واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


امریکی معیشت روبہ زوال

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-06-11, 11:43 AM   #1
امریکی معیشت روبہ زوال
ALI-OAD ALI-OAD آن لائن ہے 19-06-11, 11:43 AM

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ فوجی قوت کیساتھ ساتھ اقتصادی ومعاشی حالت بھی قوموں کے عروج وزوال کا سبب بنتی ہے۔ اگر امریکہ تقسیم ہوکر مختلف ریاستوں میں بٹ جاتا ہے تواس کی سب سے بڑی وجہ وہاں جاری بدترین معاشی بحران بھی ثابت ہوگا جس سے بچنے کیلئے عوام دیگر ممالک کی نوآبادیاں بننا بڑے شوق سے پسند کریں گے۔جس طرح دنیا کا کوئی علم و فن اور نظام بغیر محنت اور جستجو کے حاصل نہیں ہوسکتا، ٹھیک اسی طرح معاشی نظام بھی خود بخودسمجھ میں نہیں آسکتا۔مثال کے طور پراگر ایک غریب آدمی کسی مال دار کے پاس جاکر اپنی بے بسی اور بے کسی کا تذکرہ کرتے ہوئے اس سے قرض مانگے اور مال دار اس کی مدد کرنے یا قرض حسنہ دینے کی بجائے یہ کہے کہ میں تمہاری مدد کرنے کو تیار ہوں، مگر اس ناجائز شرط پر کہ تمہیں قرض پر ماہانہ یا سالانہ اتنا، اتنا فیصد اضافی رقم دینا ہوگی، اب مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق، غریب نے قرض لے لیا، تو ایک طرف مال دار کا سرمایہ محفوظ ہوگیا اور دوسری طرف اس کو اس پر ماہانہ یا سالانہ اضافہ بہ شکل سود بھی ملنا شروع ہوگیا، یوں امیر، امیر تر ہونا شروع ہوگیا، دوسری طرف غریب مقروض زندگی بھر کما کما کر سود خور قرض خواہ کو دیتا رہے گا، یوں وہ غریب سے غریب تر ہوتا چلا جائے گا۔ کیا دنیا بھر میں جاری موجودہ بینکاری نظام اسی طرح کا نہیں؟اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ربا اور سود کی کون کون سی شکلیں ہیں؟ دراصل جو چیزیں ناپ کر یا تول کر فروخت کی جاتی ہیں، جب ان کا تبادلہ ان کی جنس کے ساتھ کیا جائے تو ضروری ہے کہ دونوں چیزیں برابر، برابر ہوں اور یہ معاملہ دست بدست کیا جائے۔ اس میں ادھار بھی ناجائز اور کمی بیشی بھی ناجائز ہے۔چنانچہ اگر گیہوں کا تبادلہ گیہوں کے ساتھ کیا جائے تو دونوں باتیں ناجائز ہوں گی، یعنی کمی، بیشی بھی ناجائز اور ادھار بھی ناجائز اور اگر گیہوں کا تبادلہ مثلاً جو کے ساتھ کیا جائے تو کمی بیشی جائز ہے مگر ادھار ناجائز ہے جن کو برابر، برابر اور دست بدست فروخت کیا جائے، اگر ان کے آپس کے تبادلہ کے وقت کمی بیشی کی گئی یا ادھار کیا گیا تووہ تباہی لائے گا۔اصول تو یہ ہے کہ سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلہ، گیہوں گیہوں کے بدلے، جو جوکے بدلے ، کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے فروخت کیا جائے تو برابر ہونا چاہئے اور ایک ہاتھ سے لیا اور دوسرے ہاتھ سے دیا جائے، ان میں ہر طرح کی کمی بیشی سود ہے چونکہ بینکوں میں بھی نقد رقم یا چیک دے کر اس کے بدلے میں نقد رقم پر اضافہ وصول کیا جاتا ہے، اس لئے سود اور ناجائز ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عالمی مالی بحران کی اصل وجہ کیا ہے؟امریکہ کا ناقص معاشی نظام! دراصل دنیا کو نئے معاشی نظام کی ضرورت ہے کیونکہ امریکہ کے ناکام اقتصادی نظام کی پیروی عالمی مالی نظام کے انحطاط کا سبب بن رہی ہے۔ عالمی منڈیوں پر سے امریکی اقتصادی نظام کے مضر اثرات کا خاتمہ ناگزیر ہوگیا ہے۔
امریکہ وہ ملک ہے جس نے آزاد منڈی کی تجارت کو فروغ دیا جسے آج مارکیٹ اکانومی یا ملٹی نیشنل کمپنیوں کی معیشت بھی کہا جاسکتا ہے۔ موجودہ عہد کی واحد’سپرپاور‘کی معیشت فی الوقت دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے جس کی سالانہ مجموعی ملکی پیداوار یعنی جی ڈی پی امریکی حکومت کے مطابق سالانہ 14کھرب ڈالر سے زائد ہے لیکن اس عالمی طاقت کا معاشی جہاز تیزی سے ڈوبتا چلاجارہا ہے اورامریکی معیشت موجودہ دہائی کے بدترین مندے میں مبتلاہے، صرف 2008 میں اسے ہی 484ارب ڈالر کے بجٹ خسارے کا سامنا ہواجس کی وجوہات میں افراط زر، ہاوسنگ قرضوں کی مارکیٹ میں شدید بحران، تیل کی بلند قیمتیں اور سرمایہ کاروں کا متزلزل اعتماد ہے۔ بیشتر ماہرین کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے مزیدکساد بازا ری میں چلے جانے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ اسی طرح تیل یا ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار خود امریکہ کی طرف سے عراق و افغانستان پر حملہ ہے، افغانستان پر 2002اور 2008میں حملہ کے باعث پہلی بار امریکہ میں افراط زریا مہنگائی کی شرح 5فیصد سے زیادہ ہوچکی ہے جس کے باعث امریکی شہریوں کی قوت خرید متاثر ہوئی ہے۔اس پر سارا امریکہ چیخ رہاہے، اس میں امیر اور غریب دونوں شامل ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق افغانستان پر امریکی حملے کے بعد 2002سے 2006 تک 99فیصد امریکیوں کی سالانہ آمدنی میں ایک فیصد اضافہ ہواجبکہ سارا فائدہ ملک کی مجموعی آبادی کے ایک فیصد حصے خاص طور پر اسلحہ ساز اداروں اور دفاعی امور سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کو ہواہے جن کی سالانہ آمدن میں گیارہ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح 2002کے بعد سے امریکہ میں بیروزگاری میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جو جولائی فروری 2009میں 8.1 فیصد کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ امریکی ادارے برائے محنت کے مطابق محض فروری میں 60ہزارسے زائد امریکیوں کو اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں۔
عراق اور افغانستان میں جاری کارروائیوں اور وہاں تعینات امریکی افواج کے علاوہ ملکی طور پر صحت اور فلاح کے کاموں پر ہونے والے روزانہ کی بنیادوں پر اربوں ڈالر کے ماہانہ اخراجات نے امریکی معیشت کو ہلا کررکھ دیا ہے جبکہ مجموعی طور پر ان جنگوں میں 30کھرب ڈالرکے اخراجات اٹھائے جاچکے ہیں۔ دیگر اخراجات کا تو کوئی حساب نہیں ہے۔ ان اخراجات کے باعث امریکی حکومت کے قرضوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور ’عظیم امریکہ‘اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک ہے جہاںامریکی وزارت خزانہ کے مطابق جنگی اور دیگر اخراجات پورا کرنے کیلئے روزانہ دوارب ڈالر مختلف عالمی اداروں سے بطورقرض حاصل کئے جارہے ہیں۔ محض 2008 کے دوران ہی 10کھرب ڈالر سے زائد کے قرضے لئے گئے تھے۔ اس کے علاوہ جوچیز امریکی معیشت کوتباہی کی طرف لے کرجارہی ہے وہ بدعنوانی اور اقربا پروری ہے۔دسمبر 2008میں امریکی جریدے ٹائمز میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں کھل کر بتایا گیا تھا کہ جارج بش انتظامیہ نے صرف 2008کے دوران عراق کی تعمیر نوکیلئے مختص کئے گئے 170ارب ڈالر سے بدعنوانی، اقربا پروری، نااہلی اور کھلے عام چوری کے ذریعے امریکی عوام کے ٹیکسوں کی آمدنی کوخرچ کیا ہے۔ عراق 2003-04پر حملے کے وقت تیل بیس سے تیس ڈالرفی بیرل کے قریب تھاجس کی قیمتوں میں جو اضافہ ہوا وہ پھر کم نہیں ہوسکا۔ اندرونی طور پر امریکی معیشت کو چین کی ابھرتی ہوئی معیشت سے بھی خطرہ لاحق ہوچکاہے جو آہستہ آہستہ امریکی برآمدی منڈیوں پر قبضہ کرتا چلاجارہا ہے جبکہ امریکہ کی معیشت کا انحصار چین کی سرمایہ کاری پر ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ چین اشتراکی نظام کو چھوڑ کر سرمایہ دارانہ نظام کی طرف بڑھ رہاہے، اور اس نظام کے خالق کی معیشت کو خود اپنی تخلیق کی وجہ سے زوال کا سامنا ہے۔ مجموعی طور پر اس وقت امریکی معیشت دباوکی شکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاںطبقاتی تقسیم کا فرق واضح نظرآنے لگا ہے۔بیروزگاری میں اضافے کے نتیجے میںجرائم کی شرح میں سوفیصداضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس وقت ہر پچاس میں سے ایک امریکی بچہ بے گھر ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس کی یہ رپورٹ امریکہ کے قومی مرکزبرائے بے گھرافراد کے اعدادوشمار سے مرتب کی گئی ہے جس میں 2005-06کے دیئے گئے اعدادوشمارکے مطابق پندرہ لاکھ بچے بے گھر ہیں،اب اس مسئلے میں بیروزگاری میں اضافے اور معاشی بحران میں شدت کی وجہ سے مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
اب یہ توواضح ہے کہ جب بڑی تعداد میں بچے بے گھر ہوں گے تومستقبل میں جرائم کی شرح میں کتنا اضافہ ہوسکتا ہے؟یہ وہ معاشی منظرنامہ ہے جس کے باعث یہ امر یقینی ہے کہ جلد ہی امریکی عوام اپنے مستقبل کے تحفظ کیلئے سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ عوامی حقوق کی یہ جنگ خانہ جنگی کی صورت اختیار کرکے امریکہ کوکئی ٹکڑوں میں تقسیم کرسکتی ہے۔امریکی حکمران بھی اس صورتحال سے بخوبی آگاہ ہیں۔غیرتصدیق شدہ میڈیا رپورٹس کے مطابق 2008 کے دوران امریکی حکومت کی جانب سے بیس ہزار فوجیوں پر مشتمل ایسا دستہ بنایا گیا ہے جنھیں شہریوں کی جانب سے ممکنہ خانہ جنگی سے نمٹنے کیلئے آئندہ تین سال تک تربیت دی جائے گی۔




