|
اہلیت کا تعین الیکشن کمیشن کا صوابدیدی اختیار ہے،براہ راست چیلنج نہیں کیا جاسکتا“

14-11-07, 02:04 PM
اسلام آباد (نمائندہ جنگ) سپریم کورٹ نے صدر کے دو عہدوں کے خلاف جماعت اسلامی قاضی حسین احمد،عمران خان اور پاکستان لائرز فورم کی طرف سے دائر کی گئی آئینی درخواستوں کو مسترد کرنے کے بارے میں تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدر کو دو عہدے رکھنے کی اجازت دینے کا قانون آئین سے متصادم نہیں جبکہ صدارتی امیدوار کی اہلیت کے بارے میں آئین کے آرٹیکل 63کو آرٹیکل 62کے ساتھ ملا کر پڑھنے کے بارے میں کوئی فیصلہ الیکشن کمشنر کی مخصوص صوابدید ہے اور اسے براہ راست آئین کے آرٹیکل 3،184کے تحت عدالت میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا۔ درخواست گزاروں کے وکلاء جنرل پرویز مشرف کی نااہلیت کے بارے میں دلائل سے انہیں مطمئن نہیں کر سکے اس لئے یہ درخواستیں مسترد کی گئیں۔ سپریم کورٹ کے جسٹس رانا بھگوان داس جسٹس جاوید اقبال جسٹس عبدالحمید ڈوگر جسٹس سردار محمد رضا خان جسٹس محمد نواز عباسی جسٹس فقیر محمد کھوکھر جسٹس فلک شیر جسٹس میاں شاکر اللہ جان اور جسٹس ایم جاوید بٹر پر مشتمل نو رکنی بنچ نے ان درخواستوں کی سماعت کی تھی جن میں سے جسٹس رانا بھگوان داس جسٹس میاں شاکر اللہ جان اور جسٹس سردار محمد رضا خان نے آئین کے آرٹیکل 3،184کے تحت ان درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیا تھا، لیکن چھ ارکان کے اکثریتی فیصلے سے ان درخواستوں کو مسترد کیا گیا تھا۔ فیصلہ میں کہا گیا کہ پارلیمینٹ نے آئین کے تحت صدر کو دو عہدے دینے کے ایکٹ کی منظوری دی جو آئین سے متصادم نہیں اور عدالت پاکستان لائرز فورم بنام وفاق کیس میں اس ایکٹ کی منظوری دے چکی ہے جہاں تک صدارتی امیدوار کی اہلیت پر آرٹیکل 62اور 63کے اطلاق کا تعلق ہے اس کا جائزہ لینا الیکشن کمشنر کی صوابدید ہے جو ایک آئینی ادارہ ہے اور جو معاملہ براہ راست عدالت میں نہیں لایا جا سکتا، فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل (3) 184کے تحت سپریم کورٹ سے رجوع کے لئے دو بنیادی شرائط ہیں پہلی یہ کہ کوئی عوامی اہمیت کا معاملہ ہو اوردوسری شرط یہ ہے کہ آئین کے باب اول کے حصہ دوم میں دیئے گئے بنیادی حقوق کا معاملہ ہو عدالت نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ اس وقت تک مداخلت نہیں کر سکتی جب تک وہ مطمئن نہ ہو کہ کوئی بنیادی حق پامال ہو فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ آرمی چیف ہونے کے ناطے جنرل پرویز مشرف صدارتی انتخابات کے اہل نہیں لیکن درخواست گزاروں کے وکلاء مطمئن نہیں کر سکے کہ اگر جنرل پرویز مشرف کو نااہل قرار نہ دیا جائے تو کسی کا بنیادی حق متاثر ہو گا۔ درخواست گزاروں کے وکلاء یہ بھی نہیں بتائے سکے آرٹیکل 17اور 25کے تحت دی گئی۔ حقوق ضمانت کس طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ان حقائق حالات کی بنیاد پر عدالت سمجھتی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 3، 184کا ان درخواستوں پر اطلاع نہیں ہوتا اس لئے یہ قابل سماعت نہیں اور انہیں مسترد کیا جاتا ہے۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|