|
ای میل قانون:شہری آزادیوں پر حملہ

10-01-09, 03:17 AM
برطانیہ میں کمپنیوں کو ای میل کی معلومات محفوظ کرنے کا پابند کرنے والے قانون کو ناقدین نے شہری آزادیوں پر حملہ کہا ہے۔
برطانیہ میں نئے قانون کے مطابق مارچ کے مہینے سے انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے اداروں پر لازم ہوگا کہ برطانیہ کے اندر بھیجی گئی ہر ای میل کی تفصیلات ایک سال کے لیے محفوظ رکھیں۔
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کسی پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اتنا وسیع مواد محفوظ رکھ سکیں۔ محکمۂ داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ معلومات جرائم اور دہشت گردی سے متعلق مقدمات کے لیے ضروری ہیں۔ اس کے مطابق اس معلومات میں ای میل کا پیغام شامل نہیں۔
اس نئے قانون کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر شخص چوبیس گھنٹے نظر میں رہے گا۔
عملاً آپ کی مکمل زندگی تقریباً پانچ سو حکومتی ایجنسیوں کی نظر میں ہو گی‘
انسانی حقوق کے یورپی کنوینشن کی شق آٹھ کے تحت پرائیویسی ایک بنیادی حق ہے۔ اس حق کا تحفظ بہت ضروری ہے کیونکہ اگر ایک بار یہ کھو جائے تو پھر اسےبحال کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔‘
محکمۂ داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ معلومات تفتیش اور خفیہ معلومات کے حصول کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے مشکوک افراد کی نشاندہی ہوگی، ان کے رابطوں کا پتہ چلے گا، سازشیں کرنےوالے افراد کے آپس کے رابطوں کی کھوج لگائی جا سکے گی اور معلوم ہو سکے گا کہ کس وقت وہ کہاں پر تھے‘۔
ایسی اطلاعات بھی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کے معلومات جمع کرنے کے اور بھی عزائم ہیں۔ ان میں تمام معلومات کو ایک جگہ پراکٹھا کرنا، ہر ٹیکسٹ میسج، ای میل اور فون کال اور دیکھی گئی ہر ویب سائٹ کا ریکارڈ رکھا جائے گا۔ اس منصوبے پر مشاورت اس سال کے آخر میں شروع ہوگی۔
|
فیصل ناصر
Senior Member
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,301 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|