واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


امریکی شہری کو رہا کرانے کےلئے امریکا کا پاکستان پر زبردست دباﺅ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 29-01-11, 03:27 AM   #1
امریکی شہری کو رہا کرانے کےلئے امریکا کا پاکستان پر زبردست دباﺅ
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 29-01-11, 03:27 AM

پاکستانی دفتر خارجہ سے امریکی محکمہ خارجہ کا اعلیٰ سطحی رابطہ، ریمنڈ کو سفارتی استثنیٰ دینے کا مطالبہ
اسلام آباد ( رپورٹ: .... انصار عباسی) واشنگٹن نے دو پاکستانی شہریوں کے امریکی قاتل کو حوالے کرنے کےلئے پاکستان پر دباﺅ ڈالنا شروع کردیا ہے۔ دفتر خارجہ کے باخبر ذرائع نے اس نمائندے کو بتایا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے پاکستان کے دفتر خارجہ پر زبردست دباﺅ ہے کہ امریکی قاتل کو رہا کروایا جائے۔ امریکی محکمہ خارجہ اس کوشش میں مصروف ہے کہ وہ قاتل ریمنڈ ڈیوس کےلئے سفارتی استثنیٰ حاصل کرلے حالانکہ پاکستان کا دفتر خارجہ ریمنڈ ڈیوس کو سفارت کار تسلیم نہیں کرتا۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ اور پاکستان کے دفتر خارجہ کے درمیان ایک اعلیٰ سطح کا رابطہ ہوا ہے جس میں قاتل تک قونصلر کی رسائی اور اسے سفارتی استثنیٰ فراہم کرنے کو کہا گیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ دفتر خارجہ نے وفاقی حکومت کو بتایا ہے کہ جمعرات کو لاہور میں تین میں سے دو پاکستانی باشندوں کا امریکی قاتل کوئی سفارت کار نہیں ہے لہٰذا اسے سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں ہے اور اس امریکی شخص نے ملک کی زمینی حدود میں اپنے ساتھ اسلحہ رکھ کر پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ وزیراعظم سیکریٹریٹ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ کو اس معاملے پر دفتر خارجہ نے ایک بریفنگ دی ہے اور انہیں بتایا گیا ہے کہ ملک میں سفارت کاروں کو بھی یہ اجازت حاصل نہیں ہے کہ وہ سفارت خانے یا قونصل خانے کے باہر لائسنس والا کوئی بھی ہتھیار اپنے ساتھ رکھیں۔ جمعرات کو دن دہاڑے لاہور میں امریکی قونصل خانے کی جیپ نے ایک شخص کو کچل دیا جبکہ 2 افراد کو لٹیرا قرار دے کر قتل کرنے والے امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس نے ابتدائی طور پر لاہور پولیس کو بتایا کہ وہ تکنیکی معاون ہے لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ”بزنس آفیشل“ ویزے پر پاکستان آیا تھا۔ ریمنڈ ڈیوس کے پاس سفارتی پاسپورٹ ہے لیکن اس کے پاس سفارتی ویزا نہیں ہے، اسی ویزے کے تحت اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت سفارت کاروں کو سفارتی استثنیٰ ملتا ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کے پاسپورٹ کے آخری صفحے پر محکمہ خارجہ کا توثیق نامہ چسپاں ہے کہ حامل ہذا سفارتی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا ذمہ دار ہے لیکن پاکستانی سفارت خانے نے انہیں سفارتی ویزا نہیں دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ دفتر خارجہ نے واضح طور پر وزیرداخلہ کو بتایا ہے کہ امریکی قاتل کے پاس سفارتی استثنیٰ نہیں ہے۔ پولیس کو خدشہ ہے کہ ریمنڈ ڈیوس خفیہ(Undercover) ایجنٹ ہے۔ جائے وقوع پر مشتعل ہجوم کی جانب سے فرار ناکام بنا کر پکڑے جانے کے بعد ریمنڈ ڈیوس نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا۔ پنجاب حکومت نے امریکی حکام سے رابطہ کرکے ان سے وہ گاڑی اور ڈرائیور حوالے کرنے کےلئے رابطہ کرلیا ہے جو ریمنڈ ڈیوس کو بچانے کےلئے سڑک کی دوسری لیکن غلط طرف سے آرہی تھی؛ اسی گاڑی نے ایک شخص کو کچلا تھا۔ یہ گاڑی ریمنڈ ڈیوس تک پہنچ نہ پائی لیکن موقع سے فرار ہوکر امریکی قونصل خانے کی حدود میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی۔ گزشتہ سال ڈنمارک کے دو سفارت کاروں کو رنگے ہاتھوں دستی بموں اور اسلحہ کے ساتھ اسلام آباد میں پکڑا گیا تھا لیکن انہیں بغیر کسی کارروائی کے چھوڑ دیا گیا حالانکہ دفتر خارجہ کے ترجمان نے واضح بیان دیا تھا کہ کوئی بھی غیر ملکی سفارت کار، چاہے وہ امریکی ہو یا ڈچ، پاکستان کی زمینی حدود میں اسلحہ لے کر چلنے کا مجاز نہیں۔ اُس وقت دفترخارجہ کے ترجمان عبدالباسط خان کے حوالے سے بیان آیا تھا کہ جو سفارت کار اب بھی اپنے ساتھ اسلحہ لے کر چلتے ہیں وہ پاکستانی قانون کے خلاف کام کررہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ سال ڈنمارک کے سفارت کاروں کے معاملے میں سیکریٹریٹ پولیس نے رسمی طور پر ان کے خلاف شکایت درج کی تھی اور امریکی سفارت خانے کے مقامی ملازم سنی کرسٹوفر کو غیرضروری طور پر ڈچ سفارت کاروں کے معاملے میں مداخلت کرنے پر نامزد کردیا تھا۔ چند اخبارات نے ڈنمارک اور امریکا کے درمیان تعلق کا ذکر بھی کیا گیا تھا۔ چند ایک نے الزام عائد کیا تھا کہ ڈچ سفارت کار امریکی سفارت خانے کو ہتھیار منتقل کررہے تھے۔ تاہم، امریکی سفارت خانے کے ترجمان نے ان اطلاعات کی تردید کی تھی۔ اگرچہ لاہور میں امریکی حکام سفارت کاروں کی حالیہ ”مہم جوئی“ انتہائی سنجیدہ نوعیت کا واقعہ ہے لیکن یہ اطلاعات آتی رہتی ہیں کہ امریکی حکام سفارت کار اکثر اپنے ساتھ اسلحہ لے کر چلتے ہیں۔ 23 جون 2003ءکو دی نیوز میں شائع ہونے والی ایک انٹیلی جنس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ خیبر پختونخوا سے آنے والی ایک ڈبل کیبن گاڑی گولڑہ کے قریب ایک پولیس چوکی سے گزری جہاں پولیس نے اس گاڑی کو رکنے کا اشارہ دیا لیکن وہ نہیں رکی۔ پولیس نے اگلی چوکی کو وائرلیس پیغام بھیجا کہ یہ مشکوک گاڑی ہے اور اسے روکا جائے۔ یہ پیغام خیبر چوک G-9/4 چوکی کو ملا۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ گاڑی میں تین امریکی سفارت کار، جن کے نام مسٹر جیفری، مسٹر جیفڈک اور مسٹر جیمس بل کوئین تھے، اور ایک ڈرائیور چارلی بینزک سوار تھے۔ ان تمام افراد کا تعلق امریکی سفارت خانے کے ریجنل سیکورٹی سیکشن سے تھا۔ انہوں نے شلوار قمیض پہن رکھی تھی اور ان کے چہرے پر داڑھی تھی، انہوں نے اپنا حلیہ پٹھانوں جیسا بنا رکھا تھا اور ان کے پاس چار عدد M-4 مشین گن اور 9 ایم ایم کے پستول تھے۔ تاہم، ایس پی صدر کی مداخلت پر ان لوگوں کو جانے دےا گیا۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2009ءکو اسلام آباد کے انسپکٹر حاکم خان اپنی اہلیہ کے ہمراہ اپنی نجی گاڑی میں امریکی سفارت خانے کے قریب ایک چوکی سے گزر رہے تھے کہ انہیں ایک امریکی سیکورٹی عہدیدار جان آرسو نے روکا اور انہیں گالیاں دیں۔ جب پولیس انسپکٹر نے جان آرسو کو بتایا کہ وہ کھلی سڑک پر گاڑیوں کی تلاشی لینے کے مجاز نہیں ہیں تو اس نے اپنا پستول نکال لیا اور بتایا کہ وہ پاکستان میں کچھ بھی کرسکتا ہے۔ حاکم خان نے بعد میں رسمی طور پر اپنے سینئرز کو اس واقعے کی شکایت کی۔ اس وقت بھی امریکی اہلکار کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی تھی اور اسے واشنگٹن بھیج دیا گیا تھا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق تجویز آئی تھی کہ مسٹر جان آرسو کو ناپسندیدہ شخص (Persona Non Grata) قرار دیدیا جائے اور یہ معاملہ دفتر خارجہ بھجوادیا گیا تھا۔ اس سے قبل کہ کوئی کارروائی ہو، اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں اور امریکی سفارت خانے نے سمجھوتا کرکے معاملہ ختم کردیا۔ 12 اگست 2009ءکو ایک اور واقعے میں اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں رہائش پذیر ایک نوجوان پاکستانی لڑکا اپنے دو دوستوں کے ہمراہ کار میں امریکی سفارت خانے کے ساتھ ایک چوکی کے قریب سے گزر رہا تھا کہ اسی سڑک پر اپنی اہلیہ کے ہمراہ ورزش کر رہے ایک امریکی فوجی نے ان کی گاڑی روک کر اس کا سائیڈ کا شیشہ توڑ دیا۔ رپورٹ کے مطابق، فوجی نے لڑکے اور میزبان ملک کو بھی گالیاں دیں۔ تینوں لڑکوں نے جب احتجاج کیا تو امریکی فوجی نے چوکی پر موجود گارڈز کی مدد سے انہیں پکڑ لیا۔ انہیں چالیس منٹ بعد یہ انتباہ دے کر چھوڑ دیا گیا کہ آئندہ وہ اس سڑک پر گاڑی نہیں چلائیں گے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,223 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 63
Reply With Quote
گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا
شمشاد احمد (29-01-11)
جواب

Tags
color, کوشش, کنونشن, پولیس, پاکستان, پاکستانی, ڈنمارک, واشنگٹن, ورزش, وزیراعظم, نیوز, موقع, منتقل, معلوم, اقوام متحدہ, الزام, انتباہ, احتجاج, اسلام, اعلیٰ, خلاف, داڑھی, سال, شخص, صدر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
فتح کو ترس آ گیا ، پاکستان سے برطانیہ کو پہلی شکست جاویداسد خبریں 3 18-09-10 09:11 PM
پاکستان: ایک ناکام ریاست حیدر اپکے کالم 20 26-05-10 05:47 AM
ایٹمی اسلحے خانے کی براہ راست رسائی ،امریکی درخواست آج مسترد کردیجائیگی عبدالقدوس خبریں 3 16-04-08 06:23 PM
نواز ، بے نظیر کے دھاندلی کے بیانات شکست کی تیاریاں ہیں،پاکستان میں عدم استحکام پیدا کیا گیا تو امر یکا کو بعد میں پشیمانی ہو گی،صد ر پر وی خرم شہزاد خرم خبریں 0 10-12-07 08:36 AM
ذیل میں صوبہ بلوچستان، پاکستان کے شہروں کی فہرست ہے۔ خرم شہزاد خرم میرا پاکستان 0 11-10-07 09:06 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:37 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger