واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


امریکی ڈرون حملے پھر شروع،پاکستان نے اجازت دے دی؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 14-04-11, 05:49 AM   #1
امریکی ڈرون حملے پھر شروع،پاکستان نے اجازت دے دی؟
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 14-04-11, 05:49 AM

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو کے پروگرام ”آج کامران خان کے ساتھ“ کے میزبان کامران خا ن نے اپنے تبصرے میں کہا کہ یہ کہا جارہا تھا کہ پاکستان کی حکومت اور فوج کی جانب سے امریکا کو کہا گیا ہے کہ ڈرون حملے کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہیں اور انہیں ہرصورت میں بند کیا جائے لیکن بدھ کو26دن کے وقفے کے بعد ایک بار پھر ڈرون حملے شروع کردیئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے حملے کی اہمیت یہ ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا کے دورئہ واشنگٹن کے ایک دن بعد ہی ڈرون حملے دوبارہ شروع کردیئے گئے ہیں۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ شاید ان ملاقاتوں میں اس حوالے سے کوئی حامی بھری گئی ہو لیکن فی الحال اس کا کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔ کامران خان نے کہا کہ امریکی حکومت ، کانگریس کے لوگ اور دوسرے ذرائع کہتے رہے ہیں کہ پاکستان ڈرون حملوں میں امریکا کا خاموش حامی ہے اور یہ ڈرون حملے پاکستان کی مرضی سے ہوتے ہیں۔ کامران خان نے مزید کہا کہ ڈرون حملوں کے بارے میں حقیقت کیا ہے، پاکستان حکومت کی پالیسی کیا ہے؟ یہ بات شاید پاکستان کے عوام کو کبھی پتا نہیں چل سکے گی۔ اس کی سچائی اور جڑ تک پاکستان کے عوام شاید کبھی نہیں پہنچ پائیں گے۔ کامران خا ن نے مزید کہا کہ پاکستان کی حکومت اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا بدستور اصرار ہے کہ ہم ڈرون حملے کے خلاف ہیں لیکن وکی لیکس اور مشہور امریکی صحافی کی کتاب میں کھل کربتایا گیا ہے کہ پاکستان کی حکومت اور وزیراعظم گیلانی اور صدر زرداری ڈرون حملوں کے بار ے میں کیا خیالات رکھتے ہیںاور امریکی عہدیداروں سے اس حوالے سے کیا بات کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں کی روزبروز بڑھتی تعداد کے باوجود وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی حکومت کیا کررہی ہے؟ اس کا جواب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے تو نہیں دیا ہے لیکن پاکستان کے دوسرے سیاسی رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پھیلتی دہشت گردی اور خودکش حملوں کی ایک بڑی وجہ ڈرون حملے ہیں۔ اس کی بھرپور ترجمانی شہباز شریف نے کی اور کہا کہ ڈرون حملوں کے خلاف براہ راست ایکشن لیا جائے اور ان کی جماعت اس سلسلے میں آگے آگے رہے گی۔ وہ وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے بھی ان ڈرون حملوں کے خلاف عملی کارروائی میں حصہ لینے کیلئے تیار ہیں۔کامران خا ن نے بتایا کہ پاک فوج کے جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل غیور محمود نے ڈرون حملوں کے حوالے سے بالکل مختلف رائے دی تھی ، انہوں نے کہا تھا کہ یہ حقیقت ہے کہ امریکی ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد دہشت گرد تھے ، جن کی کافی تعداد غیر ملکی تھی۔2007ءسے مارچ 2011ءتک 164ڈرون حملوں میں 964 دہشتگرد مارے گئے جن میں سے 171کا تعلق مختلف عرب ممالک، ازبکستان، تاجکستان، چیچنیا، فلپائن اور مراکش سے تھا۔
کامران خان کے سوال کیا ڈرون حملوں کا دوبارہ آغاز پاکستان کی اجازت سے ہوا ہے؟کے جواب میں قومی سلامتی امور کے متعدد ماہرین نے اپنی آراءسے آگاہ کیا۔ ایئر مارشل ریٹائرڈ شہزاد نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے جو دو حملے ریمنڈ ڈیوس کی رہائی اور احمد شجاع پاشا کی واپسی کے بعد کیے ہیں اس کا مطلب ہے کہ امریکا کہتا ہے کہ ہم آپ کی ڈکٹیشن نہیں لیں گے۔ بریگیڈیئر (ر) احمد شاہ نے کہا کہ یہ پری میچور ہوگا، جو دو باتیں وہ وہاں کرنے گئے تھے ان میں سے ایک یہ تھی کہ ڈرون حملے پاکستان کی اجازت سے ہوں گے اور دوسرا یہ کہ امریکا کو پاکستان میں موجود سی آئی اے ایجنٹس کو یہاں سے نکالنا ہوگا۔ ابھی تک امریکا کا جواب نہیں پتا چلا ہے کہ آئندہ وہ ان حملوں کیلئے پاکستان آرمی سے اجازت لیں گے یا نہیں؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی دو بنیادی شرائط امریکا تک پہنچادی ہے۔سینئر صحافی زاہد حسین نے کہا کہ یہ کہنا کہ پاکستان نے ڈرون حملوں کی دوبارہ اجازت دیدی ہے یہ صحیح نہیں ہوگا ۔ ڈرون حملے پاکستان کی اجازت کے ساتھ ہی ہورہے ہیں۔ پچھلے حملے میں چونکہ شہری مارے گئے تھے اس لئے ناراضگی ضرور تھی اور یہ کہا جارہا تھا کہ آئندہ حملے دیکھ بھال کر کیے جائیں۔
بھٹو کیس ری اوپن کرنے کے حوالے سے کامران خان نے اپنے تبصرے میں کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے قائد ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے فیصلے پر نظر ثانی کے صدارتی ریفرنس کی سپریم کورٹ میں بدھ کو سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس موقع پر کہا کہ اس سلسلے میں چاروں صوبوں سے کورٹ کی مشاورت کیلئے ماہرین کا انتخاب کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر قانون بابر اعوان بدھ کواس سلسلے میں عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی وزارت سے استعفیٰ دے رہے ہیں تاکہ وہ حکومت کی جانب سے اس کیس کی پیروی کرسکیں۔ بابر اعوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ 25 برسوں سے اس معاملے میں سب سے زیادہ مستعد تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کوئی بھی قربانی دینی پڑی تو وہ اس کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آخر کیوں بینظیر بھٹو کی دو حکومتوں کے دوران یہ ریفرنس سامنے نہیں آیا، کیوں محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے اس معاملے کو نظرثانی کیلئے پیش نہیں کیا اور خود ان کی حکومت پچھلے تین سال تک اس معاملے پر کیوں خاموش تھی۔ آج بابر اعوان کو ایک بہت اہم سوال کا سامنا کرنا پڑا، جس میں ان سے پوچھا گیا کہ یہ بات تو طے ہے اور اس بارے میں شواہد ہیں کہ خود انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد راولپنڈی میں مٹھائی بانٹی تھی اور وہ پاکستان پیپلز پارٹی سے گزشتہ 25 برسوں سے نہیں 1996ءکے بعد منسلک ہوئے۔ اس سوال کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کا فیصلہ پاکستان میں کسی بھی موقع پر غیرمتنازع نہیں رہا ہے۔ پاکستان میں انٹیلی جنس، میڈیا، سیاسی رہنماﺅں اور بین الاقوامی میڈیا کے ماہرین کی مسلمہ رائے یہ ہے کہ یہ غلط فیصلہ تھا۔ اس کے باوجود یہ معاملہ اب سپریم کورٹ آف پاکستان میں پیش کیا گیا ہے۔ پاکستان کے موجودہ قانونی ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ شاید یہ معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان اس وقت نظر ثانی نہیں کرسکتی، متعلقہ قوانین اس کی اجازت نہیں دے سکتے۔ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں نے اس فیصلے پر تنقید بھی کی ہے۔ مسلم لیگ ن، ق اور جمعیت علمائے اسلام اس میں پیش پیش ہیں۔
بھٹو کیس پر گفتگو کرتے ہوئے ماہر آئین و قانون فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ اخباری رپورٹس کے مطابق یہ نظرثانی کی درخواست ریفرنس کی شکل میں پیش کی جارہی ہے۔ نظرثانی آرٹیکل 188 اور ریفرنس 186 آرٹیکل کے تحت ہوتا ہے۔ نظر ثانی قانون کے مطابق سپریم کورٹ کے قوانین کے تحت ایک ریویو کیا جاسکتا ہے۔ بھٹو صاحب کا فیصلہ میری نظر میں غلط تھا اور ہائیکورٹ نے بھی غلط فیصلہ دیا۔ معذرت کے ساتھ سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی درست نہیں تھا۔ اس کی بہت سی وجوہات تھیں، جسٹس نسیم حسن شاہ نے خود اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ایک دن پہلے کچھ لوگ اور مولوی مشتاق بھی ان کے پاس آئے اور دباﺅ ڈالا کہ یہ فیصلہ آپ بھٹو کے خلاف دیدیں۔
کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے کامران خان نے اپنے تبصرے میں کہا کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے ۔صوبائی حکومت کے وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کے بارے میں وزیر اعلیٰ سندھ کا آج بھی یہ اصرار رہا کہ وہ اب بھی سندھ کے وزیر داخلہ ہیں انھوں نے اس سلسلے میں جماعتوں کے نام لئے ہیں اور کہا کہ کن جماعتوں کے کارکنان یا انکے ورکرز کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کر رہے ہیں۔بدھ کی پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے80فی صد ملزمان کو پکڑ لیا گیا ہے ۔کراچی میں بدھ کو ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں آٹھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اورنگی ٹاﺅن میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعہ پر ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ اس کے چار کارکنان کو ہلاک کیا گیا ہے،کل محمود آباد میں تین افراد کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا اور ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ تینوں کا تعلق ایم کیوایم سے تھا۔گذشتہ دو ہفتوں کے دوران ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں چالیس افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔کراچی میں اسٹریٹ کرئم بھتہ اور غواءبرائے تاوان کے واقعات میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے۔ کراچی کے علاوہ پاکستان کے دوسرے بڑے شہروں میں جرائم تیزی سے پھیل رہے ہیں اسی طرح پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بھی جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔
پنجاب کے وزیر داخلہ و قانون رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا پنجاب میں سنگین جرائم جن میں دہشت گردی ، اغواءبرائے تاوان اور قتل اور ڈکیتی کے واقعات سے نمٹنے کے لیے کافی محنت کی گئی ہے۔اغواءبرائے تاوان کے کیسز جن کی 2009 میں تعداد بہت زیادہ ہوگئی تھی تو اس میں خاصی کمی ہوئی ہے۔رحیم یار خان جو سندھ کے ساتھ بارڈر ہے وہاں ایک بہت بڑا گرینڈ آپریشن ہوا اور جو گروہ ان چیزوں میں ملوث تھے ان کو ختم کیا گیا ہے اور پولیس اس بات کا خیال رکھتی ہے کہ لوگوں کے کیسز درج ہوں اور اسکے بعدان کی تفتیش ہو، ریکوری ہو۔اس وقت میڈیا کی پہنچ اتنی بڑھ گئی ہے کہ اگر کسی شخص کے ساتھ کوئی واقعہ ہوتا ہے اور وہ تھانے جاتا ہے تو ساتھ ہی ساتھ چینل پر ٹکر چل پڑتا ہے اس قسم کی صورتحال میں ایسی کوئی شکایات نہیں ہیں کہ لوگوں کے مقدمات درج نہ ہوئے ہوں۔
جیو سوپر، آگ چینل گزشتہ آٹھ روز سے بند ہے، اس موضوع پر کامران خان نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جنگ گروپ اور جیو نیوز کو سزا دی جارہی ہے او رحکومتی اقدامات اس بات کی عکاسی کررہے ہیں کہ کسی بھی طرح جنگ گروپ کو معاشی طور پر ختم کیا جائے۔ اس حوالے سے کامران خان نے بدھ کو پارلیمنٹ میں ہونے والے اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے چوہدری نثار علی خان کی تقریر کازکر کیا جس میں انہوں نے میڈیا کی آزادی کیخلاف اقدامات کو تحلیل کرنے کے لئے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا زکر کیا۔ کامران خان نے مزید کہا کہ چوہدری نثار علی خان کے مطابق جب تک کمیٹی اپنا کام مکمل کرے، جیو سوپر اور آگ کو کھولا جائے۔ کامران خان نے چوہدری نثار علی خان کی تجویز کو سراہا۔

روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,223 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 68
Reply With Quote
گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان (14-04-11)
پرانا 14-04-11, 08:25 AM   #2
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,494
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اجازت مانگتا کون ہے ۔ ۔ ۔ ؟
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کورٹ, کراچی, پولیس, پاکستان, واقعات, واشنگٹن, وزیراعظم, لوگ, نیوز, چینل, نثار, نظر, مکمل, موجودہ, معذرت, آپریشن, اسلام, جواب, حسن, خودکش, خان, ذوالفقار علی بھٹو, زرداری, صدارتی, صدر زرداری


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پښتو لیكلو كښے ګرانی؟ - پشتو لکھنے میں دشواری؟ محبوب عالم پشتو فورمز 2 07-01-12 06:07 PM
شہباز شریف پاکستانی ہیں یا پنجابی؟ شریف خبریں 19 10-07-10 03:14 PM
پاکستان: آئی ٹی کی دنیا کا اہم کھلاڑی؟ پاکستانی خبریں 1 17-08-07 09:57 PM
پاکستان: آئی ٹی کی دنیا کا اہم کھلاڑی؟ چاچا کمال خبریں 1 16-08-07 09:58 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:42 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger