دنیا بھر میں بلند ترین شرح سود پاکستان بینکنگ سیکٹر میں ہے، سروے
پاکستان کے بینکنگ شعبے میں شرح سود دنیا بھر میں بلند ترین ہے جس سے اس شعبے میں مقابلے کا رحجان بہت کم یا سرے سے ہی نہیں، یہ مشاہدہ صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم، کنزیومر رائس کمیشن، کی ملک میں بینکنگ کے شعبے سے متعلق جمعہ کو جاری کی گئی ایک رپورٹ میں سامنے آیا ہے، اس رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جس انداز سے کنزیومر فنانس خدمات مہیا کی جا رہی ہیں یہ معیشت میں مقابلے کے رحجان کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں، سروے رپورٹ کے نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے کمیشن کے ریسرچ فیلو مظہر سراج کا کہنا تھا کہ مرکزی بینک کی شرح سود پر نظر نہ رکھنے کی وجہ سے بینکوں نے آپس میں ایک گروہ (کارٹیل) کی شکل اختیار کرلی ہے، ان کا کہنا تھا کہ کھاتہ داروں کے پیسے پر بھاری منافع کے پس منظر میں پاکستان میں ان بینکوں کے اخراجات کوئی زیادہ نہیں ہیں، ان کا مطالبہ تھا کہ اسٹیٹ بینک اپنے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے بینکوں اور کھاتہ داروں کے لیے جائز منافع کی شرح کا تعین کرے، رپورٹ میں نوٹ کہا گیا کہ کنزیومر فنانس سے افراط زر میں اضافے سے معیشت پر دباؤ بڑھا ہے، اس سے کئی ضروری اور پُر تعیش اشیا کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اس سے صارف کی زندگی کا معیار زندگی بڑھانے میں بھی مدد ملی ہے، پاکستان میں گزشتہ سات برسوں میں بینکوں نے کنزیومر فنانس کے ذریعے گاڑیوں، مکانات اور ذاتی قرضے متعارف کیے ہیں۔