بھٹو جیل میں تھے تو سزائے موت کا مطالبہ کیا، اور پھانسی دینے پر مٹھائی تقسیم کی
کراچی (رپورٹ: احمد نورانی) بابراعوان جنرل ضیاءالحق کی زندگی اوربعد میں بھی ان کے حامی رہے، جنرل ضیاءالحق کے صاحبزادے اعجازالحق نے دی نیوز کو اس بات کی تصدیق کی کہ جب ذوالفقار علی بھٹو جیل میں تھے بابر اعوان نے عوامی احتجاجی اجتماعات میں انہیں پھانسی دینے کا مطالبہ کیا اورجب انہیں پھانسی ہوگئی تو راولپنڈی کی عدالتوں میں بابر اعوان نے مٹھائی تقسیم کی۔ تاہم میڈیا کی جانب سے رابطہ پر بابراعوان نے اس پر تبصرے سے انکار کردیا، اعجاز الحق نے میڈیا کو ایسی چار تصاویر بھی جاری کیں، جن میں ضیاءالحق کی برسی پر راولپنڈی کی ریلیوں میں اعجاز الحق اوربابر اعوان کوتقاریر کرتے دکھایا گیا ہے۔ گوکہ بابراعوان کے مختلف معاصرین جو اس طرح کی کہانیاں سناتے رہتے ہیں، انہوں نے بھی ذوالفقار علی بھٹو کی تعریف میں بابر اعوان کے بیانات پر انتہائی حیرت کا اظہار کیا ہے کیونکہ 1970ء سے لے کر 1990ء کی دہائیوں تک وہ ذوالفقارعلی بھٹو کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے رہے بلکہ مختلف عوامی ریلیوں میں انہوں نے بھٹو کے لئے نازیبا زبان بھی استعمال کی، بھٹو کی دوران قید بابراعوان ان کے لئے مسلسل سزائے موت کا مطالبہ کرتے رہے، لیکن اب متعلقہ شخص ضیاءالحق کے صاحبزادے اورپاکستان میں ضیاء کے حامیوں کے سربراہ نے ریکارڈ پر بات لانے کے لئے تصدیق کی ہے کہ بابر اعوان ان کے والد کے بڑے حامی رہے اور ان کے دل میں بھٹو کے لئے ہمیشہ نفرت اورمخاصمت رہی اعجاز الحق نے دی نیوز کے ساتھ اپنے انٹرویو میں بڑے انکشافات کئے انہوں نے کہا کہ ضیاءالحق کے دور میں بابراعوان ان سے وابستہ اور بھٹو کے زبردست مخالف رہے، انہوں نے بھٹو کے لئے کھلے عام پھانسی کا مطالبہ کیا اور پھانسی دیئے جانے پر خوشیاں منائیں اورمٹھائی تقسیم کی اعجاز الحق کے مطابق بابراعوان جنرل ضیاءالحق کی موت کے بعد بھی متحرک وسرگرم اور شہید ضیاءالحق کی برسی کے انتظامات کرتے رہے، جبکہ 17 اگست 1989ء کو پہلی برسی کے اجتماع میں انہوں نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض بھی انجام دیئے اعجاز الحق کا کہنا ہے کہ موت کے بعد ضیاءالحق سے بابر اعوان کی عقیدت میں مزید اضافہ ہوا اور وہ سیاسی طورپر پر متحرک ہوگئے 1990ء کی دہائی کے شروع میں بابراعوان نے دیگر کی طرح لال کرتی جلوس کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا اعجازالحق کا یہ بھی کہنا ہے کہ بابر اعوان نے اسلام آباد کے نواح کہوٹہ کے قریب اپنے آبائی گاﺅں میں جنرل ضیاءالحق کی یاد میں جلسے سے خطاب کی دعوت دی تھی، وہ ضیاءالحق کی قبر پر حاضری دیتے اور فاتحہ خوانی بھی کرتے رہے سینئر سیاسی رہنماﺅں کے مطابق بابر اعوان وقت کے پجاری رہے اور جب کوئی اقتدار سے بے دخل ہوتاہے تو وہ آئندہ اقتدار میں آنے والوں کے ساتھی بھی جاتے ہیں، جب تبصرے کے لئے بابر اعوان سے ان کے سیل فون اوررہائش گاہ کے ٹیلی فون نمبروں پررابطہ کیا گیا تو وہ دستیاب نہیں ہوئے۔
اعجاز الحق کی طرف سے میڈیا کیلئے جاری کی گئی تصاویر ، سابق صدر ضیاءالحق کی برسی کے جلسے سے اعجازالحق اور بابر اعوان خطاب کر رہے ہیں
روزنامہ جنگ راولپنڈی