واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


بلوچستان میں جاری بد امنی کی ایک چشم کشا رپورٹ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-09-09, 10:57 AM   #1
بلوچستان میں جاری بد امنی کی ایک چشم کشا رپورٹ
حیدر حیدر آن لائن ہے 02-09-09, 10:57 AM

(اس رپورٹ کا ایک حصہ آپ کے جی بی ایجنٹس کے انٹروییو کی صورت میں پڑھ چکے ہیں)


ہر کہانی کا کوئی نہ کوئی آغاز ہونا ہوتا ہے۔ کہانی کا پلاٹ ترتیب دیا جا چکا ہوتا ہے ۔ اس کے کردار، انکے کام اور سیچیوشنز سب کچھھ ذہن میں ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ کہانی کو شروع کیسے کیا جائے۔ کہانی کا آغاز ہی کہانی کے پر اثر انجام کی کلید ہوتا ہے۔
یہی مسئلہ بلوچستان کے سلسلہ میںترتیب دیئے گئے پلاٹ کے لیے بھی تھا۔ پلان مکمل ہے۔ بس اس پلان کو بروئے کار کیسے لایا جائے۔ اس سلسلہ میں کسی Catalystکی ضرورت تھی اور یہ Catalyst دو جنوری 2005 کو ڈاکٹر شازیہ گینگ ریپ کیس کی صورت میں میسر آ گیا۔ اس سانحہ کے بعد بھڑکنے والی آگ ایسی بھڑکی کے بجھنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ بلوچستان کو تاریخ کی سب سے بدترین بد امنی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

ہمارے 4 نمائندوں اور انکے درجنوں ساتھیوں نے پچھلے سات ہفتوں میں بلوچستان کے 5000 کلومیٹر سے زائد رقبے کی ریکی کی تاکہ صرف ایک سوال کا جواب تلاش کیا جا سکے "آخر بلوچستان میں ہو کیا رہا؟" اور اس جدو جہد میں اس پر پیچ کہانی کے صرف چند حصے دھندلے دھندلے واضح ہوئے ہیں۔ اور اگر ان دھندلے دھندلے روشن حصؤں کا بلوچستان میں جاری بد امنی کے ساتھ کچھھ بھی تعلق ہے تو یہ انتہائی خؤفناک اور بلڈ پریشر بڑھا دینے والئ تصویرکی طرف اشارہ کر رہے ہیں

9/11 کے بعد امریکہ کو پاکستانی گورنمنٹ سے آزاد کچھھ ایسے ذرائع کی بھی ضرورت تھی جو اسکو "پاکستان کی قید" سے آزاد کر سکیں۔اس مقصد کے لیے امریکی صدر بش اور روسی صدر پیوٹن میں ایک رابطہ ہوا کیونکہ روس افغانستان اور بلوچستان کے بارے میں خود پاکستان سے زیادہ جانتا تھا اور ابھی تک اسکے رستے زخم بھرے نہیں تھے۔ "ان دونوں" نے ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق کیا۔

جنوری 2002 میںتربیت دینے والوں کا پہلا دستہ پاکستان کی سرحد عبور کر کے بلوچستان میں داخل ہواا۔ اس پہلے دستے میں دو انڈین ،دو امریکن اور انکا افغان ڈرائور تھا جو براؤن رنگ کی ہائی لکس SUV ڈبل کیبن گاڑی پر سوار تھے۔ یہ لوگ افغانستان کے راشد قلعہ سے ہوتے ہوئے وہ لوگ 17 جنوری 2002 کو بلوچستان کے مسلم باغ کے علاقے تک پہنچے ۔اور پھر وہاں سے وہ لوگ بلوچستان کے علاقے کوہلو تک چلے گئے۔اس سارے راستے میں انہوں نے غیر معروف راہیں اختیار کیں۔ کوہلو میئں ان لوگوں نے بلوچ نوجوانوں سے ملاقاتیں کیں پھر ایک امریکن وہیں رہ گیا جبکی باقی کے افراد ڈیرہ بگٹی چلے گئے اور چند دن کے بعد واپس آئے۔ اگلے کوئی ہفتے ان لوگوں نے بلوچ لوگوں سے ملاقاتیں کرنے میں گزار دئیے اور بالاخر ایک ٹریننگ کیمپ قائم کرنے پر اتفاق ہو گیا۔ اسی ٹریننگ کیمپ سے بلوچستان میں جاری بد امنی کی شاخیں پھوٹین۔
بالاچ مری نے کوہلو میں پہلا ٹریننگ کیمپ قائم کرنے کی آفر کی ۔یاد رہے بالاچ مری روس کا تعلیم یافتہ الیکٹرنک انیجننرہے۔
پہلے کیمپ میں 30 بلوچ نوجوانوں نے شرکت کی۔ اس کیمپ میں مندرجہ ذیل ٹاپکس پر توجہ دی گئی۔
//////////بلوچ کا حق آزادی
///////////گریٹر بلوچستان کا نظریہ
////////////سیاسی جدوجہد میں سبوتاژ(تباہی لانا )کا مقام
/////////////پنجاب کا ظلم و ستم اور مظلوم قوموں کی حالت ذار
////////////// احتجاج کرنے کے میڈیا فرینڈلی طریقے
سوائے میڈیا کو استعمال کرنے کے باقی تمام پرانے طریقے ہی جاری کیے گئے جوKGB نے استعمال کیے تھے۔امریکہ بلوچستان کو بطور ایک بلیک میلنگ ہتھیار کے استعمال کرنا چاہتا تھا تاکہ اگر ایران یا پاکستان اسکے منصوبے سے ہٹیں تو انکو سیدھا کیا جا سکے۔امریکہ خاص کر پاکستان کو یاد دلاتا رہتا ہے کہ طالبان کے خلاف کاروائی میں سستی ہونے کی صورت میں اسکو بلوچستان میں ہولناک نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔وہی بلوچستان جو پاکستان کے 48 فیصد رقبے پر مشتمل ہے۔اور پاکستان کے بیشترقدرتی معدنیات کا مرکز ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ مزید کیمپس قائم کیے جاتے رہے اور فی الوقت 45 سے 55 ٹریہننگ کیمپس کام کر رہے ہیں جن میں فی کیمپ 350 سے 550 بلوچ نوجوان تربیت حآصل کر رہے ہیں۔ ان کیمپس کی ترتیب دو بڑی مثلث کی شکل میں ہے جو بلوچستان کے بیشتر حصے کو گھیرے ہوئے ہے۔سبی،کشمور اوربارکھان پہلی ٹرائی اینگل کے کونے متصور کیے جا سکتے ہیں جبکہ نوشکی،وانا(وزیرستان) اور کشمور دوسرے ٹرائی اینگل کے کنارے ہیں۔ یہ دونوں ٹرائی اینگلز ایک دوسرے کو سپورٹ کرتی ہیں۔

ان کیمپس کو ہتھیاروں کی فراہمی افغان بارڈر کے ساتھ ساتھ انڈین بارڈرز سے بھی جاری ہے اور اس سلسلہ میں سب سے اہم مرکز انڈین گاؤں کشن گڑھ اور شاہ گڑھ ہیں۔ ان ہتھیاروں کو کیمپس تک پہنچانے کا طریقہ نہایت آسان رکھا گیا ہے۔ چونکہ انڈیا نے اپنی سائڈ پر باڑ لگا رکھی ہے اس لیے وہ جہاں سے چاہتے ہیں موقع دیکھ کر اونٹوں کے ذریعے ہتھیار پاکستان کے اندر پہنچا دیتے ہیں۔پھر ان ہتھیاروں کو کارگو ٹرکوں پر لاد دیا جاتا ہے۔ ان ہتھیاروں کوعام سامان اور تڑپالوں سے ڈھک دیا جاتا ہے اور یہ ٹرک چند گھنٹوں میں تقریباََ 140 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے ڈیرہ بگٹی اور پھر کوہلو پہنچھ جاتے ہیں۔ یہ روٹ پاکستانی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے بھی موزوں ہے کیونکہ اس روٹ سے پنجاب کو جانے والی گیس پائپ لائن بھی گزرتی ہے۔

اس کے علاوہ بلوچستان کے وسیع ساحل سمندر بھی دوبئی اور اومان سے آمدورفت میں مدد دیتے ہیں۔

ایک بلوچ باغی کو 200 ڈالرز اور اسکے سپر وائزر کو 300 ڈالرز ماہانہ ملتے ہیں ۔ جو کہ انہوں نے خواب و خیال میں بھی نہیں دیکھے ہوتے کیونکہ تعلیمی لحاظ سے بد حال بلوچستان کے جوان دیگر صوبوں کے لوگوں کا تعلیمی میدان میں مقابلہ نہیں کر سکتے اسی لیے اکثر بے روزگار ہی رہتے ہیں۔تاہم دالبندین،خاران،نوشکی، سبی اور خضدار میں BLA کے ایکٹیوسٹس کے نئے تعمیر شدہ مکانات اور چمکتی دمکتی گاڑیاں اور انکی شادیوں پر خرچے دیکھنے کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ بی ایل اے کے لیڈرز اس سے زیادہ کما رہے ہیں۔۔ ان ٹریننگ کیمپس کے انچاج عام طور پر غیر ملکی یا انڈین ہی ہوتے ہیں۔

اسی وجہ سے پاکستانی انٹیلیجنس نے بجائے ان کیمپس کے خلاف کاروائی کرنے کے ان کیمپس میں موجود انڈین کی تصاویر لے لیں اور اسی طرح براہمداخ بگٹی کی بھارت موجودگی پر واویلا کرنے کے بجائے اسی موجودگی کے تصویری ثبوت حاصل کرنے کو ترجیح دی گئی تاکہ اس صورت حال کو انڈیا کے خلاف بھی استعمال کیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ انڈیا پاکستان کو گیدڑ بھبھکیاں تو دیتا ہے لیکن عملی کاروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ۔

(میں ذاتی طور پر اس رپورٹ کی کافی حد تک درستگی پراعتماد رکھتا ہوں کیونکہ میرے ماموں کو جب امن کے دور میں کوہلو جانے کا اور سردار مری کے VHF اور UHF ایکوپمنٹ درست کرنے کا موقع ملا تھا تو انہوں نے بھی کچھھ ایسی ہی خفیہ تسویر کشی کی تھی)

Last edited by حیدر; 02-09-09 at 11:10 AM..

