|
انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کا فیصلہ48گھنٹوں میں کریں گے ،بینظیر

21-11-07, 08:14 AM
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سابق وزیراعظم اورپیپلزپارٹی کی چیئرپرسن بینظیربھٹو نے کہا ہے کہ عام انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کا فیصلہ پارٹی رہنماؤں کی رائے کی روشنی میں آئندہ 48 گھنٹوں میں کیا جائے گا‘ جنرل پرویز مشرف اگر وردی اتاردیں اور آزاد الیکشن کمیشن سمیت دیگر مطالبات بھی پورے کریں تو ہم اس عمل کو خوش آمدید کہیں گے۔ وہ منگل کی شب پیپلزپارٹی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد بلاول ہاؤس میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کررہی تھیں۔ اس موقع پر پارٹی کے سینئر وائس چیئرمین مخدوم امین فہیم‘ وائس چیئرمین یوسف رضا گیلانی‘ بینظیربھٹو کے معتمد خاص رحمن ملک‘ مرکزی جنرل سیکریٹری جہانگیر بدر‘ ناہید خان‘ پی پی پی پنجاب کے صدر شاہ محمود قریشی‘ سندھ کے صدر سیدقائم علی شاہ‘ بلوچستان کے صدر لشکر رئیسانی‘ مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیری رحمن‘ صوبائی سیکریٹری اطلاعات فہمیدہ مرزا‘ آفتاب شعبان میرانی‘ نفیس احمد صدیقی‘ سینیٹر صفدر عباسی‘ آغا سراج درانی و دیگر بھی موجود تھے۔ بینظیربھٹو نے کہا کہ بعض محب وطن سرکاری اہلکاروں نے ہمیں بتایا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کا بہت بڑا منصوبہ تیار کیاگیا ہے جس کے تحت ہر قومی اسمبلی کی نشست پر اپنے امیدواروں کو 25 ہزار بیلٹ پیپرز دیئے جائیں گے‘ مسلم لیگ (ق) کے 108 ارکان کو پنجاب میں بیلٹ پیپرز دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے‘ ہم اس معاملے کو الیکشن کمیشن کے سامنے لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت پسند قوتیں ملکر ملک کو بچائیں۔ انہوں نے کہا کہ انقلابی تحریک شروع ہوچکی ہے اور آمر حکمراں گھر چکے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے عمران خان‘ اسفندیارولی اور اختر مینگل سمیت تمام زیرحراست سیاسی رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ تھا کہ انتخابات سے قبل مقامی حکومتیں ختم کی جائیں‘ ووٹر لسٹیں درست کی جائیں‘ جعلی اور بھوت پولنگ اسٹیشن قائم نہ کئے جائیں‘ غیرجانبدارانہ الیکشن کمیشن بنایا جائے‘ ہمارے یہ مطالبات پورے نہیں کئے گئے‘ ایک آمر کی حکومت یہ مطالبات تسلیم نہیں کرسکتی کہ آزاد عدلیہ ہو اس لئے چیف جسٹس کو گرفتار کیاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی طاقت عوام ہیں‘ موجودہ صورتحال میں ملک اور عوام کو خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں انقلابی تحریک شروع ہوچکی ہے‘ میں اپنے بھائیوں اور بہنوں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ عوامی انقلابی میں ہمارا ساتھ دیں‘ عوامی انقلا ب سے آمر حکمراں گھبرارہے ہیں اور وہ اس انقلاب کو روکنے کی کوشش کررہے ہیں مگر یہ انقلاب اب نہیں رکے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں بھی اپنی جان کوخطرے میں ڈال کر باہر نکلتی ہوں‘ بہادر لوگ موت سے نہیں ڈرتے‘ سچ کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ایک افسوسناک دن ہے جب 200 سے زائد صحافیوں کو گرفتارکیاگیا اور 4 صحافیوں کو نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے‘ یہ اقدام آمروں کی حکومت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں مطالبہ کرتی ہوں کہ چیف جسٹس سمیت دیگر ججز کی نظربندیاں ختم کی جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جیو اور اے آر وائی پر سے پابندی فوراً ہٹائی جائے‘ حکومت نے مالی نقصان پہنچانے کیلئے انٹرٹینمنٹ چینلز پر بھی پابندی لگادی ہے‘ یہ بزدل حکومت عوام کی عدالت میں نہیں آنا چاہتی۔ ایک سوال کے جواب میں بینظیربھٹو نے کہا کہ میری آزادی این آر او کے تحت نہیں ہے اور میں گرفتاری یا مقدمات سے گھبرانے والی نہیں ہوں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ہمارا ساتھ دیں تاکہ معاشی آزادی حاصل کرسکیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ موجودہ صورتحال میں ملکی یکجہتی کو خطرہ ہے‘ ملک کو عوام کی طاقت کو منظم کرکے بچایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں سزاؤں اورعدالتوں سے نہیں ڈرتی‘ یہ بے گناہوں کو سزا دیتی ہیں‘ ذوالفقارعلی بھٹو کو بھی غلط سزا دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی نے جو تحریک شروع کی ہے وہ عوام کی تحریک ہے‘ یہ روٹی‘ کپڑا اور مکان کی تحریک ہے‘ یہ روزگار کی تحریک ہے۔ امریکی سفیر سے ملاقات کے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکی سفیر سے میری 3 ملاقاتیں ہوئی ہیں‘ ایک ملاقات میں،میں نے انہیں سانحہ کارساز سے متعلق اعتماد میں لیا تھا، ایک ملاقات ایمرجنسی کے متعلق تھی اور آخری ملاقات میں نیگرو پونٹے نے عوام کو بتادیا ہے کہ ملاقات میں کیا بات ہوئی تھی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صدر کے خلاف دائر پٹیشن اس لئے واپس لی گئی کہ پی سی او کے تحت حلف لینے والی عدلیہ کا وکلاء نے بائیکاٹ کررکھا ہے‘ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ کب تک چلے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میری کل نوازشریف سے بات ہوئی تھی‘ نوازشریف نے جنرل مشرف سے سعودی عرب میں ملاقات کے حوالے سے مجھ سے بات نہیں کی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ میں ہمارے 3 لڑکے شہید ہوئے ہیں‘ ہم نے ان کیلئے فاتحہ خوانی کی ہے‘ آفتاب شعبان میرانی کی اہلیہ کی وفات اور دیگر واقعات میں جاں بحق ہونے والے کارکنوں اور ان کے اہل خانہ کیلئے دعا کی گئی۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|