واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


اے حمید انتقال کر گئے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-05-11, 02:37 AM   #1
اے حمید انتقال کر گئے
ارشد کمبوہ ارشد کمبوہ آف لائن ہے 09-05-11, 02:37 AM

Name:  110429103919_ahameed_writer226.jpg
Views: 14
Size:  17.3 KB
پچھلے تیس برس سے وہ ایک فری لانس رائٹر کے طور پر زندگی بسر کررہے تھے
اردو کے معروف قلم کار اے حمید جمعہ کوعلی الصبح لاہور کے ایک ہپستال میں انتقال کر گئے۔ وہ کچھ عرصے سے علیل تھے
اے حمید سنہ انہیں سو اٹھائیس میں امرتسر میں پیدا ہوئے۔

تقسیمِ ہند کے بعد اے حمید پاکستان چلے آئے اور ریڈیو پاکستان میں سٹاف آرٹسٹ کے طور پر ملازم ہوگئے جہاں ان کے فرائض میں ریڈیو فیچر، تمثیلچےاور نشری تقاریر لکھنا شامل تھا۔

رومانوی طرزِتحریر میں وہ کرشن چندر سے متاثر تھے اور ابتدائی کہانیوں کے موضوعات بھی اس اثر سے محفوظ نہیں۔

سنہ انیس سو اسی میں اے حمید ملازمت سے استعفیٰ دے کر امریکہ چکے گئے اور وائس آف امریکا میں پروڈیوسر کی نوکری اختیار کرلی لیکن ان کی سکون پسند طبعیت کو امریکی شور و شغب راس نہ آیا اور وہ ڈیڑھ برس میں ہی لاہور لوٹ آئے۔

سنہ انیس سو ساٹھ کی دہائی میں وہ نوجوانوں کے مقبول کہانی کار اور ناول نگار کا درجہ اختیار کر چکے تھے۔

سنہ انیس سو اسی میں وہ ملازمت سے استعفیٰ دے کر امریکہ چکے گئے جہاں انہوں نے وائس آف امریکا میں پروڈیوسر کی نوکری اختیار کرلی۔ لیکن ان کی سکون پسند طبعیت کو امریکی شور و غل راس نہ آیا اور وہ ڈیڑھ برس میں ہی لاہور لوٹ آئے۔

پچھلے تیس برس سے وہ ایک فری لانس رائٹر کے طور پر زندگی بسر کررہے تھے۔

اس دوران میں انہوں نے بچوں اور نوجوانوں کے لیے بہت سی کہانیاں اور ناول تحریر کیے لیکن ان کا مقبول ترین سلسلہ سنہ نوے کی دہائی میں ٹیلی ویژن پر پیش کیا گیا۔

بچوں کے اس سلسلہ وار ڈرامے کا نام ’عینک والا جن‘ تھا۔ اس ڈرامے کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ ابھی سیزن ختم نہ ہو پاتا تھا کہ دوسرے سیزن کی ڈیمانڈ آنی شروع ہوجاتی تھی۔

نوجوانی کے ایام میں انہیں سری لنکااور برما وغیرہ کی سیاحت کا جو موقعہ ہاتھ آیا وہ بعد میں ساری عمر ان کے تخیل کو مہمیز دیتا رہا اور ان علاقوں کے رومانوی ماحول ان کی بہت سی کہانیوں کا موضوع بنا۔

کہانی، ناول اور ڈرامے کے علاوہ اے حمید نے اردو شاعری اور اردونثر کی تاریخ بھی مرتب کی تھی جس سے ادب کے طالب علم آج تک استفادہ کرتے ہیں۔

نوجوانی کے ایام میں انہیں سری لنکا اور برما وغیرہ کی سیاحت کا جو موقع ہاتھ آیا وہ بعد میں ساری عمران کے تخیل کو مہمیز دیتا رہا اور ان علاقوں کے رومانوی ماحول ان کی بہت سی کہانیوں کا موضوع بنا۔

اے حمید کی کچھ مقبول عام کتابوں میں پازیب، شہکار، تتلی، بہرام، بگولے، دیکھوشہر لاہور، جنوبی ہند کے جنگلوں میں، گنگا کے پجاری ناگ، پہلی محبت کے آنسو، اہرام کے دیوتا، ویران حویلی کا آسیب، اداس جنگل کی خوشبو، بلیدان، چاند چہرے اور گلستان ادب کی سنہری یادیں شامل ہیں۔

خبر

__________________
بیاض کمبوہ پڑھنے کے لیے ایڈریس بار میں ٹائپ کریں،
biazekamboh.co.cc
شکریہ والسلام

 
ارشد کمبوہ's Avatar
ارشد کمبوہ
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,297 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 162
Reply With Quote
جواب

Tags
hameed, pakistan, فری, کتابوں, پاکستان, پسند, نوکری, محبت, آج, امریکہ, اردو, بچوں, خبر, ریڈیو پاکستان, زندگی, سٹاف, سنہری, شور, شاعری, شروع, طور, علیل, علم, عمران, عالم


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:31 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger