|
انتخابی نتائج تسلیم کرتے ہیں،حکومت یا اپوزیشن میں رہنے کا فیصلہ رابطہ کمیٹی 48گھنٹوں میں کرے گی،الطاف حسین

20-02-08, 02:34 AM
انتخابی نتائج تسلیم کرتے ہیں،حکومت یا اپوزیشن میں رہنے کا فیصلہ رابطہ کمیٹی 48گھنٹوں میں کرے گی،الطاف حسین
کراچی (اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ 18 فروری کے انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرتی ہے اور جمہوری اصولوں کے تحت تمام جماعتوں کو بھی انتخابی نتائج کو تسلیم کرنا چاہئے۔ متحدہ قومی موومنٹ آئندہ حکومت میں رہے گی یا اپوزیشن میں اس کا فیصلہ رابطہ کمیٹی سیکٹر زونل کمیٹیوں کے ممبران اور کارکنوں کی رائے کے بعد لندن اور کراچی میں رابطہ کمیٹی کے مشترکہ اجلاس میں اڑتالیس گھنٹے کے دوران کرے گی یہ بات انہوں نے منگل کی شب نائن زیرو کراچی ، حیدرآباد اور میر پور خاص میں متحدہ قومی موومنٹ کے انتخابات میں بھرپور کامیابی پر جشن منانے کے لئے جمع ہونے والے بزرگوں ، ماؤں ، بہنوں ، کارکنوں سے بیک وقت ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کہی اس موقع پر نائن زیرو پر رابطہ کمیٹی کے اراکین نو منتخب اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ، سٹی ناظم کراچی سید مصطفیٰ کمال ، نائب ناظمہ محترمہ نسرین جلیل بھی موجود تھیں اس موقع پر نائن زیرو اور اس کے گردوپیش کی گلیوں کو برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا متحدہ کے کارکن الطاف حسین کی تصاویر ، متحدہ کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے ، کارکن متحدہ کے ترانوں اور ڈھول تاشوں پر رقص کررہے تھے۔ الطاف حسین نے کہا کہ وہ رب کائنات کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے ہم پر کرم فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ 18 فروری 2008ء عام انتخابات کا دن ختم ہوا اور انتخابات کے نتائج آپ تک پہنچ گئے ہوں گے میں انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہونے والی پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری ، مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف ، اے این پی کے سربراہ اسفند یار سمیت سب کو ان کی جیت پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے پنجاب ، بلوچستان ، سرحد ، اندرون سندھ اور کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے امیدواروں کی حمایت کرنے والوں کو میں کارکنوں ، بزرگوں کو تاریخی کامیابی پر مبارک باد پیش کرتا ہوں انہوں نے کہا کہ ہماری یہ کامیابی شہیدوں کی قربانیوں ، ساتھیوں کی محنت ، ماؤں بہنوں کی دعا اور عوام کے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی بدولت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن کو انتخابات میں شکست ہوئی ہے ان کا فرض ہے کہ جیتنے والوں کی کامیابی کو تسلیم کریں اور کامیاب ہونے والوں کو چاہئے کہ وہ ہارنے والوں کو بھی گلے سے لگائیں۔ جن جماعتوں نے فتح حاصل کی ہے وہ ضرور جشن منائیں لیکن جشن کی آڑ میں ہارنے والوں کو تکلیف نہ پہنچائیں اور کوئی ایسی بات نہ کریں جس سے کسی کی دل آزاری ہو ، پولنگ والے دن ملک کے تمام علاقوں میں متحدہ قومی موومنٹ کے امیدواروں ، ایجنٹوں اور کیمپوں پر حملے کئے گئے ، کارکنوں کو اغواء کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پولنگ ایجنٹوں کو بوتھ سے باہر نکال دیا گیا میں ان واقعات کی مذمت کرتا ہوں لیکن ان تمام افسوسناک واقعات کے باوجود کارکنوں نے صبر سے کام لیا مایوس نہیں ہوئے اور تمام تر رکاوٹوں کے باوجود وہ ہمت سے کام کو جاری رکھے رہے۔ جس کا صلہ یہ ملا کہ ایم کیو ایم نے ماضی میں پورے ملک میں ووٹ لینے کے جو ریکارڈ قائم کئے تھے وہ ایم کیو ایم نے خود ہی توڑ دیئے ان انتخابات میں پورے ملک کے چاروں صوبوں جن جماعتوں کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی اس میں جیتنے والوں کے ووٹوں کے تناسب میں متحدہ کے بیشتر امیدواروں نے زیادہ ووٹ لے کر بھی ملک میں پہلا نمبر حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ کے ذمہ داروں اور کارکنوں کو میرا پیغام ہے کہ اب انتخابات کا مرحلہ ختم ہوگیا تو ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں کو چاہئے کہ انتخابات کے دوران جو ناخوشگوار واقعات ہوئے ہیں انہیں بھلاکر ایک دوسرے کا احترام کریں اور انتقامی سیاست کے بجائے برداشت اور صبر کی پالیسی کو اپنائیں۔ انہوں نے کہا کہ روایتی حلقوں کے علاوہ کراچی سے دور دراز اندرون سندھ ، سرحد ، بلوچستان ، پنجاب کے عوام نے بھی ایم کیو ایم کو ووٹ دیئے جو کہتے تھے کہ ایم کیو ایم محض کراچی کی پارٹی ہے اس مرتبہ بلوچستان ، سرحد ، پنجاب کے لوگوں نے بھی متحدہ کے امیدواروں کو ووٹ دیئے جو ثابت کرتے ہیں کہ متحدہ قومی موومنٹ ملک گیر جماعت ہے اور انشاء اللہ 2013ء کے انتخابات میں پورے ملک میں دنیا کے سامنے حیران کن نتائج متحدہ قومی موومنٹ دے گی۔ پنجاب ، سرحد ، بلوچستان کو شاباش اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں انہوں نے کہا کہ تمام لسانی اکائیوں برادریوں ، اقلیتوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد ماؤں ، بہنوں ، بزرگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے متحدہ کو ووٹ دے کر بھاری اکثریت سے کامیاب کرایا۔ انہوں نے کہا کہ میں تمام سیاسی جیتنے والی جماعتوں ، مذہبی جماعتوں سے اپیل کرتا ہوں پاکستان جس نازک دور سے گزر رہا ہے اور اس وقت پاکستان کو تمام خطرات و خدشات سے بچانا ہر ایک پاکستانی کی ذمہ داری ہے لہٰذا ملک کو بچانے کے ایک نکاتی ایجنڈا پر متحد ہوجائیں۔ سیاسی اختلافات ضرور رکھیں لیکن فاصلہ پیدا کرنے کے بجائے نزدیکیاں پیدا کریں اور تصادم کی پالیسی اختیار نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں متحدہ قومی موومنٹ کے انتخابی جلسے پر بم حملے میں متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار اور کارکنوں کے زخمی ہونے کے واقعہ کی مذمت کرتا ہوں انہوں نے کہا کہ انتخابات کا جائزہ لیں تو مجموعی طور پر پر امن رہے اس میں نگراں حکومت خاص کر سندھ میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور نگراں حکومت کو خراج تحسین اور مبارک باد پیش کرتا ہے۔ افہام و تفہیم کا معاملہ ہو کوئی بھی سیاسی عمل ہو کسی جماعت سے مخلوط حکومت بنانے کا معاملہ ہو ایم کیو ایم کے دروازے تمام جماعتوں کے لئے کھلے ہوئے ہیں۔ ایم کیو ایم نے انتخابات کے دوران تمام جماعتوں کو پیغام دیا تھا میں بھی ان سے کہتا ہوں کہ ماضی کے واقعات کو بھلا کر تمام جماعتوں کو وسیع قلبی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اب دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے شکوک و شبہات کہ دھاندلی ہوگی ، انتخابات غیر جانبدارانہ شفاف نہیں ہوں گے اب ان سے پوچھتا ہوں ان کا کیا خیال ہے ان کے شکوک و شبہات ختم ہوجانے چاہئیں حکومت اور الیکشن کمیشن کے انتخابات کے غیر جانبدارانہ اور شفاف بنانے کے جو انتظامات کئے اس کا کریڈٹ حکومت اور الیکشن کمیشن کو جاتا ہے ، انہوں نے کہا کہ متحدہ نے 1987ء بلدیاتی اور عام انتخابات کے عملاً حصہ میں کامیابی کو نہ صرف برقرار رکھا اور اس میں اضافہ ہوتا رہا اور اس مرتبہ ماضی کے اپنے ہی ریکارڈ توڑ کر ریکارڈ کامیابی حاصل کی ہے اور ایم کیو ایم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے ملک کے سیاسی نقشہ سے خارج کرنے کیلئے بار بار آپریشن کئے گئے ہزاروں کارکن شہید ہوئے بہت قربانیاں دیں 27 دسمبر کے بعد جو واقعات ہوئے کراچی میں لوٹ مار ملک میں خوف و ہراس کا ماحول بموں کے دھماکے ہوئے جن میں قیمتی جانیں تباہ ہوئیں ان پر افسوس ہے کچھ لوگوں نے خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی 27دسمبر کے بعد جو خوف و ہراس کی فضاء تھی انتخابات میں عوام نے اسے مسترد کر دیا اور بتایا کہ ایم کیو ایم کو تسلیم کرانے ایم کیو ایم سے انکار ممکن نہیں، ایم کیو ایم کے وجود کوسب کو کھلے دل سے تسلیم کر لینا چاہئے اس میں ملک کی بھلائی ہے ، پاکستانی کو اول رکھیں اگر کوئی کہتا ہے کہ وہ ایم کیو ایم کو تسلیم نہیں کریں گے تو نہ کریں ایم کیو ایم آگے بڑھتے رہے گی ارباب اقتدار کو کہتا ہوں ایم کیو ایم کے وجود کو سب تسلیم کرلیں اسی میں ملک کی بھلائی ہے انہوں نے کہاکہ میڈیا کے لوگوں سے گزارش کرتا ہوں اپنے تجزیات صرف اور صرف ایم کیو ایم کو کہیں کہ ایم کیو ایم کو یہ کرنا چاہئے یا وہ کرنا چاہئے دوسروں کو بھی کہیں تو وہ یہ کریں یا وہ کریں، انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اسی میں ابھی نہیں جتنی دیگر جماعتیں ہیں، ایم کیو ایم سے نہ کہیں کہ نظریاتی طور پر ایم کیو ایم کو کسی کی طرف جانا چاہئے بڑی جماعت کو بھی مشورہ دیں کہ جس کا وزن زیادہ ہوتا ہے وہ ## ہے انہوں نے کہا کہ صرف ایم کیو ایم ہی کا نہیں دیگر سیاسی جماعتوں کا فرض ہے کہ ایک دوسرے کو برداشت کریں، افہام و تفہیم پیدا کریں خدارا اکڑ بازی کا رویہ اختیار کرنے سے کیا ہوگا اس سے دوریاں اور فاصلے بڑھیں گے اور خدانخواستہ ملک پر کوئی آفت آئی یا نقصان پہنچا جب ملک ہی نہ رہا تو کیسی اکڑ کیسی شان و شوکت پاکستان ہی کی وجہ سے ساری شان و شوکت ہے سب کو سوچنا چاہئے، صرف ایم کیو ایم کو باتوں تجزیوں سے دباؤ میں لانے کی ضرورت نہیں ہے انہوں نے کہا کہ اڑتالیس گھنٹے اہم ہیں دیکھتے ہیں رابطہ کمیٹی سیکٹر، زونل کمیٹیوں اور عوام سے مل کر فیصلہ کرے گی کیونکہ عوام کی جماعت عوام کے مشورے سے فیصلے کرے گی محلوں میں بیٹھ کر فیصلے نہیں کرے گی ۔ انہوں نے کہاکہ کراچی ، حیدرآباد اور دیگر علاقے کے عوام نے ثابت کر دیا صرف ایم کیوا یم کے کارکن جن نہیں ہیں عوام بھی جنات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں بہت بڑی تعداد میں غیر ملکی مبصرین جگہ جگہ موجود تھے اور جتنے لوگ کراچی کے لوگ بالخصوص ڈیفنس، سوسائٹی، کلفٹن وہاں بڑے بڑے لوگ رہتے ہیں انہوں نے تک انتخابات میں حصہ نہیں لیا لیکن کل ایسا لگتا تھا کہ کوئی گھر میں نہیں ہے سب ووٹ دینے کیلئے نکلے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ صدر پرویز مشرف کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا کہ وہ انتخابات نہیں کرائیں گے اور اگر کرائیں گے تو دھاندلی ہوگی لیکن صدر پاکستان نے اپنے عمل کے ذریعے وعدے کے مطابق جو کہا تھا کہ شفاف انتخابات کرائیں گے تو انہوں نے وعدہ پورا کرایا تو تنقید کرنے والوں کو ان کی تعریف بھی کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ان اجتماعات کے توسط سے ایک مرتبہ پھر سیاسی و مذہبی جماعتوں سے کیا ہوا اپنے دلوں میں وسیع قلبی پیدا کریں پاکستان کو کوئی چیز بچا سکتی وہ پاکستان کے عوام کا اتحاد ہے اگر ہم نے اتحاد نہ کیا تو خود ہی اپنے ملک کو نقصان پہنچائیں گے اگر ہم متحد ہوگئے تو کوئی بھی طاقت ملک کی طرف ٹیڑھی نگاہ نہیں دیکھ سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دروازے کل بھی تمام جماعتوں کیلئے کھلے تھے اور آج بھی کھلے ہیں جیو اور جینے دو الطاف حسین کے خطاب کے بعد کارکنوں میں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|