| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 221
|
||||
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,643
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پاکستانی فوجی دورہ اپنا مقاصد میں کامیاب ہوا، کچھ کے اکاونٹوں میں آضافہ ہو گا اور کچھ حملوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,393
کمائي: 95,878
شکریہ: 52,518
11,177 مراسلہ میں 35,247 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,853
کمائي: 278,076
شکریہ: 1,155
6,267 مراسلہ میں 14,145 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اِسی پرہماایک آرٹیکل لکھ چُکی ہیں کہ ڈرون حملے کب تک جاری رہیں گے۔ آرٹیکل ملاحظہ ہو۔
پاکستان میں پہلا ڈرون حملہ 18 جون 2004ء کو ہوا۔ تب سے 17 مارچ 2011ء تک 232 ڈرون حملے پاکستانی سرزمین پر ہو چکے ہیں، ان میں القاعدہ کے ارکان تو کم ہی مارے گئے ہیں البتہ 1379 بیگناہ پاکستانی مارے جا چکے ہیں۔ ڈرون حملوں کے خلاف حکومت پاکستان کی طرف سے کیا جانے والا احتجاج بھی انتہائی کمزور رہا ہے بلکہ زیادہ تر رپورٹس کے مطابق ہمارے حکمران درون خانہ اس کے حامی ہیں۔ وکی لیکس کی طرف سے برطانوی اخبار گارڈین کو دیئے گئے امریکی سفارتی پیغامات کے مطابق حکومت پاکستان نے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کی حمایت کی تھی۔ ڈرون حملوں سے متعلق یہ پیغامات 23 اگست 2008ء کے ہیں جن میں پاکستان میں تعینات امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے امریکی دفتر خارجہ کو ایک مراسلہ بھیجا جس میں انھوں نے بتایا کہ حکومت پاکستان سرکاری طور پر قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کی مخالفت کرتی ہے لیکن نجی طور پر اس کی حمایت کرتی ہے۔ مراسلے کے مطابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے تجویز دی تھی کہ ڈرون حملوں کو باجوڑ آپریشن کے بعد تک روک لیا جائے۔ تاہم وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے رحمان ملک کے بیان کو مسترد کر دیا اور کہا کہ مجھے اس پر اس وقت تک کوئی اعتراض نہیں جب تک وہ صحیح افراد کو نشانہ بناتے رہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ وزیراعظم سے مخفی نہیں کہ ان حملوں کے نتیجے میں زیادہ تر بے گناہ پاکستانی شہری مارے جا رہے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے ایڈیٹر اور امریکی"وار آن ٹیرر" کے امور کے ماہر" باب ووڈ ورڈ" اپنی کتاب میں یہ انکشاف کر چکے ہیں کہ پاکستان کے صدر آصف زرداری نے امریکیوں سے کہا تھا کہ ڈرون حملوں میں ضمنی ہلاکتوں یا عام نہتے شہریوں کی ہلاکت پر ردعمل امریکی درد سر ہے مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ باراک اوباما کے صدر بننے کے بعد اور پاکستان میں جمہوری حکومت قائم ہونے کے بعد ان حملوں کی تعداد اور شدت میں دن بدن اضافہ ہوتا رہا ہے بلکہ اس امر کا خطرہ موجود ہے کہ یہ حملے وانا، وزیرستان، باجوڑ ایجنسی اور کرم ایجنسی یعنی قبائلی علاقوں تک ہی محدود نہیں رہیں گے آہستہ آہستہ ان کا دائرہ کار پورے پاکستان میں پھیل جائے گا، جبکہ خود قبائلی علاقے پاکستان کی ریاست کا قانونی اور لاینفک حصہ ہیں۔ ان پر امریکی ڈرون حملے اسی طرح غیر قانونی ہیں جیسے کسی اور علاقے میں ہو سکتے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں انھیں نظر انداز کیا جانا امریکی جارحیت کی حوصلہ افزائی اور ریاستی دفاع کے ارادے کی کمزوری کی دلیل ہے۔ اس رائے کو امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ سے تقویت ملتی ہے کہ وائٹ ہاﺅس کو ملنے والی دو خفیہ رپورٹس میں امریکی حکام سے کہا گیا ہے کہ طالبان اور القاعدہ کی سرگرمیاں بلوچستان کے بعض علاقوں میں خطرناک حد تک بڑھ گئی ہیں، اس لیے طالبان اور القاعدہ کے مشتبہ ٹھکانوں پر جاسوس طیاروں سے حملے ضروری ہیں۔ اخبار کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسیوں کے بعض اہلکار اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ملا عمر اور ان کے ساتھیوں کی سرگرمیاں کوئٹہ کے اردگرد کے علاقوں میں بہت بڑھ گئی ہیں اس لیے وہاں بھی ڈرون حملے شروع کیے جا سکتے ہیں۔ البتہ پاک فوج اور حکومت نے بلوچستان میں ڈرون حملوں کی ہمیشہ سخت مخالفت کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے ابھی تک یہ اقدام نہیں کیا۔ پاکستان کی سیاسی قیادت کے طرزعمل کو امریکی سینیٹر کال لیون نے بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی قیادت نجی طور پر ڈرون حملوں کی حامی ہے جبکہ عوام ڈرون حملوں کے مخالف ہیں اور صرف عوام کو مطمئن کرنے کے لیے پاکستانی قیادت ڈرون حملوں کی مخالفت کرتی ہے اگرچہ کال لیون کی بات کا انکار کیا جاسکتا ہے لیکن کیا کیا جائے کہ زمینی حقائق اُن کی بات کی تائید کرتے ہیں۔ ڈرونز کے دو کمپوننٹ ہیں، ان میں سے ایک امریکا میں ہے۔ یہ کمپوننٹ "نواڈا" میں نیلس اسٹیشن میں ہے۔ یہاں امریکی ایئرفورس کا بیس ہے اور یہاں ڈرونز کو کمانڈ کیا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر ڈرونز سیٹلائٹ گائیڈڈ سسٹم سے منسلک ہے۔ اس سسٹم سے مطلوبہ ٹارگٹ کی نشاندہی کی جاتی ہے اور اسی سسٹم سے ڈرونز کو ڈیٹا فراہم کیا جاتا ہے اور یہ مقررہ ہدف کو نشانہ بناتے ہیں۔ دوسرا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم جو پہلے پاکستان میں میریٹ ہوٹل میں تھا، اب جیکب آباد کے علاقے میں ہے اور پاکستان میں جتنے بھی ڈرونز حملے ہوتے ہیں وہ اسی سسٹم کے ذریعے ہوتے ہیں، لہٰذا ڈرونز حملوں کا یہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ان حملوں میں پاکستانی حکمرانوں کی مرضی شامل ہے۔ مسلم لیگ(ق) کے سینئر رہنما سینیٹر ایس ایم ظفر کہہ چکے ہیں کہ قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملے حکومت پاکستان کی رضا مندی سے ہو رہے ہیں اور حکومت ڈرون حملوں کو رکوانے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ دوسری طرف پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینٹ متفقہ طور پر ڈرون حملوں کے خلاف قرارداد منظور کر چکے ہیں۔ اس میں حکومت پاکستان سے واضح طور پر کہا گیا ہے کہ وہ ان حملوں کو رکوانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے۔ اس میں ان حملوں کو پاکستان کی خودمختاری کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ حکمران پارٹی نے بھی پارلیمان میں اس قرارداد کی حمایت کی ہے لیکن حکومت نے زبانی جمع خرچ کے علاوہ اس سلسلے میں تاحال کچھ نہیں کیا۔ البتہ پاکستان کے عوام اور بعض سیاسی پارٹیوں کی طرف سے اس پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری طرف امریکہ پاکستان کے اندر کیے جانے والے احتجاجات اور عالمی حلقوں کی جانب سے کی جانے والے تنقید کی پرواہ کیے بغیر پاکستان کے قبائلی علاقوں پر اپنے ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ شمالی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی کامران خان نے بتایا کہ انھوں نے پہلے بھی پارلیمان میں ڈرون حملوں کے خلاف آواز بلند کی تھی اور آئندہ بھی وہ یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔ کامران خان نے حکومت پاکستان سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ڈرون حملوں کو بند کروانے میں کردار ادا کرے۔ اراکین اسمبلی نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ملک کے قبائلی علاقوں میں تواتر کے ساتھ ہونے والے ڈرون حملوں کو رکوانے کے لیے حکومت پاکستان کے راستے نیٹو افواج کے لیے افغانستان جانے والی رسد کو بھی روک دے کیونکہ ان کا موقف ہے کہ ایسا کرنے سے سرحد پار موجود امریکی افواج پر دباﺅ میں اضافہ ہو گا۔ اس سلسلے میں یہ بات قابل توجہ ہے کہ پاکستانی فوجی چوکی پر ایک ڈرون حملے کے بعد ایک مرتبہ اس رسد کو روکا گیا تو امریکہ کو پاکستان سے معذرت کرنا پڑی تھی۔ ڈرون حملوں کا یہ سلسلہ واضح طور پر اتنا غیرقانونی اور جارحیت پر مبنی ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے بھی امریکہ کی اس پالیسی کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ اس پالیسی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں کا استعمال لوگوں کو قتل کرنے کے مترادف اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں امریکہ سے کہا گیا ہے کہ وہ ان علاقوں میں ڈرون کا استعمال نہ کرے جہاں جنگ کی صورت حال نہیں ہے، یاد رہے کہ سلامتی کونسل کی جس قرارداد کا سہارا لے کر نیٹو فورسز افغانستان میں موجود ہیں وہ بھی اسے ایسے حملوں کی ہرگز اجازت نہیں دیتی بلکہ بعض ناقدین کے خیال میں اُسے افغانستان میں بھی غلط تشریح کے ساتھ استعمال کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی میڈیا کے علاوہ عالمی میڈیا میں بھی ایسے مضامین شائع ہو رہے ہیں جن میں ڈرون حملوں کی مخالفت کی گئی ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں چھپنے والے ایک آرٹیکل میں کہا گیا تھا کہ امریکہ اور پاکستان دونوں کے مفاد میں ہے کہ ان حملوں کو فوری طور پر روک دیا جائے۔ پاکستان میں بعض حلقوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آج امریکہ حملے کر رہا ہے اور فوج اور سول حکومت بے بس ہے تو کل کو اگر بھارت نے حملے کیے تو کیا یہی جواب ہو گا۔ اس حوالے سے ایک بہت بنیادی سوال ہے کہ کیا پاک فوج ان حملوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ اس کے جواب کے لیے حال ہی میں ہونے والے17مارچ کے ڈرون حملے کا ذکر نمونے کے طور پر کیا جاسکتا ہے جس پر پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے پہلی مرتبہ سخت رویہ اختیار کیا تو اس کے اثرات تاحال محسوس کیے جا رہے ہیں۔ یقینی طور پر اس کے بعد امریکہ کے ذمہ دار حکام نے معاملے کو زیادہ سنجیدگی سے لیا ہے۔ پاکستان نے امریکہ سے 17 مارچ کو شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں ڈرون حملوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں پر نہایت سخت احتجاج کیا، یہاں تک کہ پاکستان میں تعینات امریکی سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کیا گیا اور ان سے اس واقعہ پر شدید احتجاج کیا گیا۔ اسے پاکستان میں ایک غیرمعمولی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی طرف سے کہا گیا کہ اس طرح کی کارروائیاں شدت پسندی کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر اثرانداز ہوں گی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔ بہرحال اس پر پاکستان میں پہلی مرتبہ یہ احساس پیدا ہوا کہ اگر فوج اور حکومت چاہے تو یہ ڈرون حملے رُک سکتے ہیں۔ پاک فضائیہ کے سربراہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ حکومت کہے تو یہ حملے روکے جا سکتے ہیں۔ گویا فیصلہ کرنا ہی باقی ہے۔ گذشتہ دنوں پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے پھر ایک کمزور بیان دیا کہ یہ حملے امریکہ کر رہا ہے پاکستان نہیں روک سکتا، انھوں نے کہا کہ ہمارے بس میں نہیں کہ 66 ہزار فٹ کی بلندی پر اڑنے والے ڈرون مار گرائیں۔ اُن کا یہ بیان کئی حوالوں سے محلِ نظر ہے کیونکہ پاکستان کے پاس ان حملوں کو روکنے کے لیے ایک سے زیادہ طریقے اور آپشنز موجود ہیں۔ پاکستان کے تعاون کے بغیر نیٹو فورسز افغانستان میں ہرگز کارروائی جاری نہیں رکھ سکتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بعض سیاسی عناصر کی اپنی کمزوریاں یا بیرونی وابستگیاں ایک عظیم قوم کی عزت و وقار کو داغدار کیے ہوئے ہیں۔
__________________
![]() |
|
|
|
| زارا کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (13-04-11) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
کچھ دیر پہلے جناب وزیر آعظم پاکستان نے ارشاد فرمایا ھے
ڈرون حملوں پرسفارتی سطح پردنیاکوقائل کرنیکی کوشش کررہے ہیں۔
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | مرزا عامر (13-04-11), عدنان دانی (14-04-11) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
جنگ تازہ ترین
Updated at 2155 PST اسلام آباد…پاکستان نے انگوراڈامیں ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہیں امریکی سفیر سے احتجاج کیا ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ ڈرون حملے نقصان دہ ہیں اور یہ حملے دہشتگردوں کے ہاتھوں کومضبوط کرتے ہیں۔تر جمان کے مطابق سیکریٹری خارجہ نے جب احتجاج رکارڈ کرایا اس وقت امریکی سفیر کیمرون منٹر دفتر خارجہ کی عمارت میں موجود تھے۔واضح رہے کہ جنوبی وزیرستان کیتحصیل برمل کے علاقے انگوراڈا میں امریکی ڈرون حملوں میں کم از کم 6افرادہلاک ہوئے یہ حملہ ایک مکان کیا گیا اور چھ میزائل داغے گئے۔ جب تک پاکستانی میڈیا ہلاک کی جگہ شہید نہیں لکھتا اس وقت تک احتجاج صرف احتجاج ہی رہے گا ۔ دیکھتے ہیں کب ایسا لکھا جانا شروع ھوتا ھے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, pakistan, کرے, گئی, پہلی, پہلے, مکمل, مقام, مطابق, آج, اللہ, انتظامیہ, امریکہ, اردو, خفیہ, خلاف, خان, خبر, شناخت, علم, علاقہ, علاقے, عزیز, غصہ, صبح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|