|
اہم فیصلے مجلس عمل کی سپریم کونسل میں کریں گے،اے پی ڈی ایم سے بلیک میل نہیں ہوں گے،فضل الرحمن

27-10-07, 09:47 AM
اہم فیصلے مجلس عمل کی سپریم کونسل میں کریں گے،اے پی ڈی ایم سے بلیک میل نہیں ہوں گے،فضل الرحمن
جمعیت علماء اسلام نے اے پی ڈی ایم کے ساتھ اتحاد برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم کہا ہے کہ وہ اے پی ڈی ایم سے بلیک میل نہیں ہوگی ،جے یو آئی نے کہا کہ قاضی حسین احمد ہی ایم ایم اے کے صدر رہیں گے، حکومت سے کوئی رابطہ نہیں متحدہ اپوزیشن کا حصہ ہیں اور رہیں گے۔ قبائلی علاقوں کے حالات خراب ہیں، ایم ایم اے کی سپریم کونسل کا اجلاس 8 نومبر کو ہو گا جس میں انتخابی منشور کی منظوری دی جائے گی۔تفصیلات کے مطابقجمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمن نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کیے جانے والے ضابطہ اخلاق کو تسلیم کرنے اور ان پر عمل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ فوج کو یہ ہدایات جاری کرے کہ وہ سیاست میں مداخلت نہ کرے اگر فوج نے اپنا سیاسی کردار ختم نہ کیا تو اس پرتنقید لازمی ہوگی۔ مولانا فضل الرحمٰن نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو جمعیت علمائے اسلام کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے اختتام پر اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ اس موقع پر جمعیت کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل عبدالغفور حیدری اور دیگر اہم عہدیداران بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ صدر پرویز ،بینظیر اور کرزئی یہودیوں کی صف میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ضابطہ اخلاق کا مسودہ ہمیں مل چکاہے اس کے مین نکات کو اہم قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوج ایک قومی ادارہ ہے اور اسکی اس حیثیت کو نہ تو چیلنج کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی شہری یا سیاسی جماعت فوج کو اپنے مقابلے میں حریف سمجھتی ہے۔ لیکن جب فوج سیاست میں آتی ہے اور اس کا سربراہ ایک سیاسی کرداربھی انجام دینا شروع کر دیتاہے تو پھر اسے تنقید کیلئے بھی تیار رہنا چاہیے۔ اگر الیکشن کمیشن یہ چاہتا ہے کہ انتخابی عمل کے دوران سیاستدان فوج پر تنقید نہ کریں تو اس کا واحد حل یہی ہے کہ وہ اختیارات استعمال کرتے ہوئے فوج پر سیاست میں حصہ لینے کی پابندی عائد کر ے اور حکومت پر دباؤ ڈالے کہ وہ عدلیہ کی آزادی کو کمزور کرنے کے احکامات نہ جاری کریں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ بے نظیر بھٹو، صدر پرویز مشرف اور افغان سربراہ حامد کرزئی یہودیوں کی صف میں کھڑے ہیں اور صدر بش کی حقیقت ان لوگوں کے امام کی سی ہے اور یہ تینوں اپنے امام کے احکامات کی تکمیل کیلئے ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسلامی قانون سازی میں حائل تمام رکاوٹیں ختم کی جائیں ، بلوچستان سے فوج کو واپس بلایا جائے اور وہاں آپریشن فوری طورپر بند کیا جائے ،شمالی علاقوں ،وزیرستان اور سوات میں بھی نہتے لوگوں کے خلاف کاروائی بند کی جائے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی کا نام لیے بغیر کہا کہ اے آر ڈی کی ایک بڑی جماعت نے جب مسلم لیگ کو تنہا چھوڑ دیا تو ہم نے اسے سہارادیا۔ ہمیں اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ ہم نے حزب اختلاف کا شیرازہ بکھرنے سے بچایا اب اس حزب اختلاف کابھی یہ سیاسی اور اخلاقی فرض ہے کہ وہ جے یو آئی کی کردار کشی نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ اے پی ڈی ایم سے بلیک میل نہیں ہونگے ،ایم ایم اے کسی سیاسی جماعت سے انتخابی اتحاد نہیں کریگی۔ اہم انتخابی و سیاسی فیصلے سپریم کونسل کے اجلاس میں کئے جائیں گے جس کا اجلاس 8نومبر کو اسلام آباد میں طلب کر لیا گیاہے
بشکریہ
جنگ
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|