ایران پاکستان کو ادھار تیل فراہم کرے گا
پاکستان کی مشکلات سے دوچار معیشت کو ایران کی جانب سے ادائیگیوں کا دباؤ کم کرنے کیلئے ادھار پر تیل کی فراہمی کے وعدے کے بعد سہارا ملے گا۔ اس عزم کا اظہار ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متقی نے، یہاں پاکستانی قیادت کے ساتھ باہمی، علاقائی اور دو طرفہ دلچسپی کے بین الاقوامی معاملات پر طویل مذاکرات کے بعد کیا۔ ایران تین ماہ کیلئے ادھار پر تیل فراہم کرنے کی پیشکش کر رہا ہے لیکن پاکستان نے ایران سے کہا ہے کہ اس میعاد میں اضافہ کیا جائے۔
ایرانی حکومت آئندہ ہفتے تک اپنے فیصلے سے اسلام آباد کو آگاہ کرے گی۔ اسی دوران پاکستان سعودی عرب سے بھی ایسی ہی سہولت حاصل کرنے کیلئے پرامید ہے اور سعودی عرب نے اس طرح کی پیشکش کیلئے اپنا ہوم ورک مکمل کرلیا ہے۔ ماضی میں سعودی حکومت نے دو سال کیلئے ادھار پر تیل فراہم کرنے کی سہولت دی تھی اور اب سعودی عرب ایک سال کے پلان کی پیشکش پر کام کر رہا ہے۔
سعودی عرب اس حوالے سے آئندہ چند روز میں پاکستان کو معاہدے کی پیشکش کرے گا۔ ایرانی ہم منصب سے مذاکرات کے بعد پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ ایران نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی درخواست پر ہمدردانہ غور کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کو یہ سہولت مل گئی تو اس سے پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے میں مدد ملے گی اور ادائیگیوں کا توازن یقینا برقرار ہوجائیگا۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قانون کے مطابق خام تیل ادھار پر تیل کی درآمد صرف تین ماہ کیلئے ہی کی جا سکتی ہے لیکن منوچہر متقی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت اس عرصے کو مزید بڑھانے پر غور کر ے گی۔ اس طرح کی مراعات پاکستان کی حکومت کو مناسب ریلیف فراہم کرے گی کیونکہ ملک کو ادائیگیوں کے بحران کا سامنا ہے۔
وزیراعظم کے ایک مشیر نے کہا ہے کہ ضروری ادائیگیوں کو پورا کرنے کیلئے پاکستان کو تین ارب ڈالر کی فوری ضرورت ہے۔ اگرچہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان امریکا کا اتحادی کیلئے لیکن اس کے اپنے پڑوسی ملک ایران کیساتھ بہتر تعلقات ہیں۔ امریکی اعتراضات کے باوجود پاکستان نے ایران کیساتھ گیس پائپ لائن کا معاہدہ بھی کیا ہے۔ منوچہر متقی نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران بھارت کے بغیر بھی گیس پائپ لائن پروجیکٹ پر پیش رفت کریں گے۔ بھارت 7.6 ارب ڈالر کے اس پروجیکٹ سے محتاط رویہ اختیار کئے ہوئے ہے کیونکہ اسے خطرہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ تنازعہ کی صورت میں اسے سپلائی معطل ہونے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