سیشن جج سبی جان محمد گوہر اور سول جج محمد علی دوست کے ولیمے میں شرکت کیلئے جارہے تھے، بازیابی کےلئے آپریشن میں 25 مشتبہ افراد گرفتار
سبی، ڈیرہ مراد جمالی، اوستہ محمد، ڈیرہ اللہ یار (نمائندگان جنگ) نامعلوم مسلح افراد نے سبی کے دو ججوں کو ضلع جعفرآباد میں اوستہ محمد اور ڈیرہ اللہ یار کے درمیانی علاقے سے گن مینوں سمیت اغوا کرلیا لیویز کو ان کی گاڑی اور موبائل فونز ڈیرہ مرادجمالی کے ویران علاقے سے مل گئے اغواء کی اطلاع ملنے پرمقامی انتظامیہ حرکت میں آگئی اور مغوی ججوں کی بازیابی کےلئے چھاپے مارنا شروع کردئیے ہیں وکلاء نے اپنے ساتھیوں اوران اغواء کے خلاف آج صوبہ گیر ہڑتال کا اعلان کردیا ہے جبکہ گورنر اور وزیراعلیٰ نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انتظامیہ کو 12 گھنٹے کے اندر بازیابی یقینی بنانے کی ہدایت کردی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سبی جان محمد گوہر اور سینئر سول جج سبی محمد علی کاکڑ ہفتہ اور اتوار کی شب اپنے دوست محمد اقبال بوہڑ کی شادی میں شرکت کے لئے گئے تھے کہ راستے میں اپنے محافظوں سمیت لاپتہ ہوگئے اطلاع ملنے پر لیویز اور پولیس نے ان کی تلاش شروع کردی لیویز کو ڈیرہ مراد جمالی صدر تھانہ کی حدود میں ان کی گاڑی اور موبائل فونز مل گئے ججوں کی گمشدگی کی خبر سبی‘ نصیرآباد اورجعفرآباد میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور مذکورہ علاقے کی انتظامیہ حرکت میں آگئی اورمختلف علاقوں میں چھاپوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے تاہم آخری اطلاعات آنے تک کسی کامیابی کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ ججز کی گمشدگی کے خلاف ڈسٹرکٹ بار سبی کے صدر میر جلیل لہڑی ایڈووکیٹ‘ جنرل سیکرٹری حسنین اقبال ایڈووکیٹ کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا انہوں نے کہا کہ وکلاء کے بعد ججوں کا اغواء قابل مذمت ہے انہوں نے مغوی ججوں اور وکیلوں کی بازیابی کا بھی مطالبہ کیا۔ دریں اثناء بار ایسوسی ایشن کے صدر جلیل لہڑی‘ حسنین اقبال ایڈووکیٹ سینئر وکلاء حاجی صادق گھمن حاجی میر اختیار خان مرغزانی اور دیگر نے اتوار کی شب پریس کانفرنس میں معزز ججوں اور وکلاء کی بازیابی کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا مطالبہ کیا۔ متحدہ محاذ سبی کے رہنماﺅں سردار رشید خان لونی‘ میر غلام رسول بلوچ فتح خان خجک اور احمد خان نے بھی ججز کے اغواء کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے حدود کا تعین نہ ہونے کی وجہ سے اب تک کسی تھانے میں مقدمہ درج نہیں کیا گیا واقعہ کے خلاف ڈیرہ مرادجمالی‘ اوستہ محمد‘ سبی‘ ڈھاڈر‘ ڈیرہ اللہ یار سمیت صوبے بھرمیں وکلاء کی جانب سے عدالتوں کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔ نصیرآباد جعفرآباد کی بارایسوسی ایشن کے صدور نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ ججز کے اغوا سے واضح ہوگیا صوبے میں امن وامان نام کی کوئی چیز نہیں اگر اغواء ہونے والے ججز کو فوری طورپر بازیاب نہیں کرایا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کردیں گے۔ ججز کی بازیابی کے لئے پولیس نے بڑے پیمانے پر جعفرآباد اور نصیرآباد کے علاقوں میں کمشنر نصیرآباد حیدر علی شکوہ کی نگرانی میں آپریشن شروع کردیا ہے جس میں ڈپٹی کمشنر جعفرآباد ایوب جعفر‘ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد فتح خجک ڈی پی او جعفرآباد جاوید غرشین ڈی پی او نصیرآباد سعداللہ کھیتران سمیت پولیس اور اے ٹی ایف کے خصوصی دستے بکتر بند گاڑیوں کے ہمراہ حصہ لے رہے ہیں اطلاعات کے مطابق آپریشن کے دوران 25 مشتبہ افراد کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ آپریشن میں ان مقامات پر بھی چھاپے مارے جارہے ہیں جو جعفرآباد نصیرآباد میں پتھاریداری کرکے خطرناک جرائم پیشہ افراد کو پناہ دینے کے لئے مشہور ہیں۔ ذرائع کے مطابق آپریشن میں حصہ لینے کےلئے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید فورسز کے دستے بھی طلب کئے جاسکتے ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر عاصمہ جہانگیر نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سبی جان محمد گوہر اور سول جج سبی محمد علی بازئی کے اغواء کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔ جنگ سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ ایف سی سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اغواء‘ قتل ڈکیتی رہزنی کی وارداتیں ان اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں صوبے میں کہیں حکومتی رٹ نظر نہیں آتی ان وارداتوں میں ملوث افراد اتنے دیدہ دلیر ہوگئے ہیں کہ اب ججوں کو بھی اغواءکرکے لے جاتے ہیں اس سے قبل بلوچستان سے وکلاءکے اغواءکا سلسلہ شروع ہوا گزشتہ دنوں دووارداتوں میں تین معروف وکلاءکواغواءکرلیاگیا جن کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں کوئی ان واقعات کی ذمہ داری قبول نہیں کررہا صوبے کے وکلاءکئی روز سے سراپااحتجاج ہیں دوسری جانب ٹارگٹ کلنگ‘ مسخ شدہ لاشوں کا ملنا اور اغواءبرائے تاوان جیسے واقعات تسلسل کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں کوئی لسانی گروپ ملوث نہیں بلکہ جان بوجھ کر حالات خراب کئے جارہے ہیں انہوں نے کہاکہ اپنے عوام کاتحفظ اسی حکومت اور اداروں نے کرنا ہے کوئی باہر سے نہیں آئیگا جب یہ دعویٰ کیا جاتاہے کہ ہمارے خفیہ اداروں کا شمار دنیا کے بہتر ین اداروں میں ہوتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ اپنے ہی ملک کے ایک حصے میں صورتحال اس قدر تشویشناک ہے لیکن یہ ادارے ان واقعات میں ملوث افرا دکاکھوج لگانے میں ناکام ہیں انہوں نے کہاکہ باربار یہ کہہ دینا کہ بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں بیرونی قوتیں ملوث ہیں بلی کے سامنے کبوتر کے آنکھ بند کرنے کے مترادف ہے آج صوبے کے حالات تشویشناک ہیں لوگ اس قدر خوفزدہ ہیں کہ اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے خود کام کاج کےلئے نکلنے سے پہلے کئی بار سوچتے ہیں انہوںنے مطالبہ کیاکہ وفاقی وزیر داخلہ امن وامان سے متعلق بلوچستان میں موجود وفاقی اداروں سے باز پرس کریں کہ ان کی موجودگی میں ایسے واقعات کیوں رونما ہورہے ہیں انہوںنے دونوں مغوی ججوں اور دیگر وکلاءکی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر فوری اقدامات نہ اٹھائے گئے توعوام کااعتماد ہرگز بحال نہ ہوگا انہوںنے کہاکہ پاکستان بھر کی وکلاءبرادری کو بلوچستان کے حالات پرتشویش ہے دریں اچناءگورنر ذوالفقارعلی مگسی اور وزیراعلیٰ نواب محمد اسلم رئیسانی نے ججز کی بازیابی کےلئے جعفرآباد انتظامیہ کو 12 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے ۔بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر باز محمد کاکڑ ایڈووکیٹ نے دو ججوں اور دیگر وکلاءکے اغواءکیخلاف آج کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان سمیت پورے ملک میں لاقانونیت کی انتہا ہو چکی ہے ججوں کا اغواءعدلیہ پر حملے کے مترادف اور قبائل کو باہم دست وگریبان کرنے کی کوشش ہے وہ اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے اس موقع پر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدرہادی شکیل احمد ایڈووکیٹ‘ راشد گولڑہ ایڈووکیٹ سمیت دیگر بھی موجود تھے باز محمد کاکڑ ایڈووکیٹ نے کہاکہ عوام کو جرائم پیشہ عناصر کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا ہم صوبے میں قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں موجودہ حالات میں عوام سول سوسائٹی ودیگر کو نکلنا ہوگا اگر مغوی ججوں اوروکلاءکو بازیاب نہ کیاگیاتو شدید ردعمل ظاہر کرینگے انہوں نے قبائل اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مشتعل نہ ہوں اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج ضرور کریں انہوںنے کہاکہ بلوچستان میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رٹ ختم ہوچکی ہے ججوں کا اغواءصوبے کی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے پہلے عام شہریوں اور تاجروں کو اغواءکیاجاتاتھا پھر وکلاءکو اغواءکرنے کا سلسلہ شروع ہوا جن کی بازیابی کےلئے ہم سراپا احتجاج تھے گزشتہ روز ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جان محمد گوہر اور سینئر سول جج محمد علی اوستہ سے محمد سے سبی آتے ہوئے لاپتہ ہوگئے ہیں آمریت کے خاتمے پر عوام نے بڑی خوشی سے عوامی نمائندوں کو منتخب کیاتھا کہ ان کے مسائل حل ہوں گے مگر ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اغواءکی وارداتوں میں بعض منتخب عوامی نمائندے بھی ملوث ہیں جو عوام کو ایسی وارداتوں سے یہ پیغام دے رہے ہیں کہ وہ اپنی حفاظت خود کریں ملک میں لاقانونیت کی انتہا ہوچکی ہے عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہیں اورمراعات چلنے والے ادارے عوام کو تحفظ فراہم نہیں کررہے عوام بے یارومددگار اوراپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں اس موقع پر انہوںنے ججوں اور وکلاءکے اغواءکیخلاف آج کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں عدالتوں کے مکمل بائیکاٹ کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ ہڑتال کے دوران اجلاس منعقد اوراحتجاجی جلوس نکالے جائیں گے ۔وزیراعلیٰ بلوچستان نواب محمداسلم خان رئیسانی نے نصیرآباد سے ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج اورسول جج کے اغوا¿ کے واقعہ کاسختی سے نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری داخلہ آئی جی پولیس اورکمشنرنصیرآباد ڈویژن سے واقعہ کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے اورانہیں مغویوں کی باحفاظت بازیابی کےلئے فوری طورپرم¶ثرکاروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعلیٰ نے اغوا¿ کے اس واقعہ پرگہری تشویش کااظہارکرتے ہوئے متعلقہ حکام کوپولیس لیویز اورقانون نافذ کرنے والے دیگراداروں پرمشتمل مشترکہ ٹیمیں تشکیل دیکرمغویوں کی بازیابی اوراغوا¿ کاروں کے خلاف نتیجہ خیز کاروائی کرنے اورانہیں کاروائی کے حوالے سے مکمل آگاہی فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔وزیراعلیٰ نے کوئٹہ ڈیرہ اللہ یار قومی شاہراہ پرقانون نافذ کرنے والے اداروں کے گشت میں اضافے اورمزید چوکیاں قائم کرکے مسافروں اورعام عوام کے جان ومال کے تحفظ کویقینی بنانے بالخصوص اغوا کی وارداتوں کے تدارک کےلئے جامع اورٹھوس بنیادوں پر اقدامات کرنے کاحکم دیاہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی