واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


انتخابات میں حصہ لینے کیلئے گر یجویشن کی شر ط امتیازی قانون ہے ،اٹار نی جن

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-04-08, 03:54 AM   #1
انتخابات میں حصہ لینے کیلئے گر یجویشن کی شر ط امتیازی قانون ہے ،اٹار نی جن
عبدالقدوس عبدالقدوس آف لائن ہے 19-04-08, 03:54 AM

انتخابات میں حصہ لینے کیلئے گر یجویشن کی شر ط امتیازی قانون ہے ،اٹار نی جنرل
اسلام آباد(نمائندہ جنگ) سپریم کورٹ میں گریجویشن کی شرط کے خلاف آئینی درخواستوں کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل جسٹس(ر) ملک قیوم نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے گریجویشن کی شرط امتیازی قانون ہے،اس کے ذریعے ایک علیحدہ کلاس پیدا کی جا رہی ہے ، 97فیصد ووٹرزکو الیکشن لڑنے کے حق سے محروم کرنا درست نہیں، اگر سپریم کورٹ کے روبرو قبل ازیں مسلم لیگ (ق) کے کیس میں گریجویشن کے بارے میں مکمل تفصیلات فراہم کی جاتیں تو ہو سکتا تھا کہ اس کیس کا فیصلہ کچھ اور ہوتا ۔دوسری جانب درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ حکومت میں تعلیم یافتہ لوگوں کوآگے لاناوقت کی ضرورت ہے، چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ووٹرز کو ووٹ دینے کا حق تو حاصل ہے لیکن الیکشن میں حصہ لینے کا حق حاصل نہیں،چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 62اور 63 میں انتخابات میں حصہ لینے کی اہلیت یا نااہلیت میں گریجویشن کی شرط کا ذکر نہیں ہے۔دوران سماعت جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے کہا کہ شرط سے شہری اشرافیہ کو برتری حاصل ہو گی۔بعد ازاں فاضل عدالت نے درخواست گزاروں ناصر محمود اور شبیر احمد وغیرہ کی جانب سے دائر آئینی درخواستوں کی مزید سماعت پیر 21 اپریل تک ملتوی کر دی۔تفصیلات کے مطابق کیس کی سماعت چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں جسٹس فقیر محمد کھوکھر ‘ جسٹس اعجاز الحسن‘ جسٹس محمد موسیٰ کے لغاری‘ جسٹس چوہدری اعجاز یوسف‘ جسٹس سید سخی حسین بخاری اور جسٹس سید زوار حسین جعفری پر مشتمل سات رکنی بنچ نے کی۔ عدالت کے روبرو ڈاکٹر محمد اسلم خان نے بھی ایک درخواست دائر کرتے ہوئے کیس میں فریق بنانے کی استدعا کی۔ ڈاکٹر اسلم خان نے کہا کہ الیکشن میں حصہ لینے کے لیے گریجویشن کی شرط ضروری ہے تاکہ پڑھے لکھے افراد کو آگے آنے کا موقع مل سکے۔ میں گریجویشن کی شرط کا دفاع کرنا چاہتا ہوں جس پر فاضل عدالت نے ڈاکٹر اسلم خان کو بھی کیس میں فریق بناتے ہوئے پیر کے روز دلائل دینے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت کے روبرو درخواست گزاروں کے وکیل کامران مرتضیٰ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن میں حصہ لینے کے لیے گریجویشن کی شرط بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور یہ شرط آئین کے آرٹیکلز 17 اور 25 سے بھی متصادم ہے۔ میں نے گریجویشن کی شرط چیف ایگزیکٹو آرڈر 7 آف 2002ء کی سیکشن 8 اے و دیگر کو چیلنج کیا ہے۔ جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے کہا کہ آپ خود کو سیکشن 8 اے تک محدود رکھیں۔ آرٹیکل 270 اے اے کو چھوڑ دیں۔ اس سے مشکلات پیدا ہو جائیں گی کیونکہ خواتین اور خصوصی نشستیں بھی اس آرٹیکل کے تحت عمل میں لائی گئیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی سی او اگرچہ ماورائے آئین اقدام تھا لیکن اگر اسے ختم کر دیا جائے تو پارلیمانی ڈھانچہ گر جائے گا کیونکہ پارلیمنٹ بھی اس کے تحت قائم ہوئی تھی۔ کامران مرتضیٰ نے کہا کہ 1976ء کے عوامی نمائندگی کے ایکٹ کے سیکشن 99 جس میں گریجویشن کی شرط عائد کی گئی اس پر پچھلے 5 سال کے دوران کیا مقاصد حاصل ہوئے۔ یہ شرط ون ٹائم تھی لیکن اس کو جاری رکھا گیا۔ آرٹیکل 62 میں گریجویشن کی شرط نہیں ہے۔ اس شرط کو صرف تجربہ کار سیاستدانوں کو الیکشن سے باہر رکھنے کے لیے لایا گیا تھا۔ اس شرط کو بدنیتی کے تحت ایکٹ میں شامل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت شرح خواندگی صرف 35 فیصد ہے جس میں سے اکثریت صرف اپنا نام تک ہی لکھنا پڑھنا جانتی ہے ۔ اٹارنی جنرل ملک قیوم نے کہا کہ ہر شہری کو تعلیم یافتہ ہونا چاہیے لیکن اگر ریاست اس قابل نہیں ہے تو اس میں شہریوں کا کیا قصور ہے۔ اس پر جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے کہا کہ یعنی گریجویشن کی شرط کی وجہ سے شہری اشرافیہ کو برتری حاصل ہوگی ؟جسٹس اعجاز یوسف نے کہا کہ اس شرط سے ان پڑھ شخص کوووٹ ڈالنے کا حق تو حاصل ہے لیکن الیکشن لڑنے کا حق نہیں۔ جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے استفسار کیا کہ پاکستان کے مختلف علاقوں کا لٹریسی ریٹ کیا ہے ‘ کیا چاغی کا لٹریسی ریٹ لاہور کے برابر ہے، جس پر اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے عدالت کو گریجویشن افراد کے بارے میں ایک ڈیٹا فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں اس وقت کل آبادی 16 کروڑ کے قریب ہے جس میں سے 68.1 کروڑ رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جبکہ گریجویشن پاس افراد کی تعداد 25 لاکھ 39 ہزار ہے جو کہ کل آبادی کا 1.4 فیصد جبکہ رجسٹرڈ ووٹروں کا 3.8 فیصد ہے۔ فاضل عدالت نے کہا کہ آپ اس میں آزاد کشمیر کی آبادی کو شامل نہ کریں۔
__________________
http://voobuzz.com
it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.

 
عبدالقدوس's Avatar
عبدالقدوس
Administrator

تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 209
Reply With Quote
جواب

Tags
کورٹ, پاکستان, مکمل, موقع, آبادی, تعلیم, خواتین, خلاف, خان, خصوصی, سپریم, سال, شخص, عدالت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پشاور، شدت پسندوں کی نماز تراویح کے دوران مسجد میں فائرنگ، 2نمازی جاں بحق گلاب خان خبریں 0 18-08-10 03:04 AM
قانون توہین رسالت اور حدود آرڈینینس امتیازی ہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟ احمدنواز سیاست 0 04-11-09 09:52 AM
انٹر نیٹ پر جعل سازی سے بچاؤ کے لئے سافٹ ویئرتیار کر لیا گیا champion_pakistani خبریں 0 18-07-08 10:00 AM
’بی اے کی شرط امتیازی قانون ہے‘ محمدعدنان خبریں 0 18-04-08 06:18 PM
محبوبِ دو جہاں ﷺ کی امتیازی خوبیاں میاں شاہد پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 0 17-03-08 10:09 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:47 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger