|
بلجیم 461 دن حکومت کے بغیر چلنے والا پہلا ملک بن گیا

17-09-11, 06:25 AM
لاہور (صابر شاہ) بلجیم کے سیاستدانوں نے ملک کو سنجیدہ بحران سے نکالنے کیلئے اپنے ملک کو 461 دن حکومت کے بغیر چلانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ تاہم 65 لاکھ فلمش بولنے والے ڈچ لوگ اور 45 لاکھ فرانسیسی بولنے والے ویلونز یہ دشمنی ختم کردینگے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ ابھی چند دن یا ہفتے اور لے۔ یہ ترقی 17 کروڑ پاکستانیوں کو چونکا دینے کیلئے کافی ہے کیونکہ حکومت کی عدم موجودگی میں بھی بلجیم میں روز مرہ کی زندگی تعلیم سے بہبود تک انتہائی معمول کے مطابق ہے۔ یہ ادارے علاقائی اور کمیونٹی کی حکومتیں پچھلے کئی سالوں سے چلا رہی ہیں۔ یہاں کے سیاستدانوں نے نہ تو ایک دوسرے پر الزامات لگائے ہیں اور نہ ہی اپنی پریشانی کا پر زور اظہار کیا ہے۔ اس میں پاکستانی پارلیمنٹرینز کیلئے سبق موجود ہیں۔ فرانسیسی بولنے والے سوشلسٹ رہنما ایلیو ڈی روپو جو کہ بلجیم کے ممکنہ وزیراعظم نے بھی اعلان کیا کہ 8 فلمش اور فرانسیسی بولنے والی پارٹیوں نے بحران میں بھی فیصلہ کن قدم اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ 8 پارٹیاں رکاوٹوں پر قابو پانے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔ ملک کے سیاسی مسائل اس وقت شدت اختیار کرگئے جب نگران وزیراعظم نے اعلان کیا کہ وہ پیرس کی تنظیم میں ملازمت کرنے کیلئے استعفیٰ دے دینگے۔ ردعمل میں کنگ البرٹ II نے مختلف زبانیں بولنے والی کمیونٹیز میں معاملات طے کرائے۔ اس کیلئے انہوں نے اپنا فرانس کا دورہ بھی مختصر کردیا۔ البرٹ II نے جولائی میں خبردار کیا تھا اس ڈیڈلاک کی وجہ سے اس ملک کی مستقبل کی معیشت اور اجتماعی طور پر یورپ کو خطرات لاحق ہیں۔ ملک کو 10 جون 2010 کے انتخابات کے بعد نگران کابینہ کے حوالے کردیا گیا تھا کیونکہ مختلف پارٹیاں آپس میں اتحاد نہیں کرسکتی تھیں۔ جنوری 2011ءمیں بلجیم نے نیدرلینڈ کے 1977ءکے سنگ میل کا ریکارڈ توڑ دیا جو کہ 208 دن حکومت کے بغیر چلا تھا۔ فروری 2011 میں اس قوم نے عراق کا بھی ریکارڈ توڑ دیا جو 249 دن حکومت کے بغیر چلا تھا۔ فلمش بولنے والے ڈچ شمالی بلجیم میں رہتے ہیں وہ ملک کی 60 فیصد آبادی ہونے کی وجہ سے خودمختاری کا مقابلہ کررہے ہیں۔ فرانسیسی بولنے والے ویلونز جنوبی بلجیم میں رہتے ہیں ان کو ڈر ہے کہ اگر ملک کا شمالی حصہ الگ ہوگیا تو ان کو فنڈز نہیں ملیں گے۔ فلمش بولنے والوں نے جون 2010ءکے انتخابات میں اچھا تو کیا تھا لیکن وہ حکومت بنانے کیلئے کافی نشستیں حاصل نہیں کرپائے تھے۔ تب سے وہاں نگران حکومت نظام چلا رہی ہے۔ یورپی یونین کا رکن ہونے کے ناطے بلجیم میں یورپی یونین اور نیٹو کے ہیڈ کوارٹرز ہیں۔ اس موقع کو منانے کیلئے بلجیم کے لوگ اس موقع کو پہلے ہی منا چکے ہیں۔ لیون میں لوگوں نے ایک دوسرے کو مفت میں فرنچ فرائز پیش کیں۔ ان تقریبات کی وجہ سے سیاستدان کو متفق ہونے پر مجبور کردیا ہے۔ اس طرح کی ایک مہم کے دوران شیو کرنا چھوڑ دی گئی حتیٰ کہ پارلیمنٹ کے ایک ممبر نے تجویز دی کہ سیاستدانوں کو اتحاد تک سیکس سے انکار کردینا چاہئے۔ بلجیم کا رقبہ 30528 سکوائر کلومیٹر اور آبادی ایک کروڑ 10 لاکھ ہے اور حال ہی میں کنگ البرٹ II ملک کے سربراہ ہیں۔ وہ وزراءاور وزیراعظم کا انتخاب کرتے ہیں۔ ڈچ اور فرانسیسی بولنے والے وزراءبرابر ہوتے ہیں جبکہ وزیراعظم اس میںشامل نہیں ہے۔ اس ملک میں 19 ویں صدی کے آغاز میں صنعتی انقلاب آیا تھا اور ذرائع آمدورفت میں بھی سبقت لے گیا ہے۔ ورلڈ بنک اور آئی ٹی ایم ایف کے اعداد و شمار کے مطابق بلجیم کی جی ڈی پی 381.4 ارب ڈالر اور اس کی جی ڈی پی پر کیپیٹا 38600 ڈالر ہے۔ اس کی 15.2 فیصد آباد خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ مہنگائی کی شرح صرف 2.5 فیصد ہے۔ افرادی قوت 50 لاکھ ہے۔ اس کی سالانہ برآمدات 245.3 ارب ڈالر اور اس کی درآمدات 253.1 ارب ڈالر ہیں اور فاریکس ذخائر 3002 ارب ڈالر ہیں۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,222 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|