جارج ڈبلیو بش بعض حربوں کا دفاع کرتے ہوئے انہیں قانون کے مطابق قرار دیتے ہیں۔
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ امریکی صدر براک اوباما کو چاہیے کہ وہ بش انتظامیہ کے خلاف تشدد کے الزامات اور جنگی جرائم کی اجازت دینے کی تحقیقات کا حکم دیں۔
ہیومن رائٹس واچ کا کہنا تھا کہ ان کے پاس تشدد کے ان واقعات کے ناقابلِ تردید ثبوت موجود ہیں جن کا حکم جارج ڈبلیو بش نے دیا تھا۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ ’امریکہ کے سابق صدر، نائب صدر، وزیرِ دفاع اور سی آئی اے کے سربراہ سبھی سے تفتیش کی جانی چاہئیے‘۔
سابق امریکی صدر بش نے تشدد کے بعض حربوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی وجہ سے انہوں نے کئی حملوں کو روک کر زندگیاں بچائی ہیں۔
اوباما انتظامیہ نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی حراست میں ہوئی ہلاکتوں اور دوسرے غیر حکمیہ اقدامات کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔
سابق امریکی صدر اور ان کی انتظامیہ ان اقدامت کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ امریکہ کے خلاف حملوں کو روکنے کے لئے ضروری اور قانون کے دائرے میں تھے۔لیکن ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ یہ تفتیش ان عوامل کا احاطہ نہیں کرے گی جنہیں بش انتظامیہ نے قانونی قرار دے کر ان کی اجازت دی تھی۔
ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کینیتھ روتھ کا کہنا ہے کہ ’ٹھوس وجوہات موجود ہیں کہ جارج ڈبلیو بش(امریکہ کے سابق صدر)، ڈک چینی(سابق نائب امریکی صدر)، ڈونلڈ رمز فیلڈ(سابق امریکی وزیرِ دفاع) اور جارج ٹینٹ(سی آئی اے کے سابق سربراہ) کے خلاف تشدد اور جنگی جرائم کی اجازت دینے کی تحقیقات کروائی جائیں‘۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ بش انتظامیہ کے اعلی اہلکاروں نے واٹر بورڈنگ، سی آئی اے کے خفیہ جیلوں کا استعمال اور زیر حراست افراد کا دوسرے ملکوں میں منتقلی جیسے اقدامات کا حکم دیا۔
سابق امریکی صدر بش اور ان کی انتظامیہ کے دیگر حکام نے ان اقدامت کا دفاع کرتے ہوئے بار بار کہا ہے کہ یہ امریکہ کے خلاف حملوں کو روکنے کے لئے ضروری تھے اور قانون کے دائرے میں بھی تھے۔
ح