واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


ایک اور تہنیتی کالم,,,,کٹہرا…خالد مسعود خان

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 29-10-07, 10:28 AM   #1
ایک اور تہنیتی کالم,,,,کٹہرا…خالد مسعود خان
خرم شہزاد خرم خرم شہزاد خرم آف لائن ہے 29-10-07, 10:28 AM

پاکستان کو اس وقت بے شمار مسائل اور خرابیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ غیرمنتخب حکمران، غیرمقبول پالیسیاں، انتہاپسندی، عدم برداشت، لاقانونیت، عدم تحفظ، مہنگائی، غربت، کرپشن، اداروں کی بربادی، امیر اور غریب کے درمیان بڑھتی ہوئی معاشی اور سماجی خلیج، ملک کے اندر جنگ کی سی صورتحال اور اس کے علاوہ ان گنت مسائل ہیں جس سے یہ ملک گزررہا ہے لیکن اصل افسوس کی بات یہ ہے کہ ان خرابیوں میں کسی قسم کی کمی کی بجائے روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی بنیادی وجہ صرف یہ ہے کہ ہر شخص وہ کام نہیں کررہا جس کے لئے اسے ذمہ داربنایا گیا ہے اور وہ اپنے بنیادی کام اور حقیقی ذمہ داری کے علاوہ دیگر کاموں میں مصروف ہیں۔ آرمی چیف ملکی سرحدوں کی حفاظت کی بجائے محض اپنی وردی کی حفاظت میں مصروف ہے۔ شہر کے محافظ لوٹ مار میں مصروف ہیں۔ غریبوں کے سر پر ہاتھ رکھنے والے لاوارث پلاٹوں پر قبضہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ساری عمر لفٹ رائٹ کرنے والا جرنیل ریلوے کا وزیر بن جاتا ہے اور غلط، گھٹیا اور بیکار انجنوں کی خریداری میں قوم کے اربوں روپے برباد کرنے کے بعد وزیر تعلیم بن جاتا ہے اور کہتا ہے کہ قرآن میں چالیس سپارے ہیں۔ قانون کو گھر کی لونڈی سمجھ کر اس سے لونڈیوں والا سلوک کرنے والے شخص کو وزیر قانون بنا دیا جاتا ہے۔ سیاست میں کسی قسم کی دخل اندازی نہ کرنے کا حلف اٹھانے والا شخص کرپٹ سیاستدانوں سے حکمرانوں کی ڈیل میں ”مڈل مین“ کا کردا رسرانجام دیتا ہے۔ تاجر حکمران بنے ہوئے ہیں۔ ایجنسیوں کے لوگ اپنی ساری ”پیشہ وارانہ“ مہارت سیاسی یتیموں پر آزما رہے ہیں۔ کئی وزیر اپنی وزارت چلانے کے بجائے صرف میڈیا میں اپنی شکل دکھا کر مطمئن ہیں کہ ان کی وزارت بڑے بہتر کام میں استعمال ہو رہی ہے۔ اپنے محترم وزیر ریلوے جناب شیخ رشید احمد بھی نہ صرف اسی قبیل کے وزیر ہیں بلکہ ایسے تمام وزیروں کے امام ہیں۔ مورخہ 18اکتوبر کو وہ بے نظیر بھٹو کی کراچی آمد تک ہر چار چھ گھنٹوں بعد وہ کسی نہ کسی بہانے سے ڈیل سے متعلق کوئی نہ کوئی پھلجھڑی چھوڑتے رہتے تھے اور ہر دو فریقین کے انکار کے بعد اپنی بات کو مزید شدومد کیساتھ دوہرا کر بہت سے لوگوں کیلئے باقاعدہ مسئلہ کھڑا کرتے رہے ہیں۔ وہ وزارت اطلاعات و نشریات کا قلمدان ہاتھ سے نکل جانے کے باوجود ذہنی طور پر وزیراطلاعات و نشریات ہی بنے ہوئے ہیں اور ریلوے کے معاملات سے باقاعدہ بچ بچا کر گزر جاتے ہیں کہ مبادا ہے کہیں غلطی سے انہیں اپنی متعلقہ وزارت کا کوئی کام ہی نہ کرناپڑ جائے۔خیر میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ وہ ابھی تک وزارت اطلاعات کے قلمدان سے محروم ہونے کے صدمے سے نہیں نکل سکے تاہم مجھے یہ تسلیم کرنے میں بھی رتی برابر تامل نہیں کہ وہ وزیراطلاعات و نشریات سے بہتر بیان دیتے ہیں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ وہ وزرات اطلاعات و نشریات سے فارغ ہونے کے بعد اطلاعات و نشریات کا کام زیادہ بہتر اور پیشہ وارانہ انداز میں نبھا رہے ہیں۔ لیکن براہو بعض ایسے نقالوں کا جو اپنا کام بھی نہیں کرتے اور سیدھے سرپیر کا کوئی بیان بھی نہیں دیتے۔ مثلاً ہمارے شہر ملتان کے ایک ٹاؤن ناظم نے گزشتہ دنوں جوش میں آکر بیان دیا ہے ”پنجاب چوہدریوں کا ہے۔“ مجھے اپنے ٹاؤن ناظم کی اس بات پر نہ تو حیرانی ہوئی اور نہ ہی پریشانی ہوئی کیونکہ دونوں باپ بیٹا اس قسم کے بیانات دیتے رہتے ہیں۔ بلکہ ایک بار تو یوں ہوا کہ ہمارے ایک دوست رضا لودھی نے اپنی این جی اوکے کسی فنکشن پر اس ٹاؤن ناظم کو مہمان خصوصی بنایا تھا لیکن وہ وقت مقررہ پر نہ پہنچا۔ پریشان حال لودھی نے اس کے دفتر کے پی ٹی سی ایل نمبر پر فون کیا اور کہا سر! آپ جلدی آجائیں سب لوگ پہنچ چکے ہیں۔ میرے اس عزیز ٹاؤن ناظم نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ آپ فکر نہ کریں میں اس وقت چوک کمہاراں والاکراس کر چکا ہوں۔ موصوف بھول گئے کہ وہ موبائل فون پر نہیں بلکہ لینڈ لائن فون پر بات کررہے ہیں۔ خیر میں نے ان کے بیان کے بعد کافی سارے پٹواریوں سے رابطہ کیا اور ان سے سرکاری جمع بندی کے حوالے سے پوچھا کہ کیا پنجاب چوہدریوں کا ہے؟ ایک ستم ظریف پٹواری نے کہا کہ چوہدریوں کے پاس رحیم یارخان میں کچھ مربع اراضی اور لاہور میں چند سو پلاٹ ہیں۔ جبکہ انہوں نے تو پنجاب میں اپنی تقریباً تمام ملیں بھی فروخت کر دی ہیں۔ باقی پٹواریوں نے ٹاؤن ناظم کے بزرگوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر کچھ بتانے سے انکارکردیا۔ اگلے ہی روز فرمانے لگے کہ شاہ محمود کے حلقے سے ایک بھی شخص بے نظیر کے استقبال کے لئے کراچی نہیں گیا۔ میں نے شاہ محمود کے حلقے میں رہائشی اپنے ایک پیپلزپارٹی سے وابستہ دوست کو فون کیا اور اس سے پوچھا کہ کیا واقعی اس کے حلقے سے پیپلزپارٹی کا ایک بھی ورکر کراچی نہیں گیا۔ اس دوست نے جواباً کہا کہ یہ بات سو فیصد سے بھی زیادہ درست ہے کہ شاہ محمود قریشی کے حلقے سے ایک جیالا کراچی نہیں گیا۔ کیونکہ اس حلقے سے درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں جیالے کراچی گئے ہیں اور وہ موبائل فون پر بتانے لگا کہ وہ خود بھی اس وقت کراچی پہنچ چکا ہے۔ خیربات ہو رہی تھی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کی اور چلی گئی ملتان کے ایک ٹاؤن ناظم کی جانب۔ جناب وزیرریلوے بھی اپنا کام یعنی سرکاری تفویض شدہ فرائض سرانجام دینے کے بجائے اپنی ”دل پشوری“ میں لگے ہوئے ہیں اور ہمہ وقت اخبارات میں بیانات دینے، ٹی وی مذاکروں میں حصہ لینے اور حکومتی اقدامات کے بارے میں تبصرے کرنے میں مصروف ہیں۔ درجنوں ٹیلی ویژن چینلز کے طفیل بعض اوقات تو یوں ہوتا ہے کہ ایک چینل بدل کر دوسرا لگائیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ بھی ہمارے ٹی وی ریموٹ کی سپیڈ کا مقابلہ کرتے ہوئے دوسرے چینل کی فون کال وصول کر چکے ہیں اور اب اس چینل کو اپنے ارشادات سے مستفید فرمارہے ہیں۔ پچھلے سال میں نے اپنے کالم میں ایک ”نہایت خوشگوار“ ریلوے سفر کا احوال لکھا۔ کالم کا عنوان غالباً ”ایک تہنیتی کالم“ تھا۔ کالم چھپنے کے دو تین دن بعد ریلوے کے مقامی دفتر سے ایک افسر کا ٹیلی فون آیا اور اس نے مجھ سے دریافت کیا کہ میں نے کس روز، کس ٹرین سے ،کس سیٹ نمبر اور ٹکٹ نمبر سے سفر کیا تھا۔ وجہ دریافت کی تو جواب ملا کہ مقصد صرف یہ ہے کہ اس روز اس ٹرین کے عملے سے پوچھ گچھ کی جا سکے۔ میں نے اس افسر سے کہا کہ آپ کا اصل مقصد تو دراصل یہ دریافت کرنا ہے کہ میں نے واقعی سفر بھی کیا ہے یا محض کہانی لکھی ہے۔ مجھے ریلوے کے اس افسر کے اس تحقیقاتی فون سے قبل ہی اندازہ تھا کہ کوئی نہ کوئی بزرجمہر مجھ سے یہ سوال کرکے مجھے اپنے تئیں شرمندہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ میں نے ایک لطیفہ پڑھ رکھا تھا جس میں وکیل نے گواہ پر جرح کرتے ہوئے پوچھا کہ جس کمرے سے چور نے زیورات چرائے تھے اس کی چھت لینٹر کی تھی یا لکڑی کی کڑیوں سے بنی تھی۔ گواہ نے جواب دیا لکڑی کی کڑیوں سے بنی تھی۔ وکیل نے پھر پوچھا کہ چھت میں کتنی کڑیاں تھیں؟ گواہ نے کہا پوری 19کڑیاں تھیں۔ وکیل نے تعجب سے پوچھا کہ تمہیں کڑیوں کی تعداد اتنی درستی کے ساتھ کیسے یاد ہے؟ گواہ ہنسا اور کہنے لگا مجھے پتہ تھا عدالت میں کوئی نہ کوئی احمق مجھ سے ایسا فضول اور واہیات سوال ضرور پوچھے گا۔ لہٰذا میں یہ کڑیاں پہلے ہی گن کر آیا تھا۔ اسی طرح کالم لکھتے ہوئے مجھے یقین تھا کہ کوئی نہ کوئی”عقلمند“ مجھ سے اس بارے میں ضرور پوچھے گا۔ لہٰذا میں نے اپنی ٹکٹ سنبھال رکھی تھی۔ میں نے اسے بتایا کہ میں نے مورخہ 8نومبر کو دو ڈاؤن خیبرمیل ایکسپریس سے ٹکٹ نمبر 02mul06000136158 اور کمپیوٹر نمبر B9897091کے تحت کوچ نمبر 09سیٹ نمبر El-1اے سی سیلپر پرسفرکیا ہے۔ اس افسر نے خاموشی سے فون بند کیا اور پھر اس کا دوبارہ کبھی فون نہیں آیا کہ مذکورہ ”تحقیقات“ کا کیا بنا۔ میری ایک عزیز نے مورخہ 11اکتوبر2007ء کو 43اپ ایکسپریس کے ذریعے کراچی سے خانیوال کا سفر کیا۔ دوپہر دو بجے کراچی سے روانہ ہونے والی ٹرین ساڑھے چار گھنٹے کی تاخیر کے بعد ساڑھے چھ بجے کراچی سے روانہ ہوئی اور مزید تین گھنٹے لیٹ ہونے کے بعد خانیوال ساڑھے سات گھنٹے کی تاخیر سے پہنچی۔ اس نئی چلنے والی ٹرین کے ساتھ اس روز پرانی بوگیاں بھی لگی ہوئی تھیں اور نام کی براق ایکسپریس کی کارکردگی کسی ”ٹٹو“سے بھی بدتر تھی۔ وزیر ریلوے جناب شیخ رشید احمد صاحب کو ایک سیکنڈ سے لے کر پچاس منٹ تک کے ٹی وی پروگراموں میں شرکت سے فرصت نہیں۔ وہ بیانات، تبصروں، ٹاک شوز اور اسی نوعیت کے دوسرے پروگراموں میں مصروف ہیں۔ خدا کرے کہ وہ اس قسم کے کاموں میں اور بھی مصروف ہوں لیکن خدا کے واسطے وہ ریلوے کی وزارت کو صرف اپنے ”ٹوہرٹاپے“ اوروزارت برائے وزارت کے لئے ہی نہ استعمال کریں بلکہ چوبیس گھنٹوں پر مشتمل طویل دن میں سے دس پندرہ منٹ اپنی وزارت کو بھی عطا کر دیا کریں۔ اس سے انہیں ہر ماہ وزیر ریلوے کی حیثیت سے تنخواہ وصول کرتے ہوئے ضمیر کے آگے ذرا کم جوابدہی کرنا پڑے گی۔ ویسے بھی حصول رزق عین عبادت ہے۔ لیکن شیخ صاحب کا بھی قصور نہیں ہے، میں پہلے ہی بتا چکا ہوں ہمارے ہاں تمام خرابیوں کی جڑ یہی ہے کہ ہم دنیا بھر کے دیگر تمام کام کر سکتے ہیں مگر اپنی ڈیوٹی، اپنے فرائض اور خود کو تفویض شدہ کام نہیں کرسکتے اور شیخ صاحب کے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہے۔ کالم کے آخر میں یہ بات لکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میرے پاس اپنی عزیزہ کے اس خوشگوار سفر کی ٹکٹ بھی محفوظ پڑی ہے۔ یہ شیخ رشید صاحب کی خدمت میں میرا دوسرا تہنیتی کالم ہے۔ ”گرقبول افتدز ہے عزوشرف۔“
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز

 
خرم شہزاد خرم's Avatar
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 364
Reply With Quote
جواب

Tags
فروخت, کمپیوٹر, کراچی, پاکستان, وزیر, قرآن, لوگ, لطیفہ, چور, موبائل, مقابلہ, مسائل, امیر, بے نظیر, تعلیم, خان, خدا, دوست, دریافت, سفر, سیاست, شہر, شخص, عبادت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
شہاب نامہ (آپ بیتی) خرم شہزاد خرم آپ بیتی 6 26-12-10 07:28 AM
ملکی تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی محمدعمر خبریں 9 16-12-09 08:08 AM
شکوک و شبہات اور بدنیتی میاں شاہد گپ شپ 0 27-05-08 12:13 PM
محبت شاعر بنا دیتی ہے۔ ۔ ۔آپکی کیا رائے ہے؟ عائشہ گپ شپ 30 04-04-08 05:41 PM
محبت مار دیتی ہے مہک شعر و شاعری 5 01-09-07 06:23 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:23 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger