واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


انسانی حقوق کے ممبر کا قتل

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 14-12-11, 06:19 PM   #1
انسانی حقوق کے ممبر کا قتل
allah ke bande allah ke bande آف لائن ہے 14-12-11, 06:19 PM


پشاور: انسانی حقوق کےایکٹووسٹ کو خوف ہے کہ حال ہی میں انسانی حقوق کے کیمپین کرنے والوں کا قتل جو خیبر ایجنسی میں ہوا ہے، اس سے کہا جارہا ہے کہ انسانی حقوق اس علاقے میں مزید خراب ہوں گے،
زرتیف خان آفریدی، جو انسانی حقوق کمیشن پاکستان، خیبر ایجنسی کے کو آرڈینیٹر تھے، ان کو اس ہفتے مسلح افراد نے گولی مار کر ہلاک کردیا۔ عبداللہ اعظم بریگیڈ، جس کا تعلق تحریک طالبان پاکستان کے خیبر ایجنسی کے جمرود کے علاقے کے عسکریت پسند گروہ سے تعلق ہے، نے اس قتل کی ذمہ داری لی ہے۔ یہ ایک ایسا علاقہ ہے جس میں ابھی بھی اس طرح کے سخت قانون ہیں اور عسکریت پسندی بہت ہے،یہاں انسانی حقوق کا ریکارڈ بھی کافی خراب ہے۔
حبیب خان آفریدی، جو کہ زریف کے کافی پرانے دوست ہیں اور خود بھی انسانی حقوق کے ایکٹیوسٹ ہیں، انہوں نے ایکسپریس ٹرائبیون کو بتایا کہ، "عسکریت پسند کہتے ہیں کہ ان کو تعمیراتی کاموں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، لیکن وہ کسی اس تنظیم کو اجازت نہیں دیں گے جو کہ قبائیلیوں کے حقوق کے لئے کام کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ زرتیف کا قتل صرف قبائیلیوں کی آواز کو دبائے گا، اور مقامیی ایکٹیوسٹوں میں خوف پیدا کرے گا۔
نمائندگان اس علاقے کے انسانی حقوق کے کاموں کے بارے میں زیادہ امید نہیں رکھتے۔ ایچ آر سی پی کے ایک نمائندے نے ایکسپرس ٹرائبیون کو بتایا کہ ان کے ایک اور ایکٹیوسٹ کو زبردیستی انگلینڈ میں سیاسی پناہ لینا پڑی، اور مہمند، باجوڑ، شمالی اور جنوبی وزیرستان والے حفاظت کے لئے قبائیلی علاقوں کے باہر رہ رہے تھے۔ انسانی حقوق کی دیکھ بھال کرنے والوں کا صرف ایک کارکن ابھی بھی کرم کے قبائلی علاقے میں موجود ہے۔
ادریس خٹک، جو ٹاک فار پیس انٹرنیشنل کے ساتھ ریسرچر ہیں، اور جس نے تفصیل سے انسانی حقوق کے خیبر پختون خواہ میں ہونے والے مسائل پر کام کیا ہے اس نے کہا ہے کہ حقوق کے لئے لڑنے والے کی کوئی صحیح مہم نہیں ہے، بلکہ اس کے بجائے لوگ اپنے طور پر حقوق حاصل کرنے والے کاموں پر خود سے زور دیتے ہیں۔
ایچھ آر سی پی کے ممبر مالک جرار نے مزید کہا کہ دہشت گردی اور عسکریت پسندی کی وجہ سے خوف کا موسم قبائلی علاقوں میں کافی زیادہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا، "اس وقت قبائلی علاقوں میں انسانی حقوق کے لئے کھڑے ہونا ایک مشکل لڑائی ہے اگر آپ کو دھمکیاں مل رہی ہوں اور آپ اس بارے میں کچھ نہ کر پائیں"۔
زرتیف کے قتل پر غور کرتے ہوئے، مصطفی قادری، جو ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ساتھ کے ساتھ ریسرچر ہیں، انہوں نے کہا کہ وہ اس قتل کے بارے میں کافی پریشان ہیں، کیونکہ تنازعہ والے علاقوں میں معلومات حاصل کرنا کافی مشکل ہوتا ہے، اور زریف جیسے لوگ بہت خاص ہیں کیونکہ وہ واحد لوگ ہیں جو دنیا کو انسانی حالات کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں۔

allah ke bande
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Aug 2011
مراسلات: 123
شکریہ: 17
60 مراسلہ میں 95 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 85
Reply With Quote
پرانا 16-12-11, 08:26 PM   #2
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Mar 2011
مراسلات: 155
کمائي: 2,854
شکریہ: 5
75 مراسلہ میں 126 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تحریک طالبان نے انسانی حقوق کے ممبر کا فتل کر دیا؟؟؟ جب وہ انسانیت کا قتل کر سکتے ہیں تو انسانی حقوق کے ممبر کی کیا بات ہے۔
اجل کنول آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, ہوتا, ہے۔, پسند, وقت, لوگ, مسائل, اجازت, حال, خود, خان, دیکھ, دیں, دوست, دنیا, ریکارڈ, طور, طالبان, علاقہ, علاقے, عبداللہ, عسکریت, غور, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:53 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger