بچوں کو ہیضہ اور ڈائریا کا خطرہ، بحالی کیلئے 14 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی ہنگامی امداد درکار ہے ، یونیسیف
لاہور (رپورٹ / شاہین حسن) ملک میں سیلاب سے 7800 اسکولوں کو نقصان پہنچا جبکہ 5ہزار اسکول متاثرین کیلئے امدادی کیمپوں میں تبدیل ہو چکے ہیں جس سے 12لاکھ بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی ہے۔ عالمی ادارہ اطفال کے اعدادو شمار کے مطابق ملک میں سیلاب متاثرین کی تعداد ایک کروڑ 72لاکھ ہے جبکہ کل سیلاب متاثرین میں سے 50 فیصد بچے ہیں اِن میں ایک سال سے کم عمر بچوں کی تعداد 6لاکھ سے زائد اور 5سال سے کم عمر بچے 24لاکھ ہے جبکہ مجموعی طور پر 18سال سے کم عمر بچوں کی تعداد 85لاکھ 87ہزار ہے اسکے علاوہ 15سے 49سال کی عمر کی 30لاکھ 91ہزار سے زائد خواتین سیلاب متاثرین میں شامل ہیں جبکہ ان میں سے 7لاکھ سے زائد خواتین حاملہ ہیں۔ عالمی ادارہ اطفال کے مطابق صاف پانی کی عدم فراہمی اور سینی ٹیشن کی سہولیات کی عدم موجودگی کے باعث سیلابی علاقوں میں 5سال سے کم عمر بچوں کا ڈائریا اور کولرا کا شکار ہونے کا خطرہ ہے۔ یونیسف کے مطابق سیلاب سے متاثرہ افراد خصوصاً عورتوں اور بچوں کی فوری امداد اور بحالی کیلئے اگست سے اکتوبر تک 3 ماہ میں 14 کروڑ 10 لاکھ ڈالر درکار ہیں جبکہ 25 اگست تک صحت کیلئے کل درکار (فنڈنگ) رقم میں سے (10 فیصد) 23لاکھ ڈالر حاصل ہوئے، خوراک کے 26.6) فیصد ) 46 لاکھ ڈالر، صاف پانی و سینی ٹیشن اور صفائی ستھرائی کیلئے 30) فیصد) 2کروڑ 47 لاکھ ڈالر، تعلیم کیلئے 6)فیصد) 7لاکھ 43ہزار ڈالر بچوں کے تحفظ کیلئے 22) فیصد) 13لاکھ ڈالر جبکہ ہنگامی ابلاغ اور رابطے کے 76) فیصد) 3لاکھ 84ہزار ڈالر کی فنڈنگ حاصل ہو سکی ہے۔ یوں 25 اگست تک درکار کل فنڈنگ میں سے 24) فیصد) 3کروڑ 41 لاکھ ڈالر حاصل ہو سکے جبکہ 76) فیصد) 10کروڑ 68لاکھ ڈالر کا فنڈنگ گیپ 25اگست تک تھا۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی