|
اے پی ڈی ایم میں رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ جمعرات کوکرینگے،امریکا افغانستان سے فوج نکالنے پر غور کررہا ہے،فضل الرحمن

22-10-07, 06:37 PM
اے پی ڈی ایم میں رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ جمعرات کوکرینگے،امریکا افغانستان سے فوج نکالنے پر غور کررہا ہے،فضل الرحمن
جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی امیر اورمتحدہ مجلس عمل کے جنرل سیکرٹری مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکی سفیر سے ملاقات کے دوران ان پر واضح کردیا ہے کہ جب تک امریکا افغانستان سے نہیں نکل جاتا اور قبائلی علاقوں میں امریکی مداخلت بند نہیں کی جاتی تب تک افغانستان اور قبائلی علاقوں میں امن قائم نہیں ہو سکتا جس کے جواب میں امریکی سفیر نے عندیہ دیا ہے کہ امریکا افغانستان سے اپنی فوج نکالنے پر غور کر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو جے یو آئی (ف) ضلع پشاور کی مجلس عمومی کے اجلاس سے خطاب اور بعد ازاں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ امریکی سفیر کا موقف تھا کہ امریکا قبائلی علاقوں کی ترقی چاہتا ہے تاہم انہوں نے امریکی سفیر کو بتایا کہ قبائلی عوام ترقی کے دشمن نہیں ہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ یو ایس ایڈ پروگرام کے تحت پاکستان میں کام ہو رہا ہے۔ اس پروگرام کو کسی نے روکنے کی کوشش نہیں کی تاہم قبائلی عوام امریکا کی مداخلت کے مخالف ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ،اے پی ڈی ایم میں رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ جمعرات کو کیا جائیگا ، انہوں نے کہا کہ اتحاد کی دیگر جماعتوں نے جے یو آئی کی قربانیوں پر پانی پھیرنے کی کوشش کی، انہوں نے واضح کیا کہ ایم ایم اے کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرینگے لیکن متحدہ مجلس عمل کی سپریم کونسل کے اجلاس میں تحفظات پیش کرینگے ، انہوں نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے جن تین حکومتی شخصیات پر اپنے شک کا اظہار کیا ہے، ان میں وزیراعلیٰ سندھ وزیراعلیٰ پنجاب اور پاک فوج کے ایک بریگیڈیئر شامل ہیں تاہم محض سیاسی مخالفت کی بناء پر کسی پر الزام عائد کرنا درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی دھماکوں کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے پر اس کی روشنی میں مذکورہ تینوں ناموں کے حوالے سے بے نظیر بھٹو کے الزامات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی بم دھماکوں کی سپریم کورٹ کی سطح پر تحقیقات ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت نے اے پی ڈی ایم کے لئے بڑی قربانیاں دیں ، انہوں نے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفے دیئے بلوچستان حکومت سے علیحدگی اختیار کی حتیٰ کہ سرحد حکومت کو بھی قربان کردیا اس کے باوجود اے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے جے یو آئی کی قربانیوں پر پانی پھیرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ 24اور 25اکتوبر کو جے یو آئی کی مرکزی شوریٰ کے اجلاس میں اس بات کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا کہ جے یو آئی اے پی ڈی ایم کے ساتھ مزید آگے چل سکتی ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی اور اس حوالے سے وہ متحدہ مجلس عمل کی سپریم کونسل کے اجلاس میں اپنے تحفظات رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 22اکتوبر کو طلب کیا جانے والا ایم ایم اے کی سپریم کونسل کا اجلاس قاضی حسین احمد کی علالت کے باعث منعقد نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں امن و امان قائم کرنے کے لئے سب سے پہلے قبائلی علاقوں سے پاک فوج کو واپس بلانا ہو گا اور چیک پوسٹیں ختم کرنی ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جلسوں جلوسوں اور ریلیوں پر پابندی سے متعلق انہیں حکومت کی جانب سے تحریری طور پر کوئی تجویز موصول نہیں ہوئی تاہم اگر ایسی پابندی لگائی جاتی ہے تو یہ حکومت کی ناکامی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ” ہم نے اے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں سے یہ نہیں پوچھا کہ جسٹس (ر) وجیہہ الدین کو اپنا صدارتی امیدوار نامزد کرتے وقت انہوں نے ہم سے مشاورت کیوں نہیں کی ؟جبکہ اے پی ڈی ایم کی جانب سے بار بار یہ بات اچھالی جا رہی ہے کہ 29ستمبر کو سرحد اسمبلی کیوں تحلیل نہیں کی گئی۔ “ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی نے کوئی غلطی نہیں کی اور اگر کوئی غلطی ہوئی ہے تو وہ اے پی ڈی ایم کی جانب سے ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مستعفی کرانے کے باوجود اے پی ڈی ایم مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں کر سکی۔ انہوں نے کہا کہ پانچ اکتوبر کو چھ اکتوبر کے صدارتی انتخاب کے حوالے سے حکمت عملی طے کی جانی چاہئے تھی مگر ایسا نہیں کیا گیا۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|