بشکریہ ہفت روزہ جرار
والسلام علی اوڈ راجپوت
ali oadrajput
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)

Last edited by ALI-OAD; 19-06-11 at 11:47 AM..

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,692
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 175
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (19-06-11), mama_shalla (19-06-11), shafresha (19-06-11), skjatala (19-06-11), یاسر عمران مرزا (19-06-11), سام (19-06-11), عروج (19-06-11)
پرانا 19-06-11, 02:53 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مقام: Dubai
مراسلات: 761
کمائي: 15,408
شکریہ: 2,135
582 مراسلہ میں 1,661 بارشکریہ ادا کیا گیا
dxbgraphics کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں dxbgraphics کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سنا ہے امریکہ مستقبل میں پانچ ٹکڑوں میں تقسیم ہوجائے گا۔۔
































انشاء اللہ
dxbgraphics آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے dxbgraphics کا شکریہ ادا کیا
shafresha (19-06-11), skjatala (19-06-11), سام (19-06-11)
پرانا 19-06-11, 04:41 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

روس سے زیادہ ٹکڑے بنیں گے ان شاءاللہ ۔ جو'' حدّ '' سے آگے بڑھے گا ا للہ کی پکڑ تو ھو گی نا۔
__________________
اے اللہ میرےوالدین پر رحم فرما۔ جیساکہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔ آمین۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا
shafresha (19-06-11), سام (19-06-11)
پرانا 19-06-11, 05:33 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 1,217
کمائي: 17,977
شکریہ: 2,337
914 مراسلہ میں 2,333 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

امریکہ کاجوبنےسوبنے،ابھی تواپنی پڑی ہے۔ایک بازوپہلےجاچکاہےاور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ا
سام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سام کا شکریہ ادا کیا
shafresha (19-06-11), فیصل ناصر (19-06-11)
پرانا 19-06-11, 05:46 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 1,217
کمائي: 17,977
شکریہ: 2,337
914 مراسلہ میں 2,333 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مولانامودودی: کاایک اقتباس سالوں پہلےپڑھاتھاجس میں کچھ پیش گوئیاں تھیں کہ ایک وقت آئےگاجب اشتمالیت واشتراکیت کوussrمیں اورسرمایہ دارانہ نظام کوامریکہ میں پناہ نہ ملےگی۔اسوقت ussr سفیدریچھ کی ماننداجلا بڑااورطاقتورنظرآتاتھااب روس کی سرحدوں میں مقیدہوگیاہے۔ہرکمال کوزوال ہے امریکہ کی باری بھی آئےگی ابھی تواپنی حالت زیادہ قابل رحم ہے۔
سام آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سام کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (19-06-11), shafresha (19-06-11), فیصل ناصر (19-06-11), راجہ اکرام (19-06-11)
پرانا 19-06-11, 10:45 PM   #6
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,648
شکریہ: 9,805
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ان کی معیشت اتنی بڑی ہے کہ ڈوبتے ڈوبتے بھی 20 سے تیس سال نکال جائے گی۔ اور اگر ان بیس تیس سال میں کوئی سدھار آ گیا تو مزید دس بیس کا آضافہ کر لیں۔۔۔ نا تو قوم ایک دم سے ترقی کرتی ہے اور نہ ہی کوئی قوم ایک دم سے ڈوب جاتی ہے اس میں صدیوں کا ریاض لگتا ہے۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
راجہ اکرام (19-06-11), سام (20-06-11), عبدالقدوس (19-06-11)
پرانا 19-06-11, 10:59 PM   #7
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,220
شکریہ: 25,210
16,393 مراسلہ میں 41,640 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

امریکہ برف کا پہاڑ ہے جسے پگھلتے پگھلتے کچھ وقت تو لگے گا۔ لیکن اس کی جنگ سے محبت اور دوسروں کو اپنا تابع بنانے کی خواہش اس پہاڑ کو جلد پگھلانے میں بہت اہم کردار ادا کرے گی۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (19-06-11), سام (20-06-11), عبدالقدوس (20-06-11)
جواب

Tags
فن, فروخت, کراچی, پہچان, پاک, پسند, لڑکی, چین, مہنگائی, مکمل, موجودہ, محبت, آج, اللہ, انتظامیہ, امریکہ, اعلیٰ, توحید, تعلیم, حدیث, خواتین, دیکھو, روزہ, سرمایہ دارانہ, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
احمد ندیم قاسمی کی لازوال تحریر سیپ اردو ادب سے اقتباسات 2 25-03-11 06:56 PM
سیلاب متاثرین کو عید سے پہلے امداد ملے گی۔۔۔۔ مگرکونسی عید سے پہلے جاویداسد خبریں 0 09-09-10 02:23 PM
سعودی عرب میں عید جمعہ کو ہو گی۔عیدکا چاند نظر نہیں‌آیا پاکستا ن کا چاند دیکھے گا جاویداسد خبریں 0 08-09-10 10:43 PM
ایمان کا کمزور ترین درجہ sahj مطالعہ حدیث 0 14-12-09 04:32 PM
انسانی کمزوریاں Real_Light عمومی بحث 0 21-04-08 09:53 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:39 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger