تھامس کو من موہن سنگھ کی سربراہی میں قائم تین رکنی سپیشل نے بطور سی وی سی تعینات کیا تھا
لاہور (صابر شاہ) سپریم کورٹ کی طرف سے نیب کے چیئرمین کی تعیناتی کو غیرآئینی قرار دینے کے فیصلے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے عقابوں کے برخلاف اسی طرح کے ایک مقدمے میں بھارتی حکومت نے انتہائی شرمندگی محسوس کی پاکستان کی صورتحال کے برخلاف جہاں صوبہ سندھ کے وزیرداخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) دیدار حسین شاہ کی تعیناتی کو غیرآئینی قرار دینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف صوبے میں ہڑتال کی کال دیدی۔ بھارت کی کانگریس کی اتحادی حکومت بھارتی چیف ویجیلنس کمشنر اینٹی کرپشن چیف کی تعیناتی کو 3 مارچ کو اعلیٰ عدالت کی طرف سے غیر قانونی قرار دینے کے اسی طرح کے فیصلے پر پردہ ڈالا قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے جیسے نسلی فرقہ وارانہ اور سیاسی کارڈز کھیلنے کے بجائے بھارتی حکومت نے معاملے کوعدالت پر چھوڑنے کا فیصلہ کیا جو مکمل طور پر اس سوچ سے مختلف ہے جس کا گذشتہ روز جمعرات کو 170 ملین پاکستانیوں نے مشاہدہ کیا جب پاکستان پیپلز پارٹی کے زور آور اور ہر وقت جذبات سے بھرے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے ایک مرتبہ پھر اپنی پارٹی کے وفادار دیدار حسین شاہ کو سپریم کورٹ کے گھر بھیجنے کے فیصلے کے بعد روایتی اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کیا۔ اس سے کوئی ایک ہفتہ قبل بھارتی سپریم کورٹ نے چیف ویجیلنس کمشنر پی جے تھامس کی تعیناتی کو کالعدم قرار دیا تھا اور اس معاملے پر بھارت کے ایک موقر انگریزی اخبار ”دی ہندو“ نے اس طرح سے تبصرہ کیا۔ ”اب کانگریس امید کر رہی ہے کہ سپریم کورٹ خود مسٹر تھامس کی تعیناتی کو ناقابل مدافعت سمجھتی ہے اور حکومت سے ان کو عہدے سے فارغ کرنے کے بارے میں کہے گی اس دوران کانگریس نے اس معاملے سے خود کو دور رکھنے کی کوشش کی“ درخواست گزاروں نے عدالت میں دلائل دئیے کہ تھامس کو باکردار اور راست بازشخصیت نہیں گردانا جا سکتا کیونکہ ان پر اس وقت پام آئل کی درآمد کے سکینڈل میں ملوث ہونے کا الزام ہے جب وہ کیرالہ کی وزارت خوراک میں سیکرٹری کے طورپر خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ برس کے تھامس کو وزیر اعظم من موہن سنگھ کی سربراہی میں قائم تین رکنی سپیشل نے بطور سی وی سی تعینات کیا تھا لیکن ایسا لوک سبھا کی اپوزیشن لیڈر شسماسوراج سے بالا ہی بالا یہ کیا گیا۔جنہوں نے تھامس سے متعلق اختلافی نوٹ لکھا تھا اور یہ سب بھارتی حکمران نیشنل کانگریس میں یونائیٹڈ پروگریسو الائنس (یو پی اے) کیلئے انتہائی شرمندگی کا باعث بنا کہ وزیر اعظم من موہن سنگھ کی قیادت میں قائم اعلیٰ سطح کی کمیٹی کی طرف سے تھامس کی تعیناتی کو بھارتی چیف جسٹس ایس ایچ کپاڈیا اور جسٹس کے ایس رادھا کرشن اور سوتنتر کمہار نے مسترد کر دیا۔داغدار دامن کے حامل ملزم چیف ویجیلنس کمشنر کے خود کو باکردار شخص قرار دینے کی اپیل نظر انداز کرتے ہوئے بھارتی عدالت عظمیٰ کے ججوں نے وزیر اعظم کے پینل پر کڑی تنقید کی جس نے بی جے پی کی اکلوتی ممبر شسما سوراج کی مخالفت سے قطع نظر تھامس کو اس عہدہ پر تعینات کیا فاضل بھارتی عدالت نے حکومت سے استفسار کیا کہ کیا تھامس کے مجرمانہ کیس کی تمام جزیات سلیکشن کمیٹی کے سامنے پیش کی گئیں جس میں حزب اختلاف کی رہنما شسما سوراج بھی شامل تھیں بھارتی عدالت عظمیٰ کے فیصلہ سے قبل ”دی ہندو“ نے لکھا کہ جہاں لوک سبھا میں حزب اختلاف کی رہنما شسما سوراج نے حکومت کی اس بیان کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت میں کیس دائر کرنے کی دھمکی دی جس میں کہا گیا کہ حکومت سی وی سی کی تعیناتی کے وقت اس بات سے بے خبر تھی کہ انہیں پام آئل امپورٹ سکینڈل کے کیس میں چارج شیٹ کیا گیا ہے اخبار نے مزید تحریر کیا کہ مس سوراج وزیر اعظم منموہن سنگھ کی زیر قیادت اعلیٰ سطح کمیٹی میں شامل تھیں اور تیسرے ممبر وزیر داخلہ چدمبرم تھے باخبر ذرائع کے مطابق یو پی اے حکومت نے تھامس کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ خود یہ عہدہ چھوڑ دیں مگر موخر الذکر نے واضح کر دیا کہ وہ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں کیونکہ اس طرح وہ اپنے موجودہ استثنیٰ سے محروم ہو جاتے اور ایسا معلوم ہوتا کہ وہ مجرم ہیں تاہم کانگریس کے برانگیختہ ترجمان شکیل احمد کے حوالے سے ”دی ہندو“ نے کہاکہ ویجیلنس کمشنر کو نہیں نکالا جا سکتا کیونکہ انہیں ایک آئینی عہدہ پر تعینات کیا گیا ہے وہ مصر تھے کہ بے شک حکومت ان کے مواخذہ کی کارروائی کا آغاز کر سکتی ہے لیکن جیسا کہ انہوں نے بطور سی وی سی کوئی غلط کام نہیں کیا تو اس بات کا کوئی امکان نہیں وہ (سی وی سی) اپنے آپ کو حکومت اور حزب مخالف کے مابین جنگ کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ عدالت کے فیصلہ سے پیشتر انگریزی کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے بھارتی اخبار ”دی ٹائمز آف انڈیا“ نے 27جنوری 2010ءکی اشاعت میں لکھا کہ گذشتہ سال 7 ستمبر کو بطور سی وی سی تعینات ہونے والے پی جے تھامس کو این جی او عوامی مفاد کیلئے قانونی چارہ جوئی (سی پی آئی ایل) اور سابق چیف الیکشن کمشنر جے ایم لینگدو سمیت ممتاز افراد کی طرف سے ان کی تعیناتی کیخلاف دائر پٹیشنز پر نوٹسز جاری کئے گئے جب عدالت نے اپنا فیصلہ سنا دیا توکانگریس یا اس کے اتحادیوں میں سے کسی عہدیدار نے یہ کہنے کی جرات نہیں کی جو گذشتہ شام ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے کہا لیکن یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہے کہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کو اس انداز میں بات کرتے ہوئے سنا گیا ہے۔