|
اٹلی میں مساجد کی تعمیر پر پابندی لگانے کا مطالبہ

19-09-08, 12:07 AM
اٹلی میں مساجد کی تعمیر پر پابندی لگانے کا مطالبہ
کیتھولک ازم کے مرکز میں اسلام کے فروغ سے مقامی عیسائی خوفزدہ ہیں
روم(پاک ڈاٹ نیٹ رپورٹ ) اٹلی کے حکمران اتحاد میں شامل جماعت ناردرن لیگ نے وزیر اعظم سلویو برلسکونی سے مطالبہ ہے کہ عالمی کیتھولک ازم کے مرکز میں اسلام کے فروغ کو روکا جائے۔ اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اٹلی میں مسجدوں کی تعمیر کو سخت قوانین کے ذریعہ روک دیا جائے۔ مسلم تارکین وطن اٹلی کے ذریعہ یورپ کے دوسرے ملکوں میں روزگار کی تلاش میں جاتے ہیں۔ ان ملکوں میں مسلمانوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا ۔ اٹلی اور دوسرے یورپی ملکوں میں مسجدوں کی تعمیر یا ہال کی تعمیر کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اگر ناردرن لیگ اٹلی کی پارلیمنٹ میں مسجدوں کے خلاف بل پاس کرانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پھر اٹلی میں نئی مسجدوں کی تعمیر روک دی جائے گی۔ اسلامک کلچرل انسٹیٹوٹ آف میلان کے صدر عبد الحامد شعاری کا کہنا ہے کہ ناردرن لیگ اٹلی میں مسلم تارکین وطن کی زندگی کو مشکل بنانے کے لیے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے وہ مسلم عبادت خانوں کے سخت خلاف ہے ۔ ایک فلسطینی باشندہ جہار امر نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ وہ اٹلی میں سترہ سال سے ٹیکس ادا کر رہا ہے لیکن پھر بھی وہ یہاں خود کو محفوظ تصور نہیں کرتا ۔ ناردرن لیگ کی مسلم مخالف سرگرمیاں اکثر اخباروں کی سرخیاں بنتی ہیں۔ مثال کے طور پر موجودہ کابینہ کے ایک وزیر رابرٹ کالڈورلی مسجد کی تعمیر کے لیے ایک مجوزہ جگہ پر اپنا سور لے کر وہاں پہنچ گئے تھے تاکہ اس زمین کو ناپاک کر سکیں۔ انہوں نے پیغمبر محمد ؐ کے نام کی ایک ٹی شرٹ بھی پہنی تھی جس کے خلاف لیبیا میں سخت مظاہرہ ہوا تھا۔ اٹلی کے شمالی حصہ میں تارکین وطن کی تعداد بہت زیادہ ہے جن میں مسلمانوں کی تعداد تقریباََ دس لاکھ ہے۔ اس حصہ میں ناردرن لیگ اپنا پروپیگنڈہ زور و شور سے چلاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلمان کسی بھی جگہ نماز پڑ ھ سکتے ہیں اس لیے ان کو مسجد بنانے کی کیا ضرورت ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ مسجدوں کی تعمیر پر سخت پابندی لگنی چاہیے وہ عیسائیوں کے علاقوں سے دور ہونے چاہیں، ان میں لاوڈ اسپیکر نہ لگنے چاہیں اور اماموں ا ور خطیبوں کو اٹلی کی زبان کی جانکاری لازمی ہونی چاہئے۔ اس کے برخلاف سعودی عرب میں اٹلی کے ایک سابق سفیر اسکیالوجا، جو بیس سال پہلے مسلمان ہو گئے تھے ، کا کہنا ہے کہ کوئی بھی مسلمان گرجے کے نزدیک یا عیسائیوں کے علاقوں کے قریب مسجد بنوانا نہیں چاہتا
|
ابن جلال
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|