|
انتخابات کے بائیکاٹ کیلئے اے آر ڈی اوراے پی ڈی ایم کے مذاکرات تعطل کا شکار

08-12-07, 07:25 AM
اسلام آباد ، لاہور ( جنگ نیوز) آئندہ انتخابات کے متفقہ بائیکاٹ کیلئے اے آرڈی اوراے پی ڈی ایم کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔ چارٹر آف ڈیمانڈ کیلئے بنائی گئی کمیٹی نے 13 نکات پراتفاق کرلیا جبکہ ججوں کی بحالی سمیت 2 نکات پراتفاق رائے نہ ہوسکا۔ اب بینظیربھٹو اور میاں نواز شریف کے درمیان اگلے ہفتے دوبارہ ملاقات کا امکان ہے تاکہ حتمی معاہدے پر پہنچا جاسکے۔ کمیٹی کے سربراہ رضا ربانی نے کہا ہے کہ دونکات پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ اس لیے اب مسودہ دونوں رہنماؤں کو بھیج دیا گیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے چیئرمین راجہ ظفر الحق نے بتایا کہ کمیٹی ججوں کی بحالی کے نکتے پر متفق نہ ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ اب دونوں رہنماؤں میں ایک اور ملاقات ہوگی جس میں معاملات کو حتمی شکل دی جائیگی۔ انہوں نے کہا امید ہے ہم کسی مثبت نتیجے پر پہنچ جائینگے۔ دوسری طرف میاں نواز شریف نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی پہلے انتخابات چاہتی ہے جبکہ ہم پہلے ججوں کی بحالی چاہتے ہیں۔ کمیٹی کے ایک رکن احسن اقبال نے اے پی کو بتایا کہ دونکات پر اتفاق نہیں ہوسکا لیکن میں پُرامید ہوں کہ ہم حتمی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔ دریں اثنا پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی صدارت میں اے پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس اتوار 9 دسمبر کو لاہور میں طلب کرلیا گیا ہے جس میں ملک میں جاری سیاسی بحران ایمرجنسی پی سی او ججز کے گھروں کے محاصرے اور الیکشن میں حصہ لینے یا اس کے بائیکاٹ کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ جمعہ کے روز ایم ایم اے کے سربراہ قاضی حسین احمد کی رہائش گاہ پر بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں اور پرنم پارٹی کے رہنماؤں کا اجلاس ہوا۔ جس میں محمود خان اچکزئی۔ عبدالحئی بلوچ ‘ قادر مگسی‘ امیر حاصل بزنجو نے شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بے نظیر بھٹو اور مولانا فضل الرحمان کو الیکشن کے بائیکاٹ پر رضا مند کیا جائے گا تاہم اتفاق رائے کے بعد اے پی ڈی ایم انتخابات میں بھرپور حصہ لے اور مسلم لیگ ن تحریک انصاف‘ جماعت اسلامی اور قوم پرست جماعتیں انتخابات میں حصہ لیں گی۔ مزید برآں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے گزشتہ روز اپنی رہائش گاہ ماڈل ٹاؤن پر پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد چوہدری نثار علی خان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اے پی ڈی ایم میں کوئی تانگہ پارٹی ہے اور نہ ہی کسی کی طرف سے ہم پر انتخابی بائیکاٹ کیلئے دباؤ ہے‘ پارٹی رہنماؤں کو عوام کے پاس جانے کی ہدایت کر دی ہے‘ انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کا حتمی فیصلہ اے پی ڈی ایم کے اجلاس میں کر لیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر پارٹی کارکنوں کا دباؤ ہے کہ ہم الیکشن میں حصہ لیں لیکن اس حوالے سے حتمی فیصلہ کل اے پی ڈی ایم کے اجلاس میں کیا جائیگا، میاں نوازشریف اقتدار میں آکر عوام کی بہتری کیلئے تمام تر اقدامات کرینگے ۔ اس موقع پر چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) انتخابی بائیکاٹ ‘تحریک اور انتخابات میں حصہ لینے سمیت ہر محاذ پر لڑنے کیلئے تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اے پی ڈی ایم اور اے آرڈی میں چارٹر آف ڈیمانڈ پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا اور اس کیلئے اگر ضروری سمجھا گیا تو بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی پر نوازشریف اور انکے درمیان ملاقات ہو سکتی ہے لیکن مولانا فضل الرحمن کے ساتھ اس حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہو رہی ۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر سے مسلم لیگ (ن) کو آئندہ انتخابات کے امیدواروں کیلئے 1500درخواستیں وصول ہوئی تھیں اور اب تک سندھ ‘سرحد اور بلوچستان کیلئے قومی اسمبلی کی تقریباً تمام سیٹوں پر امیدواروں کا حتمی فیصلہ ہو چکا ہے جبکہ پنجاب کی 50فیصد سیٹوں پر بھی فیصلہ ہو چکا ہے اور باقی آئندہ 24گھنٹوں میں اتفاق رائے کر لیا جائیگا۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|