السلام علیکم
امریکی سفارتخانے کی ایک اعلٰی عہدیدار نے کہا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کیس کی سماعت پاکستانی عدالتوں کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے اور امریکہ عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرسکتا ہے۔ دوسری طرف امریکی قونصل جنرل نے کوٹ لکھپت جیل میں ریمنڈ سے پھر ملاقات کی ہے
اسلام آباد میں اعلٰی امریکی عہدیدار نے صحافیوں کے ایک گروپ سے بات چیت میں کہا کہ ویانا کنونشن کے تحت ریمنڈ ڈیوس کو ہر قسم کی فوجداری تحقیقات کے خلاف استثنٰی حاصل ہے۔ معاملے کو دو طرفہ طور پر حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ بات نہ بنی تو بین الاقوامی عدالت انصاف میں جانے کا آپشن استعمال کیا جا سکتا ہے۔ امریکی سفارتی ذرائع نے امید ظاہرکی کہ پاکستان ویانا کنونشن کی پاسداری کرتے ہوئے ریمنڈ ڈیوس کا سفارتی استثناء تسلیم کرے گا۔امریکی سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان ریمنڈ ڈیوس کو زیادہ سے زیادہ نا پسندیدہ شخصیت قرار دیکر ملک چھوڑنے کا حکم دے سکتا ہے۔۔سفارتی ذرائع نے مزید کہا کہ ریمنڈ ڈیوس کو عارضی ذمہ داری پر لاہور بھیجا گیا اور اس کے استثناء کے لئے وزارت خارجہ کا کارڈ ضروری نہیں ۔ سفارتی ذرائع نے مزید کہا کہ ریمنڈ کی شناخت کے لئے اسکے بیان اور وقوعے کے روز امریکی سفارتخانے کے بیان کی حیثیت نہیں ۔ ریمنڈ ڈیوس کی شناخت کے لئے سفارتخانے کا بیس جنوری 2011 کا خط ہی اصل دستاویز ہے جو اسے ہر قسم کا استثنٰی فراہم کرتا ہے۔ دوسری طرف امریکی قونصل جنرل نے کوٹ لکھپت جیل میں ریمنڈ سے پھر ملاقات کی ہے ۔ دو گھنٹے جاری رہنے والی ملاقات میں ریمنڈ کو کھانا بھی دیا گیا۔کھانے میں برگر منرل واٹر اور چاکلیٹ شامل تھے کارمیلا کانرائے کے ہمراہ قونصلیٹ کے افسر بھی تھے ۔
دُنیانیوز
والسلام
زارا