|
اٹھارہ سال بعد بابری مسجد کیس کی سماعت شروع

24-08-10, 04:31 PM
نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) ہندوستان کی شمالی ریاست اترپردیش میں اٹھارہ سال کے انتظار کے بعد بابری مسجد مسماری کیس میں ملزمان کے خلاف مقدمے کی باقاعدہ سماعت پیر سے شروع ہوگئی اجودھیا میں واقع تاریخی مسجد چھ دسمبر انیس سو بانوے کو منہدم کی گئی تھی اور اس کے بھڑکنے والے فرقہ وارانہ فسادات میں تقریباً دو ہزار افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔ استغاثہ کی جانب سے سب سے پہلے پولیس کے سب انسپکٹر پریم ودشکلا نے گواہی دی جو اس واقعہ کے وقت اجودھیا کی پولیس چوکی کے انچارج تھے انہوں نے ہی مسجد کی مسماری کے سلسلے میں ہزاروں ہندو کارسیوکوں(رضاکاروں) کے خلاف مقدمہ قائم کروایا تھا مسٹر شکلا نے عدالت کو اس دن پیش آنے والے تمام واقعات کی تفصیل بتائی گزشتہ ہفتے عدالت نے اس وقت کے ضلع مجسٹریٹ آر این شریواستو سمیت تئیس افراد کو ان کے خلاف عائد الزامات پڑھ کر سنائے تھے ابتداء میں مرکزی تفتیشی بیورو سی بی آئی نے بی جے پی کے سینئر لیڈر ایل کے ایڈوانی' سابق وزیراعلیٰ کلین سنگھ اور وی ایچ پی کے لیڈر اشوک سنگھل سمیت انچاس افراد کے خلاف مقدمہ قائم کیا تھا لیکن ہائی کورٹ نے تکنیکی بنیاد پر کچھ ملزمان کے خلاف مقدمہ ختم کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ بعض دیگر کا انتقال ہوچکا ہے جس زمین پر بابری مسجد تعمیر تھی' وہ کس کی ملکیت تھی اس بارے میں ہائی کورٹ کی لکھنو بنچ ستمبر میں اپنا فیصلہ سنانے والی ہے۔
__________________
جاویداسد
|
جاویداسد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
شکریہ: 2,418
1,903 مراسلہ میں 5,667 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|