|
امریکی پیغام: الیکشن میں حصہ لینے کیلئے بینظیر اپنے رفقا سے مشورہ کرینگی

20-11-07, 09:42 AM
کراچی( جنگ اسپیشل رپورٹ) امریکا کی طرف سے اعتدال پسندوں کو ایک دوسرے سے اشتراک کا پیغام دوبارہ ملنے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی تاحیات چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو اپنے سینئر رفقا اور سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان سے مشورہ کریں گی کہ پی پی پی کو 8جنوری 2008ء کے ایسے انتخابات میں حصہ لینا چاہئے جن میں ایمرجنسی کے تحت انعقاد میں دھاندلی کے امکانات ہیں یا تمام سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مل کر بائیکاٹ کرنے اور جمہوریت کی بحالی کیلئے طویل جدوجہد کیلئے تیار ہونا چاہئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے اعلیٰ سطح ذرائع کا کہنا ہے کہ انتخابات میں حصہ لینا یا نہ لینا کوئی آسان فیصلہ نہیں ہے ۔ پارٹی کے سینئر رہنماؤں میں سے ایک معتدل تعداد انتخابات میں حصہ لینے کے حق میں ہے کیونکہ وہ دوسروں کیلئے میدان خالی نہیں چھوڑنا چاہتے۔ 1985ء کے انتخابات میں بائیکاٹ کے تلخ تجربے ان کے ذہنوں میں ابھی تک موجود ہیں۔ انتخابات کے حامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس طرح ہم عوام سے رابطہ بھی کر سکیں گے اور اپنے ووٹ بینک کو سرگرم کرکے اپنی حمایت تک محدود کر سکتے ہیں۔ دوسرے حلقے کا خیال ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ اور عبوری آئینی حکم کی موجودگی میں انتخابات میں شرکت سے پارٹی کے جمہوری تشخص کو بہت زیادہ نقصان پہنچے گا اور ملک میں اسوقت جنرل مشرف اور سیاسی امور میں فوجی مداخلت کے خلاف جو فضا قائم ہے ، سول سوسائٹی کے سرگرم ارکان بالخصوص وکلا اور صحافی مکمل جمہوریت کیلئے جو تحریک چلائے ہوئے ہیں وہ سیاسی پارٹیوں کی حمایت نہ ہونے سے سرد پڑ جائے گی ہمیں ان عوامی جذبات کو تقویت پہنچا کر ایک بڑی سیاسی تحریک میں تبدیل کر دینا چاہئے، پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم رہنماؤں سمیت 18ہزار سیاسی کارکن پاکستان بھر کی جیلوں میں بند ہیں، ان کی قربانیوں کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت ابھی تک یہ یقین نہیں حاصل کرسکی کہ بائیکاٹ میں تمام قومی سیاسی جماعتیں شریک ہوں گی یا نہیں۔ اعلیٰ سطحی ذرائع کا کہنا ہے کہ 10ارب ڈالر دینے کے باوجود اگر صدر جنرل پرویز مشرف امریکا کی بات نہیں سنتے تو ان پر قومی سیاسی جماعتوں کا کیا اثر ہو سکتا ہے ، ابھی تک یہی محسوس ہو رہا ہے کہ امریکا مشرف کو پوری طرح چھوڑنے کو تیار نہیں ہے ، اس صورتحال میں کیا ساری قابل ذکر جماعتیں الیکشن میں حصہ لیں گی یا بائیکاٹ کریں گی ، ان حلقوں کا تاثر یہ ہے کہ صرف پاکستان مسلم لیگ (ن) آخر تک بائیکاٹ کے فیصلے پر قائم رہ سکتی ہے ۔ دوسری جماعتیں کسی صورت میں انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کریں گی ، اس لیے پارٹی کے ایک حلقے کا اصرار ہے کہ انتخابات میں حصہ لیا جائے ، عوام سے رابطہ رکھا جائے، دھاندلی کی صورت میں بعد میں بھی اسی عوامی رابطے کی بنیاد پر تحریک چلائی جا سکتی ہے جو موجودہ حالت میں تحریک چلانے کی نسبت زیادہ نتیجہ خیز ہوگی۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|