|
بابر اعوان کے استعفے نے بھٹو کیس کو سیاسی رنگ دے دیا

14-04-11, 05:17 AM
اسلام آباد (رپورٹ : طارق بٹ) ذوالفقار علی بھٹو کے جوڈیشیل ٹرائل کے جائزے کے لئے صدر آصف علی زرداری کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر ریفرنس کی پیروی کے لئے بابر اعوان نے وفاقی وزیر قانون کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا۔ جس کا بنیادی مقصد زیادہ سے زیادہ سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لئے عدالتی کارروائی کو سیاسی رنگ دینا ہے۔ ایک سرکاری ذریعہ نے نام نہ بتانے کی شرط پر دی نیوز کو بتایا کہ بابر اعوان کی نامزدگی حکمراں پیپلز پارٹی کی ریفرنس کی اہمیت کے حوالے سے سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے جس کا مقصد غلط فیصلے کے داغ کو دھونا ہے۔ ذریعہ کا کہنا ہے چونکہ بھٹو کے خلاف مقدمے کی تمام تر کارروائی سیاسی تھی‘ دلائل میں سیاست کا در آنا لازمی تھا۔ جبکہ بابر اعوان ریفرنس پر کارروائی کے دوران اس پہلو کو اجاگر کریں گے اور انہوں نے صدر زرداری سے بارہا اپنی ملاقاتوں میں اپنے اس پس منظر کو مستحکم کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹرائل کا سیاسی رنگ اس حقیقت کے حوالے سے پہلے ہی سے بہت واضح ہے کہ پیپلز پارٹی نے سماعتوں کے دوران اپنے وفاق اور سندھ سے ارکان پارلیمنٹ کی بڑی تعداد کو کمرہ عدالت میں اپنی حاضری یقینی بنانے کے لئے کہا ہے۔ بڑے اور اہم مقدمات میں حکومت کی جانب سے پیروی کرنے والے ایک سینئر وکیل کا کہنا ہے کہ صدر کی جانب سے مقدمے کی پیروی کر کے بابر اعوان ذاتی طور پر بہت کچھ حاصل کریں گے۔ وکیل کی حیثیت سے کیریئر میں انہیں بے نظیر توجہ ملے گی۔ وہ یہ کہنے میں بھی حق بجانب ہوں گے کہ انہوں نے بھٹو کیس کی پیروی کے لئے اپنی وزارت کی قربانی دے دی۔ اس وکیل کا یہ بھی کہنا ہے کہ مقدمے کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہیں دوبارہ اپنی وزارت کا حلف اٹھانے میں ذرا دشواری نہیں ہو گی۔ لہٰذا وہ اس مقدمے میں کچھ کھوئے بغیر بہت کچھ حاصل کر لیں گے۔ سپریم کورٹ کے ایک اور وکیل نے کہا کہ عدالت عظمیٰ آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت ریفرنس پر دو ہفتوں میں اپنی رائے قائم کر لے گی۔ تاہم سپریم کورٹ نے بھٹو کیس میں لاہور ہائی کورٹ میں تمام شہادتوں اور دیگر ریکارڈ اور بعد ازاں سپریم کورٹ میں کی جانے والی اپیل کا جائزہ لیا تو کارروائی طول کھینچ جائے گی۔ اس سلسلے میں تبصرے کے لئے بابر اعوان بار بار ٹیلی فون اور پیغام چھوڑے جانے کے باوجود دستیاب نہیں ہو سکے۔ قبل ازیں دسمبر2009 میں انہوں نے صدر زرداری سے ایک ملاقات میں نیب انکوائری کا سامنا کرنے کے لئے اپنے منصب سے سبکدوش ہونے کی پیشکش کی تھی تاہم صدر نے یہ کہہ کر انہیں مستعفی ہونے سے روک دیا تھا کہ نیب کی انکوائری استعفے کا وارنٹ نہیں ہوتا۔ بابر اعوان کی جانب سے سپریم کورٹ میں وزارت سے استعفے کے اعلان کے بعد انٹرنیٹ پر پیغامات کے ذریعہ گرما گرم بحث چھڑ گئی ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,222 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|