|
برطانیہ میں فسادات پورے یورپ کے لیے انتباہ ہیں

11-08-11, 04:47 PM
برطانیہ میں وسیع پیمانے پر فسادات کے باعث پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ اس بحران کے حل پر غور کیا جائے۔ بدھ کے روز حکومت کے تحت قائم ہنگامی کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فسادات ختم کرنے کے لیے ربر کی گولیاں اور واٹر کیننز استعمال کرنے کی اجازت دینے کا اعلان کیا جس کی برطانیہ کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ علاوہ ازیں عدالتیں فسادات میں حصہ لینے والے افراد کو سزائیں شنانا شروع کر چکی ہیں۔ برطانوی حکام نے رجائیت پسندانہ انداز میں بتایا ہے کہ گزشتہ رات ملک بھر میں ماحول پرسکون رہا، سنگین وارداتیں نہیں ہوئیں۔
تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ برطانیہ میں پیش آنے والے واقعات پورے یورپ کے لیے انتباہ ہیں۔
برطانیہ میں مشتعل نوجوانوں کے برپا کردہ فسادات پانچ دنوں سے اولین عالمی خبر ہیں۔ مغربی یورپ کے ممالک میں تارکین وطن کی یگانگت کا مسئلہ سال بسال سنگین ہوتا جا رہا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ برطانیہ میں ہوئے ہنگاموں جیسے واقعات دیگر ممالک میں بھی پیش آ سکتے ہیں۔ فرانس میں برطانیہ کے حالیہ واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے برطانوی حکام پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے مخلتف قومی برادریوں کو ضرورت سے زیادہ آزادیاں فراہم کی ہیں۔
یاد دلاتے چلیں کہ گزشتہ عرصے میں تیونس اور لیبیا سے آنے والے تارکین وطن اٹلی میں فسادات کر چکے ہیں کیونکہ اٹلی کے حکام انہیں پروانۂ رہائش دینے سے انکاری ہیں۔ بین الاقوامی سیاسی کے انسٹی ٹیوٹ IPALMO کے صدر ڈاریو ریوولٹا کو یقین ہے کہ مغربی یورپ کے ممالک میں فسادات کا حقیقی خطرہ موجود ہے۔
موصوف نے کہا: فسادات کرنے والے بھوکے نہیں مر رہے، انہیں حکومت کی جانب سے مالی امداد ملتی ہے۔ لیکن یہ نوجوان دیکھ رہے ہیں کہ دوسرے لوگ جتنے خوشحال ہیں ویسی خوشحالی ان کی پہنچ سے باہر ہے۔ اس لیے وہ حکومت اور معاشرے سے دشمنی محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ترک وطنی بذات خود بری بات نہیں ہے۔ لیکن ایک مختصر عرصے میں تارکین وطن کی تعداد میں بہت زیادہ اضافے سے صرف منفی اثرات ہی برآمد ہو سکتے ہیں۔
روسی ماہرین کا خیال ہے کہ معاشی بحران اور کثیر الثقافتی پالیسی کی ناکامی برطانیہ میں ہونے والے فسادات کی وجوہ ہیں۔ روسی سینٹ کی کمیٹی برائے امور خارجہ کے سربراہ Mikhail Margelov نے کہا ہے کہ یورپی ممالک نوآبادیاتی دور پر اتنے متاسف تھے کہ انہوں نے ترقی یافتہ ممالک سے آنے والے بہت زیادہ تارکین وطن کو اپنے ہاں بسنے کی اجازت دے دی تھی جبکہ ان لوگوں میں بہت زیادہ ایسے لوگ ہیں جو یورپی اقدار اور روایات کی بالکل قدر نہیں کرتے۔
جرمن کونسل برائے خارجہ پالیسی کے رکن الیکساندر رار نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ حالیہ فسادات کے نتیجے میں مغربی یورپ کے سماجی نظام میں فیصلہ کن تبدیلیاں آئیں گی۔ موصوف نے کہا کہ مغربی یورپی ممالک میں احتجاج کرنے والوں کی کمی نہیں، سیاست دانوں کو یہ بات مدنظر رکھنا ہوگی۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ بیس سال پہلے مغربی جمہوریت ساری دنیا کے لیے ایک مثال سمجھی جاتی تھی لیکن گزشتہ عرصے میں بہت زیادہ مسائل سامنے آئے ہیں۔ موجودہ نظام میں تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔ نیا منصفانہ سماجی نظام قائم کئے جانے کی ضرورت ہے کیونکہ آج مغربی یورپ میں چاہے اعلی تعلم یافتہ ہی کیوں نہ ہوں تیس فی صد نوجوان بے روزگار ہیں۔ یہ سماجی و معاشی بحران کا ثبوت ہے۔
مصری ماہر سیاسیات طارق حجی اس موقف سے متفق ہیں کہ مغربی یورپی ممالک کے حکام پر یہ واضح ہونا چاہئے کہ تارکین وطن کو معاشرے میں شامل کئے جانے کے موجودہ اصول بدلنے کا وقت آ گیا ہے۔
ایران اور لیبیا نے برطانیہ کے واقعات پر غیرمتوقع ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایران کے صدر نے جو ملک میں حزب اختلاف پر تشدد ڈھاتے چلے آ رہے ہیں، سخت طریقے اپنانے پر برطانوی پولیس کی مذمت کی اور ڈیوڈ کیمرون کو عوام کی امنگیں سمجھنے کا مشورہ دیا ہے۔ طرابلس انتظامیہ کے ذرائع نے بھی اسی قسم کا بیان دیا ہے۔ تاہم برطانوی حکام نے اس پر توجہ نہیں دی کیونکہ اس وقت ان کا اولین مقصد ملک کے حالات کو معمول پر لانا ہے۔
__________________
کدی حال تان پوچھیا کر
دل دے تھورے ہین کج ویکھ کےروسیا کر
|
پاکستانی
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: پاکستان
عمر: 25
مراسلات: 5,282
شکریہ: 10,301
3,101 مراسلہ میں 7,456 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|