واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


بجلی،گیس کا بحران ،عوام کارد عمل

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-01-09, 10:55 PM   #1
بجلی،گیس کا بحران ،عوام کارد عمل
چیتا چالباز چیتا چالباز آف لائن ہے 17-01-09, 10:55 PM

جب پاکستان پیپلز پارٹی معرض وجود میں آئی تو اس کے خلاف اقتدار پر ہر حال میں قابض رہنے کے خواہش مند اور کروڑوں محنت کشوں کا استحصال کرنے والے اشرافیہ نے نے شور برپا کردیا۔جب ان کو اپنے ظلم و استبدادکے خلاف عوام کا طوفان اٹھتا نظر آیا تو انہوں نے اس تحریک کو کفرکا احیاء اور''اسلام خطرے میں''قرار دے دیا،پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کے اراکین کے خلاف فتوے معرض وجود میں آگئے ۔ دائیں بازو نے اس کو ہنود ویہود کی سازش اور ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر ایوب خاں کی آمریت کی چھتری تلے (مرحلہ وار انقلاب کے سٹالنسٹ نظریے کے مطابق)سوشلزم لانے کے خواہش مندنام نہاد انقلابیوں نے اس کو CIAکی سازش قرار دے کر حقیقت سے آنکھیں چرانے کی کوشش کی۔مگر عوام کا غیض وغضب زمیں کی پاتال سے اٹھا اور ہر رکاوٹ کو بہا کر لے گیا۔فتوے اور الزامات تاریخ کے کوڑے دان کی زینت بن گئے۔اسی طرح غاصب ضیاء الحق کے دور میں ہر جمہوریت پسند کو ملک دشمن کہا جاتا تھا،اس نظریے کی تراویج کے لئے ہزاروں ''معززین''،لکھاری،صلاةکمیٹو ں کے اراکین،اراکین مجلس شوری،جماعتے اور دیگر ''دین دار''دن رات مصروف عمل تھے۔پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والوں کو ملک دشمن قرار دیا جانا تو روز اول سے ہی مقدس فریضہ سمجھ کر ادا کیا جاتا رہا ہے۔ان تمام الزام تراشیوں کا مقصد عام لوگوں کے شعور کو گمراہ کرنا اور حقائق کی بجائے لوگوں کے جذبات کو بڑھکا کر اپنا اقتدار اور وسائل پر اپنی گرفت کو قائم و دائم رکھنا تھا۔مگر تاریخ گواہ ہے کہ اس قسم کے بودے حربے کبھی بھی لمبے عرصے تک کارگر نہیں رہے ہیں۔

تاریخ کا ہی سبق ہے کہ ''جو تاریخ سے نہیں سیکھتا وہ تاریخ کو دھرانے پر مجبور ہو جاتا ہے''آ ج یہ تاریخ کا سچ اپنی پوری توانائیوں کے ساتھ ہم سب کے سامنے کھڑا ہے۔پاکستا ن پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔دیگر دو درجن سے زائد بحرانوں پر حاوی ''بجلی کی فراہمی کا بحران ''کسی جن کی طرح حکومت اور ارباب اقتدار کے سر پر براجمان ہے۔سولہ سے بیس گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔آج ہر کام بجلی کا مرہون منت ہے اور بجلی کی عدم فراھمی کی وجہ سے زندگی تعطل کا شکار ہے۔فیکٹریاں بند ہورہی ہیں۔مزدور بے روزگارہورہے ہیں ،چولہے ٹھنڈے ہوتے جارہے ہیں ۔بجلی کا بحران ہے کہ بظاہر کسی کے قابو آتا نظر نہیں آرہا۔بجلی کے ساتھ گیس کی بندش بھی جاری ہے،آٹے کابتدریج مہنگے ہوتے جاتا اور کبھی کبھی لائنوں میں لگ کر بھی نہیں ملنا بھی عام سی بات ہو چکی ہے۔یوریا اور ڈی اے پی کھاد کی قیمتیں بھی کئی سو گنا بڑہ چکی ہیں ،قیمتوں میں اضافے کے لئے مڈل کلاس ذخیرہ اندوز کھاد کو ایک ایک بوری کر کے بیچ رہے ہیں کاشتکاروں کو کھاد ایک ہی وقت میں درکار ہوتی ہے نہ وہ روز شہر آسکتے ہیں اور نہ ہی ایک ایک بوری کھاد کے ذریعے فصلوں کی ضرورت کو پورا کیا جاسکتا ہے۔اس مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کھاد کا کاروبار کرنے والے تاجرہر روز اس کے دام بڑھانے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں۔بیشتر شہروں میں پینے کے پانی کی بندش کا سلسلہ بھی جاری ہے۔لوڈشیڈنگ کی وجہ سے نہ تو پینے کے پانی کی سپلائی جاری رکھی جاسکتی ہے اور نہ ہی گندے پانی کی نکاسی ممکن ہے ۔جن موٹروں کے ذریعے پانی کو دھکیلا جاتا ہے وہ ''بجلی کی زندگی ''سے محروم ہی رہتی ہیں۔

جب روزگار کے دروازے بند ہوتے جائیں،گھر میں چولہے جلانے کے لئے گیس ہو نہ ہی سودا سلف کے پیسے۔پینے کو پانی ملے نہ گلیوں سے گزرنے کے لئے راستہ ہو ہر طرف گٹروں کا پانی ہی ہو۔جب کاشتکارفصلوں کودینے کے لئے کھاد حاصل نہ کرسکیں۔جب رات کے وقت بجلی کی بندش کی وجہ سے جرائم اور لوٹ مار میں آسانی ہو جائے اور ہر کوئی خود کو غیر محفوظ سمجھنا شروع کر دے ۔تب بجلی اور پانی کا وزیر اور متعلقہ محکمہ بجلی کے نرخ بڑھا دے۔عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 148ڈالر فی بیرل سے گر کر

37ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے اور مملکت خدا داد پاکستان میں نام نہا د کمی کرکے صرف پندرہ سے بیس روپے کم کئے گئے ،جب کہ پیڑول کی فی لٹر قیمت 10روپے سے 12روپے فی لٹر کرنا ممکن ہے ایسے میں لوگ حکمرانوں کے خلاف سوچنا شروع کردیتے ہیں اور کچھ کرنے کی خواہش بھی جتم لیتی ہے۔اس خواہش کا اظہار شروع ہو جاتا ہے اور اس کو روکنا مشکل اور پھر ناممکن ہو جاتاہے۔ایسا پہلے بھی ہوا تھا جب ایوبی آمریت کے خلاف چینی کے نرخ بڑھنے سے تحریک کا آغاز ہوا تھااو ر انجام کار پاکستان میں اس آمر کے تمام ڈھونگوں اور ترقی کے دعووں کو سڑکوں ،بازاروں ،شہروں اور دیہی علاقوں میں رسواکن طریقوں سے شکست ہوئی تھی۔

پانی اور بجلی کے وزیرراجہ پرویز اشرف کا کہنا کہ احتجاج کرنے والے شرپسند ہیںدراصل لوگوں کا اپنے حق کو حاصل کرنے کے جذبے کی زبردست توہین ہے۔لگتا ہے راجہ صاحب نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔اسی لئے تاریخ کو دھرانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔بجلی اور پانی کے وزیر راجہ پرویز اشرف کی حالت کسی کمزور بچے کی طرح ہے جس کی زبردست پٹائی لگی ہو اور وہ جواب میں کچھ نہ کرسکنے کے باعث صرف گالیاں نکالنے پر اکتفا کر رہا ہو۔بجلی کی بندش اور اسکے نرخوں میں ظالمانہ اضافوں کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو ملک دشمن ،سازشی اورشرپسند قرار دیکر اپنی نااہلی اور اپنے محکمے کے عوام دشمن رویے کا دفاع کرنے کی اسی قسم کی کوشش کو عام لوگوں نے انتہائی بری نگاہوں سے دیکھا ہے۔اگر صرف فیصل آباد کے پاور لومز کے مزدوروں کو دیکھا جائے تو ان کی غالب اکثریت کا تعلق اسی پیپلز پارٹی کے ساتھ ہے جس کے راجہ صاحب وزیر ہیں۔اسی طرح رحیم یارخاں کی 300سے زائد پاور لومز کے دس ہزار کے قریب مزدور ہیں جو 90فی صد سے زائد سیاسی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی سے منسلک ہیں۔ان کا احتجاج پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف نہیں ہے بلکہ ان لوگوں اور اداروں کے خلاف ہے جو پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور اور نظریات سے منحرف ہو کر عوام کے مقابلے میں کھڑے ہوچکے ہیں۔البتہ مسلم لیگ (نواز)،جماعت اسلامی سمیت پاکستان کی دائیں بازو کی پارٹیوں کا شور شرابہ صریحاََ ریا کاری ہے کیوں کہ وہ بھی اسی عطار کے لونڈے سے دوا لینے کے آرزومندہیں جس کے سبب پوراسماج بیمار ہے۔ان کے پاس بھی سرمایہ داری نظام کا متبادل پھر سرمایہ داری نظام ہی ہے۔اس لئے ان کے تو سیاسی مقاصد ہوسکتے ہیں مگر عوام کا احتجاج اپنے اوپر مسلط مصیبت کے خلاف ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نظریاتی طور پر پارٹی کی اساس اور بنیاد سے اتنا دور ہوچکی ہے جہاں ان کو پاکستان پیپلز پارٹی بنانے کے مقاصد،نظریات حتی کے اس کے ووٹر کے احساسات اور ان کی توقعات کا قطاََاحترام نہیں رہا ہے۔بجائے کہ وہ اپنے کروڑوں ووٹروں اور حمائتیوں کی زندگی آسان بنانے کے لئے اقدامات کریں اسکی بجائے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بھی اپنے پیش رو مشرف حکومت کی طرح '' بجلی بنانے والی نجی کمپنیوں'' (IPP'S)کے بے پناہ منافعوںکو ہر جائز ناجائز طریقے سے ممکن بنانے کے لئے کوشاں ہے۔بجلی کی کھپت اورپیداوار میں فرق جسے شارٹ فال کہا جارہا ہے ایک مشکوک بات ہے کیوں کہ رمضان کے مہینے میں جب سخت گرمی تھی اور بہت سی مساجد میں ائیر کنڈنشنڈز کا استعمال بھی ہو رہا تھا تب بجلی کی فراہمی پوری تھی۔اسی طرح متاثرین بجلی کے مظاہروں کے پہلے مرحلے کے بعد جس نے پورے ملک کو لپیٹ میں لے لیا تھا ،بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر اسرار طریقے سے ختم کردی گئی تھی۔اس سے یہ بات تو ثابت ہوتی ہے کہ نام نہاد ''شارٹ فال '' کی پیدائش اور اسکا خاتمہ بجلی بنانے والی نجی کمپنیوںکے کنڑول میں ہے۔مگر کبھی تو کہا جاتا ہے کہ بجلی کی کھپت اور پیداواری صلاحیت میں فرق کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے اور کھبی کہا جاتا ہے کہ حکومت کی طرف سے عدم ادائیگی کی وجہ سے بجلی کی پیداوار نہیں کی جارہی۔یہ دونوں استدلال ہی غلط ہیں۔کیوں کہ پیدواری صلاحیت میں کمی ہو تو پھر کبھی بھی بجلی کی پیداوار کو پورا نہیںکیا جاسکتا جبکہ احتجاج اور مخصوص مہینوں میں بجلی پوری مقدار میں سپلائی کی جاتی رہی ہے۔دوسری دلیل میں بھی کوئی مخفی پہلو ہو تو اور بات ہے ورنہ بجلی کے صارفین کو 40پیسہ فی یونٹ بننے والی بجلی 14روپے فی یونٹ بیچی جاتی ہے۔اتنے زیادہ منافع کی بہت کم مثالیں ہیں۔جو صارف بل نہیں دیتا اس کا کنکشن کاٹ دیا جاتا ہے۔پھر عدم ادائیگی کی کوئی بات ہے تو اس کے ذمے دار نہ توعوام ہیں اور نہ ہی ان کو لوڈشیڈنگ کی شکل میںاس کی سزا دینے کا

کوئی جواز ہے۔ بجلی بنانے والی نجی کمپنیوںکی کارکرگی بدترین ہے۔یہ پاکستان میں یورپ اور امریکہ سے زیادہ مہنگی بجلی بیچتے ہیں مگر پورے پاکستان میں سوائے اسلام آباد کہ کہیںبھی ان کا انفراسٹرکچر درست نہیں ہے۔ترسیل کی جانے والی بجلی کے لوڈکے مطابق ٹرانسفارمر نہیں ہیں۔بارش یہ گرمی کے موسم میں اوور لوڈنگ کا شکار ٹرانسفارمرز کے جل جانے کی صور ت میں ان کو تبدیل نہیں کیا جاتا بلکہ صارفین سے جگا ٹیکس کی طرح 15000سے 20000روپے وصول کرکے ان ٹرانسفارمرز کو ری وائنڈ کرایا جاتا ہے۔نئے کنکشن کی فیس میں کئی سو گنا اضافہ کرنے کے باوجود نیا میٹر لگوانے والے صارف کو کھمبے سے اپنے گھر یا دوکان تک تار مارکیٹ سے خرید کر لگانا پڑتی ہے۔المیہ یہ ہے کہ ہیروئن سے زیادہ منافع کمانے کے باوجود بجلی بنانے والی یہ ملٹی نیشن کمپنیاں اپنے ملازمین کی جان کے تحفظ سے بالکل بے پرواہ ہیں۔ان کمپنیوں کے ملازمین مکمل حفاظتی سامان کی عدم موجودگی کے سبب آئے روز جان لیوا حادثات کا شکار ہوتے رہتے ہیںمگر ان قیمتی جانوںکے ضیاع پر کمپنیاں کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کرتیں اور نہ ہی ملازمین کی سیفٹی کا ایشونام نہاد سیمنارز سے آگے بڑھتا ہے۔ملازمین کو کمپنی کی طرف سے ہراساں کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جاتا۔فرسودہ ٹرانسمیشن لائن اور انفراسٹرکچر کی وجہ سے لائن لاسز کی ریکوری صارفین سے کرنے کے لئے مینجرز اور ڈپٹی مینجرز کو ٹکٹکی پر لٹکائے رکھا جاتا ہے۔ان لین لاسز کو جو مزید سرمایہ کاری سے کم ہو کر ختم ہوسکتے ہیں ان کو صارفین پر ڈال دیا جاتا ہے۔پاکستان میں استعمال ہونے والے میٹر بھی 40فی صد زیادہ رفتار سے چلنے والے بنوائے جاتے ہیں۔یہ ایک ایسی چوری ہے جو کمپنیاں اور واپڈا کا محکمہ مل کر عرصہ دراز سے کر رہا ہے اور اسکا براہ راست شکارپاکستان کے مفلوک الحال اور غریب صارفین بن رہے ہیں ۔ریاست اور ملٹی نیشن کی ملی بھگت سے کی جانے والی اس چوری پر نہ تو وزیر شرمندہ ہیں نہ ہی واپڈا کے حکام۔بجلی کا محکمہ ایک ایسا ناسور ہے جس کو ہر زاویے سے عوام کو لوٹنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔دنیا میں کسی بھی جنس کوزیادہ تعداد میں خریدا جائے تو اس کے نرخ گرجاتے ہیں مگر واپڈا اور بجلی بیچنے والی نجی کثیر الاقومی کمپنیاں زیادہ یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو ریلیف دینے کی بجائے دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں۔اس قسم کی گھناونی پالیسیوں اور لوٹ مار کے باوجود کہا جاتا ہے کہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ پیسیوں کی عدم ادائیگی ہے۔40پیسے کو 14روپے میں بدل لینے والوں کو آخر خسارہ کہا ں سے ہوتا ہے؟ اسکا جواب پانی اور بجلی کا وزیر نہیں دیتا صرف عوام کو گالیاں دیتا ہے اور اپنا حق مانگنے والوں کو اسی طرح فتووں سے نوازتا ہے جس طرح ایوبی ،یحیی اور ضیاء الحق دور کے ملاں پاکستان پیپلز پارٹی کے غیور کارکنا ن کو کافر،ملک دشمن اور شرپسند کہا کرتے تھے۔

IPP'Sایک جرم ہے ،جسکو ایک کارنامے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ان کمپنیوںکو گیس مفت دی جاتی رہی ہے اور اب بھی کئی کمپنیوں کو اس قسم کی بھیانک رعائت دی جارہی ہے۔ان کو اپنے منافع کو سارا کا سارا بیرون ملک منتقل کرنے کی چھوٹ ہے،ان کو بہت سے ٹیکسز کی چھوٹ ہے،زائد بجلی پیدا کرنے کی صورت میں ترسیل نہ ہونے کی
صورت میں بھی واپڈا کو ادائیگی کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔پبلک سیکٹر کی بجلی پیداواری قیمت پر ان سامراجی کمپنیوں کو بیچ کر پھر ان کی قیمت پر خریدنے کی شرط بھی تسلیم کی گئی ہے۔ان کو صارفین کے ساتھ ہر قسم کا ہتھکنڈا استعمال کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ان لوٹ مار کمپنیوں کے ساتھ معاہدے میںیہ تسلیم کیا گیا ہے کہ واپڈا کو ایک وفاقی ادارے کی بجائے کمپنیوں میں تقسیم کرکے نہ صرف اسکی وحدت ختم کی جائے گی بلکہ اس کے ملازمین کا ایک سرکاری ملازم کا تشخص ختم کرکے اسکو کمپنی ملازم میں بدل دیا جائے گا۔اس طرح سے ملازمین کی ملازمت کا تحفظ ختم کر دیا گیاہے۔کنٹریکٹ پر ملازمین کو رکھ کر انکے بہت سے حقوق کو پامال کیا جاتا ہے۔یونین پر پہلے بندش لگائی گئی۔کارکنوں کے احتجاج اور جدوجہد کے بعد یونین سرگرمیوں کو نام نہاد الیکشن تک محدود کر دیا گیا۔

اگر ریاست چاہے تو اس لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جاسکتا ہے اور قلیل و طویل مدتی منصوبے تیار کرکے آنے والے سو سال کے لئے بجلی کی پیدوار کو لوگوں کی ضرورت کے مطابق پیدا کیا جاسکتا ہے۔ایسا کرنے کے لئے صرف ایک حکم نامے کے ذریعے بجلی بنانے والی سامراجی کمپنیوں کو قومی تحویل میں لیکر ان کا کنٹرول بیوروکریسی کی بجائے مزدوروں کے جمہوری کنٹرول میں دینا ہوگا۔معیشت کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفادات کی بجائے اپنے ملک کے کروڑوں لوگوں کے مفادات کے مطابق تشکیل دینا ہوگا۔لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لئے کیا کیا اقدامات کرنا ہوں گے؟ اس کے لئے کسی امریکی تھنک ٹنک یا کسی عالمی مالیاتی ایجنسی سے نام نہاد''ماہرین معیشت ''درآمد کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے کروڑوں لوگوں کے ووٹ اور حمائت لیکر اقتدار حاصل کرنے والوں کو اپنی پارٹی کا بنیادی منشور پڑہ کر ہی راہنمائی مل سکتی ہے جس میں عہد حاضر کے تمام مسائل کا حل پوری وضاحت سے رقم ہے ۔مگر ایسا کرنے کی راہ میں ''بازاری معیشت''(Market Economy)حائل ہے۔کیونکہ سرمایہ دارنہ معیشت میں پیداوار کا مقصد لوگوں کی ضروریات پورا کرنا نہیں ہوتا بلکہ منافع کمانا اور ہر لمحہ شرح منافع میں اضافہ کرنا ہوتا ہے اسلئے ان کا نظریہ لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنا ہے ہی نہیں ہے بلکہ اپنے اثاثوں اور مال وزر میں اضافہ کرنا ہے۔بدقسمتی سے پاکستان کے غریبوں،مزدوروں،کسانوں،محن ت کشوں اور کچلے ہوئے عوام کی نجات کا پروگرام لے کر معرض وجود میں آنے والی پاکستان پیپلزپارٹی اپنے نظریے اور پروگرام سے منحرف ہوچکی ہے اور اسکی حکومت کی بنیادی اساس ہی سامراجی اداروں کے منافعوں اور مفادات کا تحفظ ہے۔یہی وجہ ہے کہ پانی اور بجلی کا وزیر عوام کے خلاف ہرزہ رسائی کرنے میں مصروف ہے،مگر اسے یاد رکھنا چاہئے کہ عوام ہی طاقت کا سرچشمہ ہیں۔عوام جب اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے میدان میں اترتے ہیں تو پھر انکا راستہ کوئی سامراج کا گماشتہ اور امریکی ایجنٹ نہیں روک سکتا۔لوگوں کو گیس ،بجلی،پانی،خوراک،روزگار،ص حت،تعلیم ،عزت نفس،آزادی ،امن وامان اور اچھی زندگی کے ساتھ اچھا مستقبل چاہئے…یہ لوگوں کا حق ہے اس قسم کا مطالبہ نہ شر پسندی ہے نہ ملک دشمنی بلکہ ان مطالبات کو غلط قرار دینے والے شرپسند ،عوام دشمن اورناپسندیدہ افراد ہیں۔ان کو لوگوں کے غیض وغضب کا شکار ہونا پڑے گا کیونکہ لوگوں کا استحصال ہورہا ہے وہ اس ناانصافی کے خلاف جدوجہد ہر حال میں کریں گے اور بالآخر یہ تحریک اس ظالمانہ سرمایہ داری نظام کا خاتمہ کرتے ہوئے حقیقی عوامی راج کا باعث بنے گی۔

 
چیتا چالباز's Avatar
چیتا چالباز
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 801
شکریہ: 1,491
503 مراسلہ میں 1,171 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 109
Reply With Quote
جواب

Tags
کارنامے, پاکستان, پسند, وزیر, نظر, مفت, مکمل, منتقل, منشور, ممکن, مسائل, امریکہ, احتجاج, اسلام, اسلامی, جواب, جرم, حال, خلاف, خدا, رمضان, راستہ, زندگی, سودا, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
عیدالاضحٰی :قصابوں کے منہ مانگے دام ،عوام پریشان جاویداسد خبریں 3 16-11-10 08:44 PM
مہنگائی نے ہوش اڈا دیئے،عوام ججوں کی بحالی ،فاٹا آپریشن ،صدر کا مواخذہ سب عبدالقدوس خبریں 0 02-07-08 07:28 AM
وکلا کا احتجاج جاری،مشرف کو بھاگنے نہیں دیں گے،وکلاء چکلالہ ایئر بیس کا گھی عبدالقدوس خبریں 1 02-06-08 04:42 PM
کراچی،نائن زیرو پر تعینات پولیس کو ہیڈ کوارٹر رپورٹ کرنیکی ہدایت عبدالقدوس خبریں 0 14-04-08 09:39 AM
لڑائی کی باتیں کرنے والے سندھ کے غدار ہیں ،عوام کا مینڈیٹ تسلیم کرنا ہوگا،الطاف حسینلڑائی کی باتیں کرنے والے سندھ کے غدار ہیں ،عوام کا مین عبدالقدوس خبریں 0 26-02-08 02:27 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:42 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger