنے کی آزادی ہے؟ اس کا جواب بھی ترجمان نے نہیں دیا اور بات دائیں بائیں کردی۔ اسی طرح ایک اور اہم سوال امریکی صحافی کی جانب سے پوچھا گیا کہ اس واقعے میں یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ان کے ویزے کی لی گئی تصویر پر اگر نظر ڈالیں تو یہ صاف لگتا ہے کہ انہیں ایک آفیشل ویزا ضرور جاری کیا گیا لیکن ان کے پاس سفارتی ویزا نہیں تھا ، آپ کیوں انہیں سفارتکار کہہ رہے ہیں جبکہ ان کے پاس سفارتی ویزا ہی نہیں تھا، یہ بات ہماری سمجھ سے بالاتر ہے؟لیکن اس سوال کا بھی امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ اس کے بعد سب سے اہم سوال کیا گیا کہ کیا آپ اس اہلکار کا نام بھی بتائیں گے کیونکہ اس سے پہلے آپ نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس کا نام ریمنڈ ڈیوس ہے؟ جواب میں ترجما ن نے کہا کہ مجھے اس بات کی آزادی نہیں ہے کہ میں اس سلسلے میں ان کی شناخت آپ کے سامنے ظاہر کروں، میں ان کا نام نہیں لے سکتا۔ کامران خان نے مزید کہا کہ اس مسئلے کا حل یہی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکا میں قوانین موجود ہیں جس کی وجہ سے کوئی بھی امریکی شخص اور اہلکار اس امریکی شخص کا نام ظاہر نہیں کرسکتا جو خفیہ مشن پر ہو اور جس کی خفیہ شناخت اسے دی گئی ہو۔ اس کا اصل نام ظاہر کرنا امریکی قوانین کے تحت قانون توڑنے کے مترادف ہے۔ امریکا میں دو قوانین ہیں جاسوسی ایکٹ 1917 ءاور انٹیلی جنس شناخت اور حفاظتی ایکٹ 1982ءجس کے مطابق امریکا میں حکومت کیلئے کام کرنے والے خفیہ ایجنٹ کی اصل شناخت ظاہر کرنا قانوناً جرم ہے۔ اس لئے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ ریمنڈ ڈیوس جس کا اصل نام کچھ بھی ہو ایک امریکی جاسوس ہے اور پاکستان میں جاسوسی مشن پر تھا۔ دی نیوز پشاور کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر رحیم اللہ یوسف زئی نے ریمنڈ ڈیوس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستانی سرزمین امریکی جاسوسوں کے حوالے کی جاچکی ہے اور ہم اس کی طرف اکثر اشارہ بھی کرتے ہیں، لکھتے بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مانتے ہیں کہ تقریباً 200 امریکی اسپیشل فورسز کے لوگ ، ٹیکنیکل لوگ یہاں موجود ہیں اور پاکستان کی فرنٹیئر کور کو ٹریننگ دے رہے ہیں ۔ پشاور کے قریب ایک علاقہ ہے جہاں پر ان کی رہائش ہے۔ رحیم اللہ یوسف زئی نے بتایا کہ پچھلے سال فروری میں دیر کے ضلع میں تین امریکی فوجی مارے گئے اور دو زخمی ہوئے تھے۔ اس وقت پہلی بار یہ بات ظاہر ہوئی تھی کہ امریکی فوجی یہاں پر موجود ہیں ، جو پاکستانی لباس پہنتے ہیں، ٹوپیاں پہنتے ہیں، شاید مقامی زبان بولتے ہیں اور پاکستان کے فوجی ان کو لے کر گھومتے ہیں۔ پاکستانی حکومت عوام پر اعتماد نہیں کرتی اور اس بات کو چھپاتی ہے ۔رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا کہ پہلے ہماری حکومت نے اپنے شہریوں کو پکڑ کر امریکا کے حوالے کیا اور کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوئی۔ ظاہر ہے جب ہم خود اپنے قانون کا احترام نہیں کرتے تو امریکی بھی ہمارے قانون کو نہیں مانیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ایسی بھی اطلاعات ہیں ، میڈیا میں چھپی ہیں کہ امریکیوں کو جو ویزے ملتے ہیں اس میں بھی کافی خامیاں ہیں اور ایسی خبریں چھپی ہیں کہ ایوان صدر کے ذریعے لوگوں کو ویزے دیئے گئے، ان خبروں کی کبھی پوری تردید نہیں ہوئی۔ مصرکی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے پروگرام کے میزبان کامران خان نے کہا کہ انقلاب مصر آگے بڑھ رہا ہے اور پورے ملک میں کرفیو کے باوجود قاہرہ کی سڑکوں پر کئی لاکھ افراد موجود ہیں جو صدر حسنی مبارک کی رخصتی اور مصر میں مکمل تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ قاہرہ ، اسکندریہ کے علاوہ دوسرے شہروں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں ، مصر میں ٹرین سروسز بند اور فوج تعینات ہے۔ کامران خان نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ کئی شہروں میں موبائل فونز کو بھی بند کردیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی قاہرہ کے آزادی اسکوائر پر لوگوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جبکہ فوج ایک کونے میں کھڑی مظاہرہ دیکھ رہی ہے ۔ کامران خان نے کہا کہ کل تک جو تبدیلی کا مطالبہ کر رہے تھے انہوں نے ایک حد مقرر کردی ہے کہ حسنی مبارک جو 32 برس سے حکمران ہیں ان کو جمعے تک کا وقت دیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر ملک چھوڑ دیں ، دوسری جانب امریکا اپنا خصوصی سفیرمصر بھیج چکا ہے جبکہ 32 برس میں پہلی بار امریکا نے مصر سے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی بات کی ہے ۔ کامران خان نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اب کہتا ہے کہ وہ اب مصر کی عوام کے ساتھ ہے ، حکمرانوں کے ساتھ نہیں ہے ، حکمرانوں کے اہل خانہ رشتہ دار ملک چھوڑ چکے ہیں جبکہ امریکا اپنے شہریوں کو ملک چھوڑنے کا کہہ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصر میں اس وقت 50 ہزار امریکی موجود ہیں جو ملک چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں اور امریکی سفارتخانہ بھی خالی کیا جا رہا ہے اور غیر ضروری عملے کو مصر سے نکل جانے کا کہہ دیا گیا ہے۔ کامران خان نے مصر کی تازہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تبدیلی دستک دے رہی ہے ، اخوان المسلمین اور دیگر جماعتوں کے ہمراہ مصر کے عوام کرپشن، مہنگائی، حکومتی نااہلی ، ناانصافی کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تیونس میں بھی عوام نے صدر زین العابدین کو اس کے اہل خانہ کے ہمراہ ملک چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا جو مغرب کا سب سے بڑا اتحادی تھا۔ کامران خان نے کہا کہ آج اسی طرح کی تبدیلی اردن میں بھی دیکھنے میں آئی جہاں اردن کے بادشاہ شاہ حسین نے اپنی کابینہ اور وزیراعظم کو فارغ کردیا۔ اردن کے بادشاہ نے بھانپ لیا ہے کہ تبدیلی وہاں بھی آرہی ہے اور مصر جیسے مناظر اردن میں بھی دیکھنے میں آسکتے ہیں۔ کامران خان نے کہا کہ اردن کی حزب اختلاف کی جماعت اسلامک ایکشن فرنٹ نے شاہ حسین کی تبدیلی کو مسترد کردیا ہے اور وہاں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اسلامک فرنٹ کا کہنا ہے کہ وہ اردن میں مصر کی طرح مکمل تبدیلی چاہتے ہیں ۔ کامران خان نے مزید کہا کہ یمن میں بھی بے چینی پھیل رہی ہے اور وہاں سے بھی مظاہروں کی اطلاعات ہیں ، دوسری جانب امریکی نائب صدر جوزف بائیڈن نے کہا ہے کہ تیونس سے لے کر پاکستان تک ان حالات سے متاثر ہوسکتا ہے اور اس لئے اس خطے کے حکمرانوں کو اپنے رویوں پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ تیونس جیسے حالات مصر پھر مصر جیسے حالات اردن پھر اردن جیسے حالات یمن میں ہو رہے ہیں اور ایسے حالات پاکستان میں نہ ہوں اس بارے میں چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔ قاہرہ کے قریب زیاد سٹی میں رہنے والے ایک پاکستانی شہری علی ادریس نے بتایا کہ کرفیو دو تین دن سے لگا ہوا تھا اور کرفیو کا مقصد توڑ پھوڑ کو روکنا ہے ، مظاہرے کرفیو میں بھی ہو رہے تھے اور اب بھی ہو رہے ہیں ، ملین مارچ کی کال پر لوگ جمع ہو رہے ہیں۔ کامران خان کی جانب سے مصر کی فوج کے فیصلہ کن کردار اور اس کی عزت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں علی ادریس نے کہا جی ہاں عوام کا فوج کے ساتھ رویہ دوستانہ ہے 32 سال بعد مصر میں عوام کے بپھرنے کے حوالے سے علی ادریس نے کہا کہ بنیادی وجہ طویل خاموشی تھی جبکہ غربت اور ناامیدی ہی حکومت سے متنفر کرنے کی وجہ ہے۔ علی ادریس نے کہا کہ بے نظیر کے قتل کے بعد پاکستان میں بھی بڑی لوٹ مار ہوئی تھی کچھ لوگ احتجاج کرتے ہیں کچھ لوگ لوٹ مار کر رہے ہوتے ہیں اور ایسی صورتحال یہاں بھی ہوئی یہاں مصر کے بڑے شہروں میں کچھ لوگ مصر کی سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنا رہے تھے کچھ لوگ نجی کاروبار کو نشانہ بنا رہے تھے۔ کامران خان نے کہا کہ قاہرہ اس وقت عوام سے بھرا ہوا ہے اور قاہرہ کا آزادی اسکوائر میں لاکھوں مصری موجود ہیں۔ عوام کا مطالبہ تبدیلی ہے اس سے کم کچھ نہیں، انہوں نے کہا کہ حسنی مبارک جو امریکا کا سب سے بڑا کھونٹا ہے تیونس کے صدر زین العابدین کی طرح راہ فرار اختیار کریں ۔ کامران خان نے کہا کہ تبدیلی کی ہوا بہت تیز ہے آندھی چل رہی ہے ۔ کامران خان نے پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ نہ ہونے کا کریڈٹ ایم کیو ایم کو دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ماہ جب پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا تھا تو ایم کیو ایم نے اس پر اسٹینڈ لیتے ہوئے حکومت سے علیحدگی اختیار کرلیا تھا اور حکومت پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ واپس لینے پر مجبور ہوگئی تھی ۔ کل پھر ایک بار ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ شاید عالمی منڈی میں اضافے کے بعد حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرے لیکن یہ اضافہ پاکستانی عوام کو اس لئے منتقل نہ ہوسکا کہ پارلیمنٹ میں موجود جماعتوں نے اس پر ایک اسٹینڈ لیا اور متحدہ قومی موومنٹ نے حکومت کو ایک بار پھر یاد دلایا کہ وہ اس مسئلے پر حکومت سے علیحدہ ہوئی تھی اس لئے اسے سوچنا چاہئے کہ اگر اسے ایم کیو ایم کی حمایت چاہئے تو پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ نہ کرے بلکہ خزانے کو ہونے والے نقصان کو اور ذرائع سے پورا کرے ۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما بابر غوری نے کہا کہ مختلف پارٹیوں کی جو کمیٹی بنائی گئی تھی اس میں متحدہ کے نمائندے خواجہ سہیل منصور تھے جنہوں نے اسٹینڈ لیا کہ مہنگائی کی چکی میں پسے عوام اس پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ پبلک کارپوریشنز میں 300 ارب روپے کا خسارہ ہو رہا ہے اور ایف بی آر کی کرپشن میں 500 ارب روپے کا خسارہ ہو رہا ہے، شوکت ترین صاحب کہہ چکے ہیں کہ اس خسارے کو روکیں ہمارا بھی یہی موقف تھا کہ آپ عوام پر مہنگائی کا بوجھ نہ بڑھائیں اور آج ایم کیو ایم اور آئی ایم ایف کی ملاقات میں بھی ہم نے یہی کہا کہ آپ ٹیکس نیٹ کو بڑھائیں اور متحدہ نے حکومت کو جو 9 نکات دیئے تھے اس میں کہا گیا کہ آپ دوسرے ذرائع پیدا کریں۔ ریونیو حاصل کرنے کیلئے کرپشن کو ختم کریں تو یہ مسائل ہوں گے اور الحمد للہ عوام پر جو 9 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہونے جا رہا تھا وہ رک گیا اور یہ ایم کیو ایم کی بڑی کامیابی ہے اور ہم حکومت کے بھی شکر گزار ہیں کہ اس نے ہماری بات مانی ۔کامران خان نے اپنے تجزیے میں کہا کہ کرپشن کے خلاف اقدامات پر وزیراعظم صاحب نے مسلم لیگ (ن) کے قومی ایجنڈے سے اتفاق کرتے ہوئے 45 دن میں اقدامات پر عملدرآمد کا وعدہ کیا تھا اور شاید میاں نواز شریف کو یاد نہ ہو اب یکم فروری آگئی ہے اور خود مسلم لیگ (ن) میں کوئی بے چینی نظر نہیں آتی ہے ، نواز شریف کہہ چکے ہیں کہ موجودہ حکومت کی تبدیلی کسی بھی آئینی ، جمہوری یا قانونی طریقے سے ہوگی وہ پاکستان کیلئے خطرناک ہوگی اس کا مطلب یہ ہے کہ قومی ایجنڈے پر تھوڑا سا بھی عمل کیا جائے تو مسلم لیگ (ن) کی تسلی ہو جائے آثار ایسے ہیں۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,223 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|