 
حیدر's Avatar
حیدر
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,396
شکریہ: 52,538
11,182 مراسلہ میں 35,262 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 269
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
Dani (02-09-09), منتظمین (02-09-09), ام طلحہ (02-09-09)
پرانا 02-09-09, 11:23 AM   #2
Senior Member
 
ڈاکٹرنور's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,201
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھائی بدرالزمان بلوچ۔۔
آپ ایک محبت وطن پاکستانی کی سوچ رکھنے والے ہیں اور آ پ کی پوسٹس سے ۔۔۔ ہمیشہ
ایک سچے پاکستانی کی خوشبو آتی ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم لو گ ہمیشہ اپنوں سے زخم کھا تے آئے ہیں ۔۔۔
اب کے بار پھر ہما رے دشمنوں نے ۔۔۔ ہمارے اپنوں کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ خیرکرے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا یقین اور وجدان کہتا ہے۔۔۔ انشاءاللہ دشمن کو منہ کی کھا نی پڑے۔۔۔گی
ڈاکٹرنور آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا
Dani (02-09-09), ام طلحہ (02-09-09)
پرانا 02-09-09, 12:20 PM   #3
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,660
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

انشاللہ
اللہ آپکی زبان مبارک کرے۔
آمین
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-09-09, 12:30 PM   #4
Member
اجنبی
 
Dani's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مراسلات: 50
کمائي: 1,062
شکریہ: 105
42 مراسلہ میں 123 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

انشااللہ دشمن کو منہ کی کھانی پڑے گئ
Dani آف لائن ہے   Reply With Quote
Dani کا شکریہ ادا کیا گیا
ام طلحہ (02-09-09)
پرانا 03-09-09, 02:00 AM   #5
Senior Member
 
ابن جلال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,080
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

صرف غیروں‌کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہمارے حکمرانوں‌نے بھی ہمیشہ بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے ۔میڈیا نے بھی اس سلسلے میں‌منفی کردار ادا کیا ہے ۔تین روز قبل بلوچ نیشنل موومنٹ کے رہنماء رسول بخش مینگل کے قتل کے واقعہ پیش آیا اس پر پروگرام کئے گئے لیکن کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں درجنوں بے گناہ افراد کی ہلاکت کے خلاف نہ تو میڈیا نے آواز اٹھائی اور نہ ہی مغرب زدہ نام نہاد انسانی حقوق کے علمبرداروں بشمول عاصمہ جہانگیر ، نے . آواز اٹھانا دور کی بات انہوں‌نے تو ان واقعات کی مذمت کرنا تک گوارا نہیں‌کیا ۔ یا پھر ٹارگٹ کلنگ میں نشانہ بننے والے غریب حجام اور مزدور پیشہ افراد کو یہ لوگ بشر ہی نہیں‌سمجھتے

Last edited by ابن جلال; 03-09-09 at 02:02 AM.
ابن جلال آف لائن ہے   Reply With Quote
ابن جلال کا شکریہ ادا کیا گیا
ام طلحہ (03-09-09)
پرانا 03-09-09, 06:59 AM   #6
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,396
کمائي: 95,958
شکریہ: 52,538
11,182 مراسلہ میں 35,262 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

'۔۔۔۔۔۔۔مینوں کی پتہ!۔۔۔۔۔'
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 05-09-09, 02:00 AM   #7
Senior Member
 
ابن جلال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,080
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ابن جلال آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 05-09-09, 05:25 AM   #8
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,648
شکریہ: 9,805
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سر ورق کے لیے اپلائی کریں
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (05-09-09)
جواب

Tags
color, com, express, images, کوئٹہ, کلنگ, پوسٹ, پاکستانی, واقعات, لوگ, محبت, ایران, الزام, امریکہ, بھائی, خلاف, سردار, طالبان, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بلوچستان میں جاری بد امنی کی ایک چشم کشا رپورٹ حیدر بلوچی فورمز 11 20-01-11 11:56 PM
پورنستان کہنے والوں کے منہ میں خاک یاسر عمران مرزا میرا پاکستان 7 26-07-10 08:21 AM
پاکستان وعد پورا نہیں کر رہا:مکھرجی ابو عمار خبریں 0 21-12-08 08:56 AM
جمہوریت کے استحکام کیلئے پاکستان کی بھر پور مدد کر رہے ہیں،رچرڈ بائوچر کا پاکستانی ٹی وی کو انٹرویو ابن جلال خبریں 0 11-10-08 11:03 PM
پاکستانی معیشت دباؤ میں: رپورٹ محمدعدنان خبریں 0 01-06-08 12:34 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:52 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger