|
بجلی کے ہر یونٹ پر آج سے 2 فیصد ایکیولائزیشن سرچارج عائد ہوگا

12-03-11, 06:19 AM
اسلام آباد( خالد مصطفی) توانائی کے مشیر شاہد ستار نے دی نیوز کو تصدیق کی ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ بے نتیجہ مذاکرات اور جمعہ کے روز مالیاتی فنڈ کے وفد کی واپسی پر حکومت نے آج سے بجلی کے ہر یونٹ پر تمام صارفین کے لئے 2فیصد ایکیولائزیشن سرچارج عائد کرنے پر رضا مند ہوگئی ہے، تاہم اس کا اطلاق لائف لائن صارفین پر نہیں ہوگا۔ اس حوالے سے نیپرا کے دفتر میں وزارت بجلی و قانون کے نمائندے سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ کس طرح سے بجلی کے نرخوں میں اضافہ کیا جائے کیونکہ نیپرا ایکٹ کے تحت حکومت بجلی کے نرخ نہیں بڑھا سکتی جبکہ موجودہ نرخ نیپرا کے مقرر کردہ نرخوں کے برابر ہیں، اس لئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ حکومت ہر یونٹ پر 2فیصد ایکیولائزیشن سرچارج عائد کرے گی۔ تاہم حکومت فیول ایڈجسٹمنٹ فارمولا کے تحت جلد ہی 1.08فیصد بجلی کے نرخ کم کردے گی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق بجلی کے نرخوں میں 2فیصد اضافے سے ہر ماہ سرکاری خزانے میں 0.85بلین روپے جمع ہوں گے جبکہ جون 2011ءتک ہر ماہ 2فیصد اضافے سے حکومت کو 7سے 8ارب روپے کی آمدن ہوگی، حکومت یہ بات کہہ چکی ہے کہ اس مالی سال کے آخر تک بجلی پر سبسڈی 180ارب روپے تک پہنچ جائے گی، جس میں سے حکومت اب تک 128ارب روپے ٹیرف سبسڈی کی مد میں دے چکی ہے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع نے بھی اس امر کی تصدیق کی کہ بجلی کے نرخوں میں 2فیصد اضافہ آج سے ہی ہوگا۔ تاہم انہوںنے بتایا کہ کچھ معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو آئی ایم ایف سے واشنگٹن میں مشاورت ہوگی اور امید ہے کہ جائزہ مشن مئی میں پاکستان آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ ہدف 15فیصد کے مقابلے میں افراط زَر کی شرح 12.9فیصد کی سطح پر آگئی ہے جس کا مطلب ہے کہ حکومتی کارکردگی اچھی ہے تاہم انہوں نے کہاکہ افراط زَر کو روکنا ایک چیلنج ہے کیونکہ عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتوں میں اتار چڑھاﺅ حکومت کے بس سے باہر ہے، تاہم اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں اضافہ رُک چکا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو یہ بھی بتایا ہے کہ حکومت نے پٹرول کی قیمتوں کو ٹارگٹ سبسڈی کے ذریعے کنٹرول کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ حکومت موٹر سائیکل سواروں کو فیول کارڈز دے کر سستا پٹرول فراہم کرے گی اور آئی ایم ایف نے اس حکومتی اقدام کو سراہا ہے۔ تاہم آئی ایم ایف سٹاف مشن کے سربراہ عدنان مزاری جنہوںنے 10سے 11مارچ تک پاکستانی اقتصادی منیجرز کے ساتھ مذاکرات کئے تھے نے واشنگٹن سے جاری اپنے بیان میں کہا کہ صوبوں کے ساتھ ان کی بجٹ کی صورتحال پر ایک لازمی معاہدے کی ضرورت ہے تاکہ خسارے کے ہدف حاصل کرنے کو یقینی بنایا جاسکے ۔ وسیع اندرونی قرضوں کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے وزارت خزانہ کو ڈیٹ مینجمنٹ کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ افراط زَر کو کم کرنے اورڈیٹ کی صورتحال کو مستحکم کرنے کے لئے 2011-12ءمیں بہترمالیاتی کارکردگی کی ضرورت ہوگی۔ کم بجٹ خسارہ معیشت پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثر کو روکنے میں مدد دے گا، مزید یہ کہ اخراجات میں ترجیحات کا تعین بھی ضروری ہے تاکہ غریبوں، سیلاب اور تعمیر نو پر اخراجات کو یقینی بنایا جا سکے۔“ انہوںنے مزید کہا کہ ”آئی ایم ایف مشن نے حکومتی اور مرکزی بینک حکام کے ساتھ تعمیری مذاکرات کئے جن میں حالیہ پیش رفتوں ، مالی سال 2010-11ءاور2011-12ءمیں پاکستانی معیشت کے جائزے اور بہتر بیرونی کرنٹ اکاﺅنٹ اور زرمبادلہ کے ذخائر کے پس منظر میں میکرو اکنامک استحکام کی بحالی کے لئے معاشی پالیسیوں پر بحث ہوئی۔ ہم نے سرکاری وسائل اور مالیاتی سیکٹر کی بہتری کے لئے ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر بھی بحث کی ۔ انہوںنے کہا کہ ”معاشی استحکام، افراطِ زَر، بجٹ خسارے میں کمی، شرح نمو اور تیل کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کے چیلنج سے نمٹنے پر بھی بحث کی گئی، اس مالی سال میں بجٹ خسارے میں کمی پر اتفاق رائے پایا گیا۔ مشن نے حکومت کی طرف سے مزید وسائل جمع کرنے کے لئے اخراجات میں کمی، ٹیکس پالیسی اوردیگر اقدامات کو سراہا گیا، اگر ان اقدامات پر مستعدی اور تسلسل کے ساتھ عمل ہوا تو بجٹ کی صورتحال بہتر ہو جائے گی، مشن نے گزشتہ دسمبرسے سٹیٹ بینک سے قرضہ نہ لینے کے حکومتی اقدام کو بھی سراہا۔ انہوںنے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ”بجٹ خسارے اور نیم مالیاتی آپریشنز کے باعث زَر کی صورتحال کمزور ہوئی اور اس سے افراط زری کا دباﺅ بڑھ گیا۔ اس دباﺅ کو روکنے یا اس کا مقابلہ کرنے کیلئے سٹیٹ بینک کی طرف سے بجٹ کریڈٹ کو مزید کم کرنا ہوگا۔ نان پرفارمنگ قرضوں کے حجم کو دیکھتے ہوئے بینکنگ سیکٹر کی محتاط مانیٹرنگ کی ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ اعلیٰ اور وسیع البنیاد معاشی نموکیلئے ٹیکس اصلاحات ، بے جاسبسڈیز اور مالیاتی سیکٹراصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ حکومتی گورننس بہتر ہو اور بجٹ ، سرمایہ کاری اور شرح نمو کو فروغ دیا جاسکے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”آئی ایم ایف پاکستانی حکام کے ساتھ جاری مذاکرات پر پُر عزم ہے اور ان کے اصلاحاتی پروگرام پھر بھی مذاکرات جاری رکھے گا۔“
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,222 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|