|
ایمر جینسی اور پی سی او کے کسی اقدام کی آئندہ پارلیمنٹ میں حمایت نہیں کر یں گے،اے پی ڈی ایم اور اے آر ڈی کا فیصلہ

06-12-07, 09:01 AM
ایمر جینسی اور پی سی او کے کسی اقدام کی آئندہ پارلیمنٹ میں حمایت نہیں کر یں گے،اے پی ڈی ایم اور اے آر ڈی کا فیصلہ
اسلام آباد ( اظہر سید … نمائندہ جنگ) آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ ( اے پی ڈی ایم) اور اے آر ڈی ججوں کی بحالی کے بنیادی معاملہ پر ایک متفقہ نکتہ نظر پر پہنچ گئے ہیں، دونوں اتحادوں کی مرکزی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں بھی عدلیہ کے حوالہ سے اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ ذمہ دار ذرائع کے مطابق گزشتہ روز چارٹر آف ڈیمانڈ کمیٹی کے اجلاس میں طویل بحث، مشورہ اور تجاویز کے بعد اس بات کا فیصلہ کر لیا گیا کہ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کے متعلق فیصلہ آئندہ پارلیمنٹ کرے گی۔ پیپلز پارٹی کے کمیٹی میں شامل اراکین کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ آزاد عدلیہ کے قیام کیلئے چارٹر آف ڈیموکریسی کی روح کے مطابق آئندہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کی جائے جبکہ ججوں کی بحالی کے معاملہ پر فیصلہ بھی آئندہ پارلیمنٹ کرے۔ ذرائع نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کی طرف سے اے پی ڈی ایم کو کہا گیا کہ حالیہ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے جج اس سے قبل پی سی او کے تحت حلف اٹھا چکے ہیں جبکہ اعلیٰ عدلیہ نے صدر کی آئندہ صدر کے انتخاب لڑنے کی اہلیت کے متعلق اہم ترین فیصلہ پر بھی پہلو تہی کی اور فیصلہ الیکشن کمیشن آف پاکستان پر چھو ڑدیا۔ سرکاری ملازم ہوتے ہوئے بھی سابق جنرل مشرف کو صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے دی جس کی وجہ سے سابق جنرل مشرف مسلم لیگ ق اور اتحادی جماعتوں کی مدد سے صدر بننے میں کامیاب ہو گئے پیپلز پارٹی نے یہ دلیل بھی دی کہ مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نوازشریف کی وطن واپسی پر ان کی جبری جلا وطنی کو روکنے کیلئے سپریم کورٹ نے کوئی اقدام نہیں کیا اور نہ ہی انتظامیہ کو واضح ہدایات جاری کیں۔ جسکی وجہ سے حکومت میاں نواز شریف کو جلا وطن کرنے میں کامیاب ہوگئی اور کافی دنوں کے بعد سپریم کورٹ نے اس معاملہ پر حکومت کو نوٹس جاری کرنے کا عمل شروع کیا۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے کہا گیا کہ حقیقتًا آزاد عدلیہ کے علمبردار وہ جج ہیں جنہوں نے 2002 ء میں پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر صفدر عباسی نے اس سوال کہ وکلاء برادری خصوصاً عدلیہ کی بحالی کی جدوجہد کررہی ہے اس مطالبہ کو کس طرح نظر انداز کیا جاسکتا۔ جواب دیا کہ وکلا کسی نہ کسی جماعت کا حصہ ہیں تحریک بڑی سیاسی جماعتیں ہی چلاسکتی ہیں اصولی بات یہ ہے کہ پارلیمنٹ ہی خود مختیار اور آزاد عدلیہ کی ضمانت فراہم کرنے والا ادارہ ہے۔ ہم نے پہلے بھی مسلم لیگ(ن) کے ساتھ میثاق جمہوریت کیا ہے اورچارٹر آف ڈیمانڈ بھی آج جمعرات کے روز طے کرلیا جائیگا آزاد عدلیہ کا تعین آئندہ پارلیمنٹ ہی کریگی ہمیں صرف شفاف انتخابات پراپنی توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔سینیٹر رضاربانی نے جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اے پی ڈی ایم اوراے آرڈی کے درمیان چارٹر آف ڈیمانڈ کے بیشتر نکات پر اتفاق رائے ہوگیا ہے ہم یقینی طورپر آج جمعرات کے روز اپنی سفارشات کوحتمی شکل دینے کی کوشش کرینگے۔ دریں اثناء ذرائع نے بتایا کہ کمیٹی کے اجلاس میں بلدیاتی اداروں کوالیکشن کے دوران معطل کرنے ،الیکشن شیڈول کے بعد کئے گئے سرکاری ملازمین کے تبادلے منسوخ کرنے اورنئے چیف الیکشن کمیشن کی تعیناتی کے معاملہ پراتفاق رائے ہوگیا ۔کمیٹی کے اجلاس میں اے پی ڈی ایم کی طرف سے نئی نگران حکومتوں کا مطالبہ بھی چارٹر آف ڈیمانڈ میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی جس پراے آرڈی کی طرف سے کہا گیا کہ اس تجویز پرعملدرآمد سے آئندہ انتخابات میں تاخیرہوسکتی ہے کیونکہ نئی نگران حکومتوں کی تشکیل میں وزیراعظم ،وزراء اور صوبائی وزراء اعلیٰ اوروزراء کے معاملہ پراپوزیشن جماعتوں میں تنازعات پیدا ہوسکتے ہیں کمیٹی کے اجلاس میں اے پی ڈی ایم کی طرف سے سینیٹر اسحاق ڈار،احسن اقبال، پروفیسرخورشید، عبدالرحیم مندوخیل،میرحاصل بزنجو، اکرم شاہ اورجان محمد بلیدی جبکہ اے آرڈی کی طرف سے میاں رضاربانی، صفدرعباسی، نوید ملک اورعبدالقدیرخاموش نے شرکت کی۔
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|