| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 91
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2011
مقام: Peshawar
مراسلات: 397
کمائي: 6,086
شکریہ: 133
139 مراسلہ میں 236 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شمالی وزیرستان دہشت گردوں کا گڑہ سمجھا جاتا ہے جہان دنیا بھر کے دہشت گرد موجود ہین اور جن کی وجہ سے حکومت پاکستان کی رٹ اس علاقہ میں موثر نہ ہے۔ ان لوگوں نے ملک کی خودمختاری اور سیکورٹی کو چیلینج کر رکھا ہے جس کی ان دہشت گردوں کو اجازت نہ دی جاسکتی ہے۔
قبائلی علاقوں میں ہونے والی دہشت گردی میں غیر ملکی ملوث ہیں،یہ بات جناب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہی ہے انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں غیر ملکی مقامی لوگوں کی مدد سے دہشت گردی کر رہے ہیں.یہ لوگ اپنی تخریبی کاروائیوں سے پاکستان کے استحکام کو کمزور کرنے کے مرتکب ہو رہے ہین، وہ پاکستان کی اقتصادیت ، سیکورٹی اور سالمیت کو براہ راست خطرہ ہین ،جس کی ان لوگوں کو اجازت نہین دی جاسکتی۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو بڑا نقصان پہنچا ہے کیونکہ خودکش بم حملوں کے باعث سرمایہ کی بیرون ملک منتقلی ہوئی اور حکومت کی پرکشش مراعات کے باوجود سرمایہ کار پاکستان مین سرمایہ کاری کیلئے راغب نہ ہوئے، انہوں نے کہا کہ حکومت اور پاکستان کے عوام نے دہشت گردی کے خاتمہ کا تہیہ کر رکھا ہے. ملک بھر مین دہشت گردی کے واقعات کے ۸۰ فیصد تانے بانے وزیرستان سے ملتے ہین۔ ناروے کی اوسلو یونیورسٹی سے منسلک تحقیق کار فرحت تاج جن کا تعلق بھی پاکستان کے صوبۂ پختونخوا سے ہے، کہتی ہیں کہ میڈیا میں پایا جانے والا یہ عمومی تاثر غلط ہے کہ ڈرون حملوں میں بڑی تعداد میں عام شہری ہلاک ہو رہے ہیں۔ فرحت تاج کا کہنا ہے کہ آزاد میڈیا کو قبائلی علاقوں تک رسائی حاصل نہیں ہے اور کئی صحافیوں کو ان علاقوں میں صرف اس لیے قتل کر دیا گیا کہ انہوں نے کسی حد تک آزادانہ صحافت کرنے کی کوشش کی۔ پاکستانی و آزاد میڈیا میں پایا جانے والا یہ عمومی تاثر غلط ہے کہ ڈرون حملوں میں بڑی تعداد میں عام شہری ہلاک ہو رہے ہیں۔ آزاد میڈیا پاکستانی میڈیا کی خبروں پر ہی انحصار کرتا ہے، جو خبرین گھڑتے ہیں، اور اس کے علاوہ بھی جن ذرائع کی مدد لیتا ہے وہ بھی قابل اعتبار نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر رپورٹیں غلط معلومات پر مبنی ہوتی ہیں۔ فرحت تاج کے مطابق ڈرون حملوں کے بارے میں میڈیا کی سوچ میں ابھی تک تبدیلی نہیں آئی اور وہ پاکستان کے لوگوں کو ’اب بھی گمراہ کر رہا ہے‘۔ فرحت تاج کے مطابق اگر ان لوگوں سے بات کی جائے جو ان علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں تو وہ یہ بتائیں گے کہ ڈرون حملے اپنے نشانے پر لگتے ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ لوگ اتنے ڈرے ہوئے ہیں کہ وہ کھل کر نہیں بتاتے۔ فرحت تاج کا کہنا ہے کہ یہ بات صرف وہی نہیں کہہ رہیں۔ ’گزشتہ برس پشاور میں ایک بڑا جرگہ ہوا تھا جس میں سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی کے اراکین اور ادیبوں سمیت ایک ہزار کے قریب لوگوں نے شرکت کی تھی اس میں ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا تھا جس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ قبائلی علاقوں کے لوگ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حکمت عملی میں اگر کسی چیز سے مطمین ہیں تو وہ ڈرون حملے ہیں۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کرائے گئے ایک سروے کے نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جن علاقوں میں امریکی ڈرون کے ذریعے میزائل داغے جاتے ہیں وہاں رہنے والے ۷۵ فیصد عام افراد ، ان حملوں کی حمایت کرتے ہین۔ وزیرستان کے قبائلی علاقوں کے اکثر لوگوں کی رائے ہے کہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر شدت پسند ہیں۔ اسی بنا پر علاقے کے اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ ڈرون حملے جاری رہنا چاہئیں کیونکہ ان کا نشانہ شدت پسند ہوتے ہیں۔ان حملوں کو وہاں کے رہائشی اپنے لیے خطرہ محسوس نہیں کرتے کیونکہ اور یہ حملے اپنے ہدف کو ہی نشانہ بناتے ہیں۔ وزیرستان کےرہائشیوں کے مطابق ڈرون حملوں سے عام شہریوں کو خطرہ نہیں ہے اور اگر کسی کو ان سے خطرہ ہے، وہ یا تو شدت پسند ہیں یا ان کے حمائیتی۔ لوگ چاہتے ہیں کہ القاعدہ اور طالبان کے مراکز ختم ہوں، ان کا نیٹ ورک وہاں نہ رہے اور لوگ ان کے ہاتھوں یرغمال نہ رہیں کیونکہ لوگ طالبان اور القائدہ کے دہشت گردوں کے ہاتھوں فاٹا کے لوگ بری طرح تنگ ہیں۔ دہشت گردی اور غیر ملکی جہادیوں کی بہتات کی وجہ سے فاٹا کے بہت سے لوگ اپنا گھر بار اور کاروبار چھوڑ کر دوسرے علاقوں مین آٓباد ہو گئے ہیں اور فاٹا ایریا اور صوبہ ک پی کے دوسرے علاقوں مین غربت میں بہت اضافہ ہو گیا ہے. |
|
|
|
![]() |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| موت كو ماسي كہنا۔۔۔ اس كو كہتے ہيں | شمشاد احمد | گپ شپ | 6 | 20-10-11 12:27 AM |
| پاكستان ايمبسي سكول جدہ | شمشاد احمد | خبریں | 1 | 09-07-11 04:01 AM |
| غلامي کي ايک چھوٹي سي رسي | عصمت | اپکے کالم | 2 | 18-05-11 01:21 PM |
| جنھيں ميں ڈھونڈتا تھا آسمانوں ميں زمينوں ميں | بزم خیال | شاعر مشرق علامہ اقبال | 1 | 31-03-11 10:55 AM |
| دھماکے کے مجرموں تک پہنچ گئے ہيں، سي سي پي او کراچي | فرحان دانش | خبریں | 2 | 06-01-10 12:04 AM |