واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


بجلی کا فی یونٹ 18روپے تک پہنچانے کیلئے حکومتی چالیں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-12-10, 10:24 PM   #1
بجلی کا فی یونٹ 18روپے تک پہنچانے کیلئے حکومتی چالیں
جاویداسد جاویداسد آف لائن ہے 01-12-10, 10:24 PM

سپریم کورٹ نے واپڈا حکام کو رینٹل پاور منصوبوں سے متعلق تمام دستاویزات عدالت میں پیش کرنے کیلئے ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ سادہ لفظوں میں بتائیں کہ ان منصوبوں کے بعد بجلی کتنے روپے یونٹ پڑے گی۔ خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ پیداواری لاگت 14 روپے 13 پیسے ہے۔ واپڈا نے گھریلو کمرشل اور صنعتی بجلی کے الگ نرخ مقرر کئے ہیں۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ ہر صارف ٹیکس دیتا ہے اور جو سبسڈی دی جاتی ہے وہ بھی عوامی ٹیکسوں کی رقم سے ادا ہوتی ہے۔ لوگ ٹیکس دیتے ہیں مگر بجلی پھر بھی اتنی ہی مہنگی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بجلی پیدا کرنے کیلئے ٹیکس عوام دیتے پھر بھی اس قدر بجلی مہنگی پڑے گی جس کا مطلب ہے آپ 14 روپے کی خریدیں گے اور دیگر چارجز ڈال کر 18 روپے تک صارف کو پڑے گی۔
جمہوری اور عوامی دور حکومت میں عوام جن مشکلات اور عذابوں کا سامنا کر رہی ہے ان کو دیکھتے ہوئے عوام سوال کر رہے ہیں کہ کیا جمہوریت اس کا نام ہے کہ عوام کو زندہ درگور کرنے کیلئے آئی ایم ایف کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے صرف غریب طبقے پر کبھی بجلی بم ' کبھی گیس بم اور کبھی مہنگائی بم گرایا جائے۔ کیا ہمارے پالیسی ساز اداروں اور حکمرانوں کو خبر ہے کہ پاکستان کے عوام کی اکثریت کن حالات میں گزر بسر کر رہی ہے۔ عوامی حکومت کا نعرہ تو روٹی ' کپڑا اور مکان تھا تو پھر کیا وجہ ہے کہ آج عوام آہستہ آہستہ ان تینوں نعمتوں سے محروم ہوتے جارہے ہیں اور حکومت غریبوں پر رحم کھاکر کسی قسم کا ریلیف فراہم کرنے کی بجائے مزید ستم ڈھا رہی ہے۔
دنیا کے کسی بھی ملک میں اگر عوام سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے تو اس کے عوض سہولیات بھی دی جاتیں ہیں۔ عوا م کیلئے تعلیم ' صحت اور بنیادی ضروریات مفت فراہم کی جاتی ہیں جبکہ اشیاء خوردونوش کی قیمتیں اس سطح پر رکھی جاتی ہیں کہ غریب سے غریب آدمی بھی اپنے گھر کی ضروریات باآسانی پورا کرسکے ۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں سب کچھ الٹ چل رہا ہے ایک طرف امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف مفاداتی جنگ لڑکر ملک کی معیشت کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف غریب لوگ دو وقت کی روٹی کیلئے ترس رہے ہیں تو وہاں حکومت کے شاہانہ اخراجات اور اللے تللے جاری وساری ہیں۔ حیرت ہے کہ حکومت اپنے خرچے کم کرنے کیلئے کسی صورت تیار نہیں اور صرف عوام کو زندہ درگور کرنے کیلئے آئی ایم ایف کی ہدایات کے مطابق ایسی خطرناک پالیسی اپنائی گئی ہے کہ غریب عوام کو خبر ہی نہیں کہ انہیں قسطوں میں زندہ درگور کرنے کا پروگرام تشکیل دیا جاچکاہے اور آہستہ آہستہ بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو اضافہ کیا جارہا ہے اس سے غریب آدمی کے زندہ رہنے کے آثار معدوم ہورہے ہیں۔
آئی ایم ایف سے مزید قرض کی قسط لینے کے لئے جس طرح عوام کا استحصال شروع ہوچکا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اور ہمارے سیاستدانوں کو عوام سے ذرہ بھر بھی ہمدردی نہیں عوام صرف ووٹ کی پرچی ڈالنے والی مخلوق بن چکی ہے اور سیاستدانوں کووہ تمام گر آتے ہیں کہ عوام سے ووٹ کس طرح حاصل کیا جاتا ہے۔ ووٹ کی پرچی کے بعد عوام کی اہمیت ختم ہوکر رہ جاتی ہے اور حکمران و سیاستدان صرف اپنے اقتدار کیلئے وہ فیصلے کرتے ہیں کہ جس سے جمہوریت کی روح بھی تڑپ اٹھتی ہے۔ ستم یہ کہ حکومت کے ساتھ ساتھ اب ہماری اپوزیشن کی جماعتوں نے بھی پس پردہ یہ پایسی اپنائی ہے کہ موجودہ حکومت عوام پر جتنا بوجھ ڈالتی ہے ڈالتی رہے تاکہ اگلے انتخابات میں عوام ہماری طرف متوجہ ہوں تو اس حوالے سے ہم کہنا چاہیں گے کہ عوام اب باشعور چکے ہیں جس کاجو کردار ہے وہ عوام کے سامنے اپوزیشن جماعتوں کی یہ خوش فہمی دور ہونی چاہیے کہ عوام ان پر اعتماد کریں گے۔ سوال یہ ہے کہ حکومت نے تو عہد کرہی لیا ہے کہ آئی ایم ایف کی ہدایت کی روشنی میں آہستہ آہستہ بے خبری میں عوام پر اتنا بوجھ ڈالا جائے کہ جس سے حکومتی اخرجات پورے ہوسکیں ۔ لیکن اپوزیشن کیا اپنی ذمہ اریاں نبھا رہی ہے ۔ واپڈا کے وکیل طارق رحیم نے سپریم کورٹ میں بتایا کہ رینٹل پاور کی پیداواری لاگت14سے 15 روپے ہے جس پر جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے بتایا کہ صارف ٹیکس دیتا ہے جو سبسڈی دی جاتی ہے وہ بھی عوامی ٹیکسوں کی رقم سے ادا ہوتی ہے مگر بجلی پھر بھی اتنی مہنگی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بجلی پیدا کرنے کیلئے عوام ٹیکس دیتے ہیں پھر بھی اس قدر مہنگی بجلی پڑے گی جس کا مطلب ہے کہ آپ14 روپے کی خریدیں گے اور دیگر چارجز ڈال کر 18روپے میں صارف کو پڑے گی۔
اب یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ حکومت نے عہد کرلیا ہے کہ آئی ایم ایف کی ہدایات کے مطابق بجلی کی فی یونٹ قیمت18روپے تک پہنچائی جائے گی اس کا مطلب ہے کہ ایک ایسا گھرانہ جس کی آمدن محض آٹھ سے دس ہزار ہو اور گھر کے افراد تین سے چار ہوں اور کم سے کم یونٹ200 خرچ ہوں تو اس کا ماہانہ بل18روپے فی یونٹ اور اس کے ساتھ میٹر کرایہ ' جی ایس ٹی ' ٹیلی ویژن فیس ' نیلم جہلم سرچارج اور دیگر چارجز کے ساتھ 5000 روپے بل ادا کرنا پڑے گا اور بجلی کا بل ادا کرنے کے بعد اس گھرانے کے پاس محض تین ہزار سے پانچ ہزار تک رقم بچے گی اس میں مکان کا کرایہ اور گیس کا بل ادا کرنے کے بعد گھر کے اخراجات بچوں کی تعلیم اور بیماری کے علاج ' غمی خوشی کیلئے پھوٹی کوڑی نہیں بچ سکتی۔ سوال یہ ہے کہ ان حالات میں ایسے محروم لوگ کس راستے پر چل پڑیں گے ان کیلئے صرف دو ہی راستے ہیں یا تو اپنے بچوں کی بھوک مٹانے کیلئے چوری ' ڈکیتی ' قتل و غارت اور دیگر جرائم کی طرف مائل ہوں گے اور جو لوگ اپنے ضمیر سے مجبور ہوکر یہ غلط کام نہیں کریں گے ان کے پاس خودکشی کے راستے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ جمہوریت کے علمبرداروں اور عوام کے نام پر سیاست کرنے والوں سے ہمارا سوال ہے کہ آپ ملک و قوم کو اس تباہی کی طرف کیوں لے کر جاناچاہتے ہو ۔خدارا اپنے وطن سے پیار کرو اور غریب عوام پر تما م تر بوجھ ڈالنے کی بجائے اپنے طرز حکمرانی میں تبدیلی لائو اور عوام کو دیوار کے ساتھ نہ لگا ئو۔
__________________
جاویداسد

 
جاویداسد's Avatar
جاویداسد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
شکریہ: 2,418
1,903 مراسلہ میں 5,667 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 138
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے جاویداسد کا شکریہ ادا کیا
یاسر عمران مرزا (01-12-10), نیلم خان (01-12-10), محمدخلیل (01-12-10)
پرانا 01-12-10, 11:00 PM   #2
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,904
کمائي: 561,119
شکریہ: 25,573
10,451 مراسلہ میں 38,591 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

۔خدارا اپنے وطن سے پیار کرو اور غریب عوام پر تما م تر بوجھ ڈالنے کی بجائے اپنے طرز حکمرانی میں تبدیلی لائو اور عوام کو دیوار کے ساتھ نہ لگا ئو۔ [/QUOTE]

جاوید بھائ یہ درخواست آپ کو کر رہے ہیں

اس صدر کو جس کے صبح مونہہ دھونے سے قبل کروڑوں‌کی دیہاڑی لگ جاتی ہے
__________________
سمندر نے سمندر ،دریا نے دریا جانا مجھے
جسکا جتنا ظرف تھا اتنا ہی پہچانا مجھے
نیلم خان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 01-12-10, 11:36 PM   #3
ذیلی ناظم
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
کمائي: 86,381
شکریہ: 9,614
4,226 مراسلہ میں 12,047 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

لعنت ہے ایسی حکومت پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یاسر عمران مرزا آف لائن ہے   Reply With Quote
یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا گیا
نیلم خان (02-12-10)
پرانا 02-12-10, 12:32 AM   #4
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,904
کمائي: 561,119
شکریہ: 25,573
10,451 مراسلہ میں 38,591 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : یاسر عمران مرزا مراسلہ دیکھیں
لعنت ہے ایسی حکومت پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ووٹ بھی ھمارے تھے اور جلسوں میں‌شرکت بھی ھماری
نیلم خان آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, کورٹ, پاکستان, لوگ, مہنگائی, مفت, موجودہ, آج, آدمی, امریکہ, بچوں, تعلیم, خودکشی, خوش, خلاف, خبر, راستہ, سپریم, عہد, علاج, عدالت, غریب, صارف, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
گیس5روپے یونٹ۔پٹرول 5روپے لٹر مہنگا جاویداسد خبریں 12 14-06-10 02:35 AM
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں داخلہ جمع کروانے میں توسیع champion_pakistani طالب علموں کی بیٹھک 2 07-04-08 06:33 AM
اسٹیج اداکاراؤں کی ڈھلتی عمریں اور چڑھتے معاوضے instafotos ڈرامہ 0 27-01-08 05:19 AM
تمام سیٹلائٹ چینلز براہ راست مباحثے روکدیں خلاف ورزی پر 3سال قید یا ایک کروڑ روپے جرمانے کی سزا دی جاسکتی ہے، پیمرا عبدالقدوس خبریں 0 12-12-07 09:47 AM
پروں میں شام ڈھلتی ہے محمدعدنان شعر و شاعری 0 25-08-07 03:35 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:44 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger