|
بعض عناصر حکومت اور پی پی کی دشمنی میں اتنا آگے نہ جائیں کہ سزا عوام کو ملے ، گیلانی

27-08-10, 11:56 AM
اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ مارشل لاء سے متعلق ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے متنازعہ بیان پر ایم کیو ایم جلد وضاحت یا تردید کردے گی' پیپلز پارٹی اور حکومت کی دشمنی میں بعض عناصر اتنے آگے نہ نکل جائیں کہ عوام کو سزا ملے' عالمی برادری میرے لئے نہیں سیلاب متاثرین کیلئے امداد دے رہی ہے' 18ویں ترمیم کے تحت کابینہ کا سائز آئندہ سال کم کردیا جائے گا' فلڈ کمیشن سے متعلق میاں نواز شریف کی تجویز کو تسلیم کرنے سے اتحادی اور صوبے ناراض ہوجاتے' عدلیہ سے اچھے تعلقات ہیں' ملک میں جمہوریت اور اداروں کو مضبوط بنایا جارہا ہے۔ وزیراعظم نے یہ بات ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ اور وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف بھی موجود تھے۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے متنازعہ بیان سے متعلق سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ الطاف حسین کا یہ بیان مناسب نہیں تھا جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا آپ کا الطاف حسین سے کوئی رابطہ ہوا ہے تو وزیراعظم نے کہا کہ الطاف حسین سے تو نہیں ایم کیو ایم کے رہنما وفاقی وزیر ڈاکٹر فاروق ستار سے رابطہ ہوا ہے اور مجھے یقین دلایا گیا ہے کہ ایم کیو ایم الطاف حسین کے اس بیان کی وضاحت یا تردید خود جاری کرے گی۔ غیر ملکی امداد سے متعلق سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ اب تک 774ملین ڈالر امداد کے وعدے کئے گئے ہیں حکومت کی ساکھ کا کوئی مسئلہ نہیں ہے عالمی برادری حکومت پر مکمل اعتماد کررہی ہے اگر حکومت پر اعتماد نہ کیا جاتا تو اتنی امداد نہ ملتی۔ غیر ملکی امداد کے شفاف استعمال کو یقینی بنایا جارہا ہے اور غیر ملکی امداد جہاں خرچ ہوگی اس کا ریکارڈ حکومت کی ویب سائٹ پر جاری کیا جائے گا تاکہ اگر کسی کو اعتراض ہو تو وہ نشاندہی کرسکے۔ وزیراعظم نے بعض عناصر کی طرف سے منفی بیانات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی اور حکومت کی دشمنی میں یہ عناصر اتنا آگے نہ نکل جائیں کہ اس کی سزا عوام کو ملے۔ ایک سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ میاں نواز شریف کی تجویز کو مکمل طو رپر مسترد نہیں کیا گیا میں نواز شریف کا احترام کرتا ہوں مگر تجویز پر عمل درآمد کا ایک طریقہ کار ہے صوبوں نے اس تجویز کی تائید نہیں کی اور نہ ہی اتحادی جماعتوں نے حمایت کی۔ میرے لئے دو ہی آپشن تھے کہ اتحادیوں کو ناراض کرتا یا اپوزیشن کو' کابینہ کا سائز کم کرنے سے متعلق سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے تحت آئندہ سال کابینہ کا سائز کم کردیا جائے گا اور جو کچھ 18ویں ترمیم میں لکھا گیا ہے اس کے مطابق ہی وفاقی کابینہ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایک مرحلے پر یہ بھی کہا گیا کہ این ایف سی ایوارڈ پر اتفاق نہیں ہوگا لیکن پیپلز پارٹی کی مفاہمت کی پالیسی کے نتیجے میں این ایف سی ایوارڈ کا نفاذ ہوا۔ ایک سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں یہ الزامات عائد کئے گئے تھے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے ملنے والی غیر ملکی امداد شفاف طریقے سے خرچ نہیں ہوئی اور اربوں ڈالر کا کوئی حساب نہیں مل رہا۔ لیکن موجودہ حکومت کے دور میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ سے ملنے والی امداد کے خرچ ہونے پر کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا اور نہ ہی کرپشن کا الزام عائد ہوا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ میرا اسلام آباد میں کوئی گھر نہیں ہے میں جب وزیر اور سپیکر رہا تو سرکاری گھر میں قیام کرتا تھا یا پھر اڈیالہ جیل میں وقت گزرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق میں گڈ گورننس قائم کی گئی ہے کوئی سکینڈل نہیں بنا جبکہ پنجاب میں سیالکوٹ کا افسوسناک واقعہ گڈ گورننس کے دعوے کے حوالے سے ایک کھلی مثال موجود ہے۔ایک اور سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ گریڈ 21 سے 22میں ترقی دینے کیلئے نئے رولز تیار کرلئے گئے ہیں اور اس سلسلے میں جلد حتمی فیصلے کئے جائیں گے۔
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے حکومت کے بارے میں عالمی سطح پر ساکھ کے حوالے سے کسی بھی مسئلہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ سیلاب کے بعد عالمی برادری نے پاکستانی متاثرین سیلاب کے لئے بھرپور امداد کی ہے' میڈیا عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرے اور مشکل کی اس گھڑی میں حکومت پر تنقید کی بجائے عالمی برادری کو پاکستان کے سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے قائل کرے' سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے ذریعے نقصانات کا تخمینہ لگایا جائے گا ' بیرون ملک سے ملنے والی امداد کی شفاف تقسیم کو یقینی بنایا جائے گا۔ جمعرات کو نجی ٹیلی ویژن کو دیئے گئے اپنے ایک انٹرویو میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں حکومت کو اربوں ڈالر کی امداد موصول ہوئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میڈیا کو مقبول عوامی منتخب اتحادی حکومت کی ہر صورت معاونت کرنی چاہیے' میڈیا کو پاکستان کے عوام پر اعتماد کرنا چاہیے جنہوں نے ہمیں منتخب کیا ہے ان کی رائے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔میڈیا معاشرے میں سنسنی پھیلا رہا ہے اور یہ کوئی ملک کی خدمت نہیں ہے' میڈیا پاکستان کو امداد کے حصول میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ انہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کے لئے کردار ادا کرے۔ میڈیا قوم کے لئے کام کرے' ہم اسی کے لئے کام کر رہے ہیں اور اسے مایوس نہیں ہونے دیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیکرٹری خزانہ کی طرف سے فنڈز کی منصفانہ تقسیم کے لئے ویب سائٹ سے آگاہ کیا گیا ہے تاہم یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ ان فنڈز کی ایک بڑی مقدار حکومت پاکستان کے ذریعے خرچ نہیں کی جائے گی۔وزیراعظم نے قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ حکومت ان کی مشکلات اور مسائل سے بخوبی آگاہ ہے' ہم یہ یقین دلاتے ہیں کہ اتحادی حکومت مشکل کی اس گھڑی میں اپنے عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف سے ملاقات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وہ جیکب آباد میں تھے کہ جب انہیں یہ پیغام ملا کہ میاں نواز شریف کچھ تجاویز کے ساتھ ان سے ملاقات کے خواہشمند ہیں جس پر میرا فوری ردعمل یہ تھا کہ وہ پہلی فرصت میں میاں نواز شریف کے ساتھ ان تجاویز پر تبادلہ خیال کریں گے کیونکہ ان کے نواز شریف کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نواز شریف کے ساتھ جس وقت ان کی ملاقات ہوئی تو ان کے ہمراہ وفاقی وزراء قمر زمان کائرہ' راجہ پرویز اشرف' نذر محمد گوندل جبکہ نواز شریف کے ساتھ سینیٹر اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان کے میاں نواز شریف کے ساتھ دوستانہ مراسم ہیں۔ میاں نواز شریف نے ملاقات کے دوران کچھ نام تجویز کئے جن میں جسٹس (ر) رانا بھگوان داس کا نام بھی کمیشن میں شامل تھا۔ نواز شریف نے یہ تجویز بھی دی تھی کہ صوبے اپنے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا 30 فیصد حصہ اس فنڈ میں دیں گے۔ اس لئے یہ ضروری تھا کہ اس تجویز کو نہ صرف صوبوں بلکہ اتحادیوں کے ساتھ بھی زیر بحث لایا جاتا۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے یہ تجویز اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی اور ایم کیو ایم کے ساتھ زیر بحث لائی تاہم دیگر سیاسی رہنمائوں کے ساتھ اس تجویز پر تبادلہ خیال نہیں ہو سکا کیونکہ وہ ملک سے باہر تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزراء اعلیٰ کی یہ رائے تھی کہ وہ اپنے ترقیاتی بجٹ کا 30 فیصد حصہ اس فنڈ میں نہیں دے سکتے کیونکہ 18ویں ترمیم میں صوبوں کو ڈی سنٹرلائزڈ کیا گیا ہے جبکہ اس کی بجائے فنڈز کی شفاف اور منصفانہ تقسیم کے لئے نگران کمیشن بنانے کی تجویز پیش کی گئی۔ جب ان سے ملتان میں اعلان کردہ کمیٹی کے بارے میں متنازعہ خبروں کی گردش کے حوالے سے پوچھا گیا تو وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے خود پاک فوج کو کہا کہ وہ متاثرین میں امدادی سامان تقسیم کریں کیونکہ لوٹ مار کی وجہ سے یہ سامان متاثرہ افراد اور متاثرہ علاقوں تک نہیں پہنچ رہا۔
__________________
جاویداسد
|
جاویداسد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
شکریہ: 2,418
1,903 مراسلہ میں 5,667 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|