واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


انتخابات شفاف نہ ہوئے تو سپریم کورٹ مداخلت کرے گی،جسٹس جاوید اقبال

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-11-07, 08:58 AM   #1
انتخابات شفاف نہ ہوئے تو سپریم کورٹ مداخلت کرے گی،جسٹس جاوید اقبال
خرم شہزاد خرم خرم شہزاد خرم آف لائن ہے 01-11-07, 08:58 AM

نمائندہ جنگ) سپریم کورٹ کے گیارہ رکنی لارجر بنچ کے سربراہ مسٹر جسٹس جاوید اقبال نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ہم کسی ادارے میں مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتے لیکن اگر غیر جانبدارانہ اور صاف شفّاف الیکشن نہ ہوں تو پھر سپریم کورٹ اس میں مداخلت کر سکتی ہے جبکہ اٹارنی جنرل جسٹس (ر) ملک محمد قیوم نے کہا کہ جنرل مشرف نے آزادی دی لیکن اس کی تعریف کی بجائے انہیں مطعون کیا جا رہا ہے۔ جب فوجیوں سے آزادی لینی تھی اس وقت تو لے نہیں سکے تھے، اب اگر وہ خود کہتا ہے کہ میں 10روز بعد وردی اتار دوں گا تو سب اس کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ جسٹس راجہ فیاض نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آزادی کسی شخص نے نہیں آئین نے دی ہے،سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل جسٹس (ر) ملک محمد قیوم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی انصاف آرٹیکل (4) کے مطابق انصاف تک رسائی کا معاملہ ہے۔ اس میں یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے یا نہیں۔ میرا موقف ہے کہ یہ بنیادی حقوق کے دائرے میں نہیں آتا اس لئے آئینی درخواستیں قابل سماعت نہیں۔ جسٹس رمدے نے سوال کیا کہ ملک کا صدر کون ہوگا، اس میں کیوں مداخلت نہیں کر سکتے کیا یہ کوئی غیر اہم معاملہ ہے۔ ہم نے تو ٹریفک جام، سبزی کی قیمتوں میں اضافہ اور لال مسجد کا بھی از خود نوٹس لیا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ مداخلت کر سکتے ہیں لیکن دائرہ اختیار کو بھی دیکھنا ہو گا۔ اس کیس میں سپریم کورٹ کا براہ راست دائرہ اختیار سماعت نہیں بنتا یہ خالص الیکشن کا معاملہ ہے اور الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف آرٹیکل 199کے تحت ہائی کورٹ مناسب فورم ہے، جسٹس رمدے نے کہا کہ آپ خود کہہ رہے ہیں کہ اس وقت ملک میں اضطرابی کیفیت ہے، اس غیر یقینی صورتحال میں درخواست گزار کو کیسے کہہ دیں کہ ہائی کورٹ چلا جائے اس کا تو جلدی فیصلہ آنا چاہئے تاکہ یہ کیفیت ختم ہو۔ ہائی کورٹ میں تو 2002کے الیکشن کے متعدد مقدمات زیرالتوا ہیں اور اسمبلیوں کی مدت بھی ختم ہو رہی ہے۔ اگر آپ ہائی کورٹ کی بات کرتے ہیں تو کیوں نہ یہاں سپریم کورٹ میں ان درخواستوں کو زیرالتواء رکھ کر انتظار کر لیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا، ان درخواستوں کو خارج کیا جائے اور درخواست گزاروں کو ہدایت کریں کہ وہ ہائی کورٹ سے رجوع کریں۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ یہاں سوال صرف صدر کے آفس کا نہیں ہے بلکہ قومی مفاد کا کیس ہے جسے دو ہفتوں سے کورٹ سن رہی ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ ایک عام الیکشن کا معاملہ ہے اگر اس میں جنرل مشرف کا نام نہ ہوتا یا پھر وہ آرمی چیف نہ ہوتا تو عدالت اس کیس کو سنتی ہی نہیں۔ جسٹس رمدے نے استفسار کیا کہ کیا صدر رفیق تارڑ کا کیس ایک عام الیکشن کیس کے طور پر لیا گیا تھا۔ اٹارنی جنرل ملک قیوم نے کہا کہ وزیراعظم شوکت عزیز کا کیس آپ کے پاس التوا میں ہے، وہ کیوں نہیں سنتے۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ اچھا کیا آپ نے یاد دلا دیا، اب اس کو بھی دیکھیں گے۔ اگر یہ عام الیکشن کا معاملہ ہے تو اس میں اتنے اہم آئینی سوالات کیوں اٹھائے گئے ہیں۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ کو کہنا چاہئے تھا کہ درخواستیں قابل سماعت ہیں، عدالت ان کا میرٹ پر فیصلہ کرے۔ ملک قیوم نے کہا کہ میں یہاں اٹارنی جنرل کی حیثیت سے دلائل دے رہا ہوں، ہو سکتا ہے کہ صدر کے وکیل میرٹ والی بات کہہ دیں۔جسٹس رمدے نے کہا کہ جب اسمبلیاں تحلیل ہوئی تھیں تو براہِ راست سپریم کورٹ میں آ جاتے تھے۔ نواز شریف کی مثال سامنے ہے۔ کیا صدر کا الیکشن انتخاب نہیں ہوتا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ نواز شریف تو ایک سیاسی جماعت کا مسئلہ تھا اور وہ آرٹیکل 17 میں آتا تھا۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت کا سربراہ نہ ہو تو کیا وہ آرٹیکل (3)184 کے زمرے میں نہیں آتا۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ شاید وہ آرٹیکل 17 میں نہ آسکے۔ جسٹس کھوکھر نے کہا کہ اجتماعی مفاد کے معاملے کو انفرادی حق بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اٹارنی جنرل کے دلائل پر جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ ججوں کو دیکھنے کی بجائے فیصلوں کو دیکھا کریں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم نے چیف جسٹس کیس کا فیصلہ بھی مانا۔ اس فیصلہ کو بھی مانیں گے سیاسی انصاف کا تصور قرارداد مقاصد سے لیا گیا ہے۔ سیاسی انصاف کا مقصد سیاست میں حصہ لینے کا حق، جماعت بنانے کا حق اور الیکشن لڑنے کا حق ہے۔ جسٹس (ر) وجیہہ الدین کے کاغذات مسترد ہوئے تو وہ یہ بات کہہ سکتے تھے کہ میرا سیاسی حق متاثر ہوا ہے۔ جسٹس سیّد جمشید علی نے کہا کہ کیا آزادانہ، شفّاف اور آئین کے مطابق الیکشن کا انعقاد سیاسی انصاف کا حق نہیں ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر صاف شفّاف الیکشن نہ ہوں تو کیا سپریم کورٹ الیکشن کی نگرانی خود شروع کر دے گی۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ ہاں ہم نگرانی شروع کر سکتے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جنرل مشرف نے میڈیا کو آزادی دی ہے، ان کی تعریف کی بجائے مطعون کیا جا رہا ہے۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہم کسی ادارے کے اختیارات میں مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتے تاہم اگر غیرجانبدارانہ، آزادانہ اور شفاف الیکشن نہ ہوں تو کوئی ادارہ تو مداخلت کرے گا اور وہ ادارہ سپریم کورٹ ہو گا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم نے آزادی دی ہے اس پر کچھ نہیں کہتے۔ جب آزادی فوجیوں سے لینی تھی اس وقت تو لے نہیں سکتے تھے۔ اب اگر وہ خود کہتا ہے کہ میں 10 روز بعد وردی اتار دوں گا تو سب اس کے پیچھے پڑے ہیں۔ جسٹس راجہ فیاض احمد نے کہا کہ یہ آزادی کسی فرد نے نہیں بلکہ آئین نے دی ہے۔ جسٹس چوہدری اعجاز احمد نے کہا آپ آئینی شقیں بتائیں، تشریح کرنا ہمارا کام ہے۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز

 
خرم شہزاد خرم's Avatar
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 412
Reply With Quote
پرانا 01-11-07, 11:01 AM   #2
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,184
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: انتخابات شفاف نہ ہوئے تو سپریم کورٹ مداخلت کرے گی،جسٹس جاوید اقبال

تو کیا جو صدارتی الیکشن ہوئے ہیں؟
وہ صاف شفاف ہوئے ہیں؟
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فورم, کورٹ, ٹریفک, وزیراعظم, نواز شریف, مسجد, جواب, جاوید اقبال, خلاف, سپریم, سیاست, شخص, علی, عدالت, عزیز, صورتحال, صاف, صدارتی, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
جسٹس افتخار کی مدت3سال کردی گئی تو اس سال دسمبر میں جسٹس جاوید اقبال چیف ج عبدالقدوس خبریں 1 25-04-08 02:49 AM
تحر یک ججوں کی بحالی ختم نہیں ہو گی،جسٹس صبیح الد ین ،الٹی گنتی 30 اپر یل عبدالقدوس خبریں 0 24-04-08 01:51 PM
جسٹس افتخار کے بغیر ججوں کی بحالی عدلیہ کو آپس میں لڑانے کی سازش ہوئی،جسٹس عبدالقدوس خبریں 0 23-04-08 01:53 PM
عدلیہ نے حدود سے تجاوز نہیں کیا،آئینی طور پر اب بھی جج ہوں،آج سپریم کورٹ جاؤں گا،جسٹس بھگوان داس،پی سی او غیر قانونی ہے،جسٹس صبیح عبدالقدوس خبریں 0 05-11-07 08:00 AM
سال بعد لاڑکانہ آمد،بھٹو کے مزار پر حاضری،ایسی اطلاعات نہیں کہ سپریم کورٹ صدر پرویز کو نااہل قرار دے گی،بے نظیر بھٹو عبدالقدوس خبریں 0 28-10-07 08:27 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:47 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger