برطانیہ میں اپنے دو بھائیوں کو ماتم پر مجبور کرنے والے ایک شخص کو بچوں پر ظلم ڈھانے کے جرم کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔
محرم کے دوران ماتم کی رسم پر برطانیہ میں پہلے بھی تنازعہ ہوا ہے لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ بات عدالت تک پہنچی ہے۔
سید زیدی پاکستانی نژاد ہیں اور انہوں نے اس سال محرم کے دوران پہلے خود ’زنجیر زنی‘ میں حصہ لیا اور پھر اپنے دو چھوٹے بھائیوں کو بھی اس رسم میں حصہ لینے دیا۔ اس وقت بھائیوں کی عمر تیرہ اور پندرہ برس تھی۔

سید زیدی نے مانچسٹر کی ایک عدالت کو بتایا کہ پاکستان میں سات سال کے بچے بھی ماتم کے دوران زنجیروں کا استعمال کرتے ہیں۔
برطانوی قانون کے تحت سولہ سال کے بچوں کو کسی نقصان سےمحفوظ رکھنے کی ذمہ داری ان کے والدین یا ان کی نگرانی کرنے والے بالغوں پر عائد ہوتی ہے۔
سرکاری وکیل اینڈریو نٹل نے عدالت کو بتایا کہ ’برطانیہ میں قوانین پاکستان سے بالکل مختلف ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے اس رسم میں حصہ لیں تو انہیں پاکستان لے جائیے۔‘
بریڈفورڈ میں،جہاں کافی بڑی پاکستانی آبادی ہے، پولیس نے پہلے بھی اس نوعیت کے معاملات کی تفتیش کی ہے لیکن کسی کے خلاف فرد جرم عائد کرنے سے گریز کیا کیونکہ بچوں نے اپنی مرضی سے اس رسم میں حصہ لیا تھا۔
سماعت کے دوران جیوری کو بتایا گیا کہ بچے ایسے کسی کام کی اجازت دینے کے مجاز نہیں ہیں جن سے انہیں نقصان پہنچے۔
استغاثہ کا موقف تھا کہ سولہ برس سے کم عمر بچوں کو اس کا حق حاصل نہیں اور اگر وہ ماتم کرنا بھی چاہتے تھے تو سید زیدی کوانہیں روکنا چاہیے تھا۔
علاقے کے جعفری اسلامی سینٹر کے جنرل سیکریٹری صفدر ضیا کہتے ہیں کہ اب عقیدت مندوں کی اس بات کے لیے حوصلہ افزائی کی جارہی ہے کہ وہ اپنے غم کی عکاسی خون کا عطیہ دیکر کریں ماتم کے ذریعہ نہیں۔
’لیکن اگر کوئی بچہ اپنے مذہبی عقیدے کے مطابق ماتم کرنا چاہتا ہے تو آپ اسے کیسے روک سکتے ہیں؟ آپ نہ انہیں روک سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی حوصلہ شکنی کرسکتے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم لوگوں میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اس میں وقت لگے گا۔ راتوں رات چیزیں نہیں بدلا کرتیں۔‘