|
بحالی کے بعد مستعفی ہو نے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا،جسٹس افتخار چوہدری ،س

13-04-08, 08:36 AM
بحالی کے بعد مستعفی ہو نے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا،جسٹس افتخار چوہدری ،سانحہ کراچی کیخلاف وکلاء کا ملک گیر احتجاج
کراچی ( اسٹاف رپورٹر/نمائندہ جنگ) معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ بحالی کے بعد مستعفی ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ،انہوں نے واضح کیا کہ استعفیٰ دینا ہوتا تو 9مارچ کوہی دے دیتا،انہوں نے مزید کہا کہ ساری جدو جہد آئین کی بالا دستی کیلئے ہے،انہوں نے کہا میں وکلاء کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں،انہوں نے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی خبر رساں ادارے نے بے بنیاد تاثر پھیلایا،دوسری جانب سانحہ کراچی کے خلاف وکلاء کے ملک گیر احتجاج کے تحت عدالتی بائیکاٹ جاری ہے اور وکلاء نے 17اپریل کو یوم شہداء منانے کا اعلان کر دیا ،ملیر میں وکلاء نے شامیانے لگا لئے،کراچی کے وکیلوں سے اظہار یکجہتی کیلئے پشاور اور کوئٹہ سے وکیل کراچی آرہے ہیں،وکلاء نے آزاد عدلیہ کیلئے جدو جہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے،تفصیلات کے مطابق معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ وہ 2013ء تک چیف جسٹس ہیں، استعفیٰ دینے کی خبریں غلط ہیں جو ڈس انفارمشن مہم کا حصہ ہے استعفیٰ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان خیالات کا اظہار معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی کے صدر سردار عصمت اللہ خان اور ساہیوال بار ایسوسی ایشن کے صدر طاہر عباس کی قیادت میں ملنے والے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، سردار عصمت اللہ کے ہمراہ شیخ سلیمان راجہ یاسر جبکہ طاہر عباس کے ہمراہ ساہیوال سے تعلق رکھنے والے 10وکلاء کا وفد تھا۔ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ وہ 2013ء تک ملک و قوم اور عوام کی خدمت کرتے رہیں گے۔ انہو ں نے کہا استعفیٰ دینا ہوتا تو 9مارچ کو ہی دے دیتا۔ یہ تاثرغلط ہے کہ فنکشنل ہو کر مستعفی ہو جاؤں گا میں آج بھی چیف جسٹس آف پاکستان ہوں اگر 9مارچ کو دباؤ قبول نہیں کیا تو آج بھی نہیں کروں گا۔این این آئی کے مطابق معزول چیف جسٹس نے کہا کہ وکلاء نے عدلیہ کی آزادی اور آئین کی بالادستی کیلئے جو جدوجہد کی ہے، اس پر وہ ان کے شکرگزار رہیں گے اور وہ اپنی ذمہ داریاں اسی طرح پوری کرتے رہیں گے۔ 9/اپریل کو وکلاء کے قتل اور ان کے دفاتر کو آگ لگانے کے سوگ میں پانچوں ضلعوں میں عدالتوں میں کام بند رہا۔ وکلاء بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھے ہوئے تھے۔ بار کی عمارتوں پر کالے جھنڈے لہرا رہے تھے۔ جیل سے قیدیوں کو لاکر پیش نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ہزاروں مقدمات کی سماعتیں نہ ہوسکیں۔پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین جسٹس (ر) رشید اے رضوی نے کہا کہ 26/اپریل کو سندھ ہائیکورٹ کے احاطہ میں آل پاکستان وکلاء نمائندہ کنونشن ہوگا جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔ 17/اپریل جمعرات کو بار ایسوسی ایشن کی اپیل پر ملک بھر کے وکلاء یوم شہدا وکلاء منائیں گے۔ پرتشدد واقعات چاہے وہ 12/مئی یا 9/اپریل ہوں، ہمیں اپنی تحریک چلانے سے نہیں روک سکتے۔ وہ ہفتہ کو پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے فیصلوں کا اعلان کررہے تھے۔ قاضی انور نے کہا کہ ہم یہاں پشاور سے کراچی کے وکلاء کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جہاں بھی دہشت گردی ہوتی ہے اس میں پرویز مشرف کا رول نظر انداز نہیں کرسکتے۔ ملک میں امن خراب، پرویز مشرف کی وجہ سے ہوتا ہے۔ علی احمد کرد نے کہا کہ میں نے جو لاہور نہ جانے کی بات کہی وہ غلط فہمی کی وجہ سے تھی، میری تاریخی تقاریر لاہور میں ہوئیں ہم کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ کامیابی تک ہماری تحریک جاری رہے گی۔ سپریم کورٹ بار کے سابق صدر حامد خان نے کراچی کے وکلاء پر تشدد کی پرزور مذمت کی اور کراچی کے وکلاء کو ان کی تحریک سے متعلق وابستگی پر خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے وکلاء اپنے آپ کو تنہا نہ سمجھیں، پورے پاکستان کے وکلاء ان کے ساتھ ہیں۔ کراچی کے وکیلوں کے حق میں پورے ملک میں زبردست مظاہرے کئے گئے ہماری تحریک جاری رہے گی جب تک 2/نومبر کی صورتحال بحال نہیں ہوجاتی، کمی بیشی کا کوئی فارمولا قابل قبول نہیں ہے۔ملیر بارایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ یوسف زئی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 9/اپریل کو ملیر بار کو آگ لگانے والے دہشت گردوں کو گرفتار کیا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ ملیر بار ایسوسی ایشن کی عمارت تباہ ہوچکی ہے۔ وکلاء شامیانہ لگا کر بیٹھ رہے ہیں۔ بار کی عمارت تعمیر کی جائے۔ وہ ہفتہ کو ملیر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا جاں بحق و زخمی ہونے والے وکلاء کو معاوضہ دیا جائے۔ جلائے جانے والے دفاتر تعمیر کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس اور آزاد عدلیہ کی مہم جاری رہے گی۔ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ کراچی میں 9اپریل کو ہونے والے واقعے کے خلاف اور معزول ججوں کی بحالی کے لئے لاہور ، فیصل آباد، گوجرانوالہ، کراچی سمیت ملک بھر میں وکلاء کا احتجاج ہفتہ کے روز بھی جاری رہا۔ وکلاء نے عدالتوں کا علامتی بائیکاٹ کیا، ریلیاں نکالیں اور بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے۔ مختلف شہروں میں سانحہ کراچی میں جاں بحق ہونے والوں کی غائبانہ نمازجنازہ ادا کی گئی۔ پاکستان بار کونسل کی مجلس عاملہ نے ملک بھر میں 17اپریل کو یوم شہدا منانے کا اعلان کیا۔ وکلاء قائدین نے حکومت پرزور دیا کہ وہ اعلان مری کی پاسداری کرتے ہوئے ججوں کوفوری طورپر بحال کرے دیگرشہروں کی طرح لاہور میں بھی وکلاء نے عدالتوں کا علامتی بائیکاٹ کیا، احتجاج اور بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے۔ پشاور سے ثناء نیوز کے مطابق سرحد بار کونسل کی کال پر کراچی کے سانحہ کے خلاف ہفتے کے روز بھی سوگ منایا گیا۔ کوئٹہ سمیت قلات، خضدار، تربت، پنجگور، لسبیلہ ، حب اوتھ، پشین، چمن، لورا لائی، قلعہ عبداللہ ،ژوب ،سبی ،ڈیرہ مراد جمالی ،نصیر آباد جعفر آباد اور دیگر علاقوں میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔ ریلیاں نکالیں وکلاء نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں نوشکی دالبندین اور دیگر علاقوں میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